تھانہ صدر ہارون آباد کی تفتیش ایک بار پھر سوالیہ نشان بن گئی۔
ذرائع کے مطابق تفتیشی افسر غازی آصف پر چوروں کی پشت پناہی کے الزامات سامنے آ گئے ہیں۔
متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ عبدالرشید نامی شخص سے مبینہ طور پر پانی کا پمپ برآمد ہونے کے باوجود اسے مبینہ طور پر رقم لے کر چھوڑ دیا گیا۔الزام یہ بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ ناقص تفتیش اور کمزور قانونی کارروائی کے باعث ملزم کو عدالت سے ریلیف مل گیا اور وہ ڈسچارج ہو گیا۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر تفتیشی نظام میں شفافیت نہ لائی گئی تو چوروں اور جرائم پیشہ عناصر کی حوصلہ افزائی ہوگی جبکہ عوام کا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔
اہلِ علاقہ نے اعلیٰ پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے شفاف انکوائری کرائی جائے اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ داران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔
“عوام انصاف اور شفاف تفتیش کے منتظر، کیا ذمہ داروں کے خلاف ہوگا ایکشن؟”