*ایک ماں لکھتی ہیں!* وہ بھی کیا دن تھے جب میرا گھر ہنسی مذاق اور لڑائی جھگڑے کی آوازوں سے گونجتا تھا۔ہر طرف بکھری ہوئی چیزیں ۔ ۔ ۔ بستر پر پینسلوں اور کتابوں کا ڈھیر ۔ ۔ ۔ پورے کمرے میں پھیلے ہوئے کپڑے۔ میرا پورا دن ان کو کمرہ صاف کرنے اور چیزیں سلیقے سے رکھنے کے لیے ڈانٹنے میں گزرتا۔ صبح کے وقت ایک جاگتے ہی کہتا:

پاکستان انجینئرنگ کونسل کے سابقہ چیرمینوں نے اربوں کی دہاڑیاں لگائیں ۔انجینرنگ کونسل میں اقتدار سے جڑے رہنے کیلئے میرٹ سے ہٹ کر اپنے بندے سیٹ کیے پاکستان انجنئیرنگ کونسل میں سالانہ 10 ارب روپے مختلف مد میں اکھٹے ہوتے ہیں ۔انجینرنگ کونسل کے ھی انجینئر نے پوش باختہ اربوں کے فراڈ کا انکشاف کا دیا۔