87

محکمہ صنعت و حرفت میں جعلی چالان کی انکوائری رپورٹ کی تفصیلات طلب۔

محکمہ صنعت و حرفت میں جعلی چالان کی انکوائری رپورٹ کی تفصیلات طلب۔

اسسٹنٹ ڈائریکٹر پر کرک اور کوھاٹ میں جُرمانوں میں جعلی چالان کے استعمال پر انکوائری رپورٹ کی تفصیلات کی عدم فراہمی پر RTIمیں شکایت درج۔

پشاور(فیاض علی نور) محکمہ صنعت وحرفت خیبر پختون خوا بھی جاری بدعنوانیوں کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے میں کسی سے پیچھے نہیں رہی۔ صوبائی محکمے سے معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت مُبینہ طور پر ایک انکوائری کی رپورٹ کی تفصیلات مانگی گئی۔ لیکن نوے دن گزرجانے کے بعد بھی مطلوبہ معلومات شہری کو فراہم نہیں کی گئی۔ جس پر خیبر پختون خوا انفارمیشن کمیشن کو محکمہ صنعت و حرفت سے معلومات کی فراہمی کے لیے آن لائن شکایت جمع کر دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق شہری نے محکمہ صنعت و حرفت خیبر پختون خوا کے پبلک انفارمیشن آفیسر آصف زمان ایڈمنسٹریشن آفیسر سے معلومات تک رسائی کے تحت محکمہ ریونیو سے ڈیپوٹیشن پر محکمہ صنعت و حرفت میں تعینات خالد عظمت نامی اسسٹنٹ ڈائریکٹر کنزیومر کے خلاف ایک انکوائری کی تفصیلات مانگی تھی۔ جس میں مذکورہ اہلکار پر پہلے ضلع کوھاٹ میں اور بعد ازاں ضلع کرک میں تعیناتی کے دوران صارفین کے تحفظ کے قانون کی آڑ میں شہریوں کو جُرمانے کی مد میں بوگس اور جعلی چالان استعمال کرنے کا الزام تھا اور اس کے خلاف ادارے میں محکمانہ انکوائری کی گئی تھی۔ لیکن اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی انکوائری رپورٹ پر پیش رفت کی بلکہ انکوائری کیس کو دبایا گیا تھا۔ جس کی تفصیلات کے حصول کے لیے شہری نے معلومات تک رسائی کے تحت درخواست جمع کی تھی۔ لیکن مذکورہ انکوائری کی تفصیلات کو مقررہ وقت سے دس گنا ذیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد بھی شہری کو معلومات فرہم نہیں کی گئی۔ جس پر شہری نے خیبر پختون خوا انفارمیشن کمیشن میں بزریعہ آن لائن شکایت درج کی۔ واضح رہے کہ مذکورہ اہلکار سمیت انکوائری آفیسر سے بھی اس سلسلے میں موقف لینے کی کوشش کی گئی لیکن موقف اور معلومات دینے میں تاخیری حربے استعمال کرتے ہوئے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ جبکہ دوسری جانب مذکوراہلکار اپنی ڈیپوٹیشن کو ختم کرنے اور واپسی محکمہ ریونیو میں جانے کی دگ ودو میں مصروف ہیں تاکہ انکوائری ادھوری اور سرد خانے کی نظر ہوجائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں