30

تقدیر کسی کو بھی بُرے دن نہ دکھائے، عینی شاہدین کے مطابق افضال احمد کو جب جنرل ہسپتال منتقل

تقدیر کسی کو بھی بُرے دن نہ دکھائے، عینی شاہدین کے مطابق افضال احمد کو جب جنرل ہسپتال منتقل کیاگیا تو اُنہیں آخری سانسیس لینے کے لیے ایک بیڈ تک نہ ملا،کروڑوں روپوں کے مالک کو پھردوسرے مریض کیساتھ لِٹایا گیا،یہ انتہائی تکلیف دہ مرحلہ تھا، سید افضال احمد(تھاوہ) جھنگ کے ایک زمیندار گھرانے میں پیدا ہُوئے تھے،پر کشش ،اونچے لمبے قد اور گورے ،چٹے رنگ والے افضال احمد کو روپے پیسے کی کمی نہ تھی، انڈسٹری میں وہ “افضال چٹا” کے نام سے مشہور تھے،1968 کو اپنا فنی سفر شروع کیا،فنی حوالے سے بڑے پروفیشنل اور منجھے ہوئے اداکار تھے،فیروز پورہ روڈ پراپنی خاندانی زمین میں”تماثیل تھیٹر” اُنکے اعلی ذوق کا آئینہ دار تھا جو بعد میں ایک مقبول تھیٹر ہال بن گیا،افضال احمد نے بے شمار ڈراموں اور فلموں میں کام کیا تھا مگر انکا آخری وقت انتہائی کرب ناک رہا،کئی سال وہیل چئیر پر اکیلے گزرے،بوڑھی ماں کے سوا کوئی دیکھ بھال کرنیوالا نہ تھا،بیوی،بچے دوست ،احباب سب چھوڑ چھاڑ گئے بالآخر با رعب،گرجدار آواز کے مالک افضال احمد جنرل ہسپتال میں برین ہیمرج کے باعث 2دسمبر 2022 کو انتقال کر گئے اور جنازے میں بیوی ،بچے بھی شریک نہ ہو پائے تھے ، اللہ کریم انکی لغزشوں سے درگزر فرماتے ہوئے اُنہیں اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطاء فرمائیں ۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں