اسلام آباد میں ایران-امریکہ مذاکرات ناکام،عارضی جنگ بندی خطرے میں
تحریر: اللہ نواز خان
allahnawazk012@gmail.com
ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے سلسلے میں پاکستان میں مذاکرات ناکامی کا شکار ہو گئے۔یہ توقع بھی تھی کہ مذاکرات ناکام ہوں گے،کیونکہ امریکی شرائط بہت ہی سخت تھیں۔سب سے بنیادی مسئلہ یہ تھا کہ ایران جوہری توانائی سے دستبردار ہو جائے۔جوہری توانائی سے دستبرداری کا مطالبہ کوئی نیا نہیں بلکہ بہت ہی پرانا ہے۔دیگر مطالبات بھی سخت تھے لیکن شاید’جوہری توانائی سے دستبرداری’جیسےمطالبے سے زیادہ سخت نہیں تھے۔بہرحال مذاکرات ناکامی سے دوچار ہو گئے۔مذاکرات ناکام ہونے کے باوجود بھی امید باقی ہے کہ بہتری کی طرف بڑھا جا سکتا ہے۔امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل نے دعوی کیا ہے کہ ایران کے ساتھ سفارت کاری کے دروازے کھلے ہیں،کچھ دنوں کے اندر مذاکرات کا دوسرا دور ہو سکتا ہے۔وال اسٹریٹ جنرل کے مطابق، علاقائی ممالک امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے لیے کوشاں ہیں۔دونوں جانب سخت بیانات جاری کیے جا رہے ہیں،لیکن اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ مذاکرات کادوسرا دور جلد ہی شروع ہو جائے۔حالیہ مذاکرات کی ناکامی کا الزام امریکہ اور ایران ایک دوسرے پر لگا رہے ہیں۔جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران نےامریکہ کی شرائط قبول نہیں کی۔ایران کی طرف سے وضاحت کی گئی کہ امریکہ نے غیر قانونی مطالبات کیے۔امریکی صدر نے عارضی جنگ بندی سے قبل دھمکی دی تھی کہ ایرانی تہذیب کو تباہ کر دیا جائے گا۔بعد میں عارضی جنگ بندی ہوئی لیکن کشیدگی میں کمی نہ ہوئی۔جوہری توانائی کے علاوہ آبنائے ہرمز کا مسئلہ بھی بہت بڑھا ہوا ہے۔آبنائےہرمز کی اہمیت بھی بہت زیادہ ہے،اس آبی گزرگاہ سے دنیا کے تقریبا 20 فیصد تیل کی تجارت ہوتی ہے۔ایران نےآبنائےہرمز کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔جب آبنائے ہرمز کو بند کر دیا گیا تو عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں فورا بڑھ گئیں۔عالمی معیشت دباؤ کا شکار ہو گئی اور شاید اسی وجہ سے تقریبا تمام ممالک نے ایران کے خلاف جنگ یا کسی دوسری منفی سرگرمی میں شامل ہونےسے انکار کر دیا۔اب بھی ایران آبنائے ہرمز کو بطور ہتھیار استعمال کرے گا،لیکن امریکہ آبنائےہرمز کو ہر حال میں کھولنے کی کوشش کرے گا جس سے جنگ شروع ہو سکتی ہے۔امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کو کھولنے اور ناکہ بندی کا اعلان بھی کر دیا ہے۔امریکی صدر نے کہا کہ جو ہمارے جہازوں پر فائرنگ کرے گاہم اسے تباہ کر دیں گے۔ہم آبنائے ہرمز پر بارودی سرنگوں کو بھی تباہ کرنا شروع کر دیں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ نےنیوی کو یہ بھی کہا کہ ایران کو ٹول دینے والے جہازوں کو تلاش کریں،ایران کو ٹول دینے والے جہازوں کو محفوظ راستہ نہیں ملے۔آبنائے ہرمز کی اہمیت کے باوجود بھی جوہری توانائی کا مسئلہ سرفہرست ہے۔
عارضی جنگ بندی کی تاریخ 22 اپریل تک مقرر کی گئی ہے۔اگر مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے تو ہو سکتا ہے کچھ دنوں کے لیے تاریخ مزید موخرکر دی جائے۔یہ امکان بھی رد نہیں کیاجاسکتا کہ ایران پر محدودحملے شروع کر دیے جائیں۔حملے محدود ہوں یا غیر محدود،ایران بھی جواب دیتا رہے گا۔اب بھی حملوں کا جواب دیا جا رہا تھا۔مذاکرات کی میزپر ایرانی فریق اس حیثیت سے موجود تھا کہ وہ ایک مضبوط فریق ہے،جبکہ امریکی فریق کو اپنی طاقت کا گھمنڈ تھا اور اسی حیثیت سے موجود تھا۔ان مذاکرات سے اگر جوہری توانائی کا مسئلہ حل ہو جاتا تو دیگر مسائل حل ہو سکتےتھے۔ایران کے مطالبات بھی درست تھے،صرف ایران کےلیےنہیں بلکہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی فائدہ مند تھے۔ایران ائندہ جنگ نہ ہونے کی یقین دہانی حاصل کرنے کے علاوہ لبنان میں بھی امن چاہتا ہے۔علاوہ ازیں جنگ کے دوران ایران کا بہت زیادہ نقصان ہوا،اس لیے ایران کی طرف سے ہرجانے کا مطالبہ بھی ہوا۔بہرحال جتنے بھی مذاکرات کے نکات تھے،وہ اب بھی حل ہو سکتے ہیں۔اگر مذاکرات دوبارہ شروع ہو جاتے ہیں تو امکان بڑھ جائے گا کہ جنگ بندی مستقل بنیادوں پر ہو سکتی ہے۔جنگ بندی کے علاوہ اقتصادی اور سفارتی پابندیاں بھی ایران کے لیے بہت زیادہ خطرناک ثابت ہو رہی ہیں۔پابندیوں نے ایران کی معاشی اور دفاعی حالت بہت ہی کمزور کر دی ہے۔ایران کے تیل اور گیس پر پابندیاں اگر ہٹا دی جاتی ہیں تو ایران بہت ہی جلد مضبوط ہو جائے گا۔اس لیےشاید پابندیاں ہٹانے سے اجتناب کیا جا رہا ہےکہ پابندیوں کا شکار ایران اگر اتنا مقابلہ کر سکتا ہے تو مضبوط ایران کتنا نقصان دہ ہوگا؟
مذاکرات ناکام ہوئے ہیں تو یہ امکان بھی بڑھ گیا ہے کہ فوری طور پر جنگ نہ شروع ہو جائے۔یہ جنگ صرف ایران کو نقصان نہیں پہنچائے گی بلکہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی سخت نقصان دہ ثابت ہوگی۔فوجی کشیدگی بھی بہت زیادہ بڑھ جائے گی۔صرف فوجی کشیدگی نہیں بڑھے گی بلکہ معیشت کو بھی سخت نقصان پہنچے گا۔ایران پر مزید سخت پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔پابندیوں سے ایرانی عوام خوراک کے علاوہ دیگر بے شمار مسائل کا شکار ہو جائے گی۔ایران اور امریکہ کے درمیان اگر جنگ بند ہو جاتی ہے تو مشرق وسطی میں امن کی امید کی جا سکتی ہے۔امریکہ کے علاوہ اسرائیل کو بھی روکنا ہوگا کہ وہ مزید انتشار نہ پھیلائے۔ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بھی اسرائیل کی وجہ سے ہوئی ہے۔اسرائیل غزہ کے علاوہ دیگر ممالک کو بھی نشانہ بنا رہا ہے،جس سے خطے میں بہت ہی بد امنی پھیل چکی ہے۔علاقائی ممالک مزید کوشش کریں تاکہ یہ جنگ رک جائے۔جنگ اگر جاری رہتی ہے تو دیگر ممالک اس جنگ کا حصہ بن سکتے ہیں،یوں یہ جنگ تیسری عالمی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔بہرحال بدترین حالات میں بھی امید قائم رکھنی چاہیے کہ حالات بہتر ہو جائیں گے۔
ریحان گل خٹک کی زیر صدارت جیلوں کی سیکیورٹی سے متعلق اہم زوم اجلاس منعقد۔
پولیو کا خاتمہ قومی فریضہ ہے۔شہاب علی شاہ
پشاور، ایف آئی اے پشاور زون کی مینگورہ بازار میں کارروائی۔
افسانہ عنوان. کہ سجنی خوب صورت ہے تحریر. ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
نوابشاہ(رپورٹ۔انور عادل خانزادہ)منشیات اور گٹکا فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن، متعدد ملزمان