80

*پاکستان کے کل قرضے کا سب سے بڑا حصہ، چین سے لیا گیا ہے*

*پاکستان کے کل قرضے کا سب سے بڑا حصہ، چین سے لیا گیا ہے*

اس قرضے کا بڑا حصہ، سی پیک المعروف “گیم چینجر” کے نام پر لیا گیا تھا جس میں پرائیویٹ بجلی گھر نمایاں ہیں

اب پتا کیجیے کہ سی پیک کے زیادہ تر معاہدے کس نے کیے؟

جو سی پیک کا کریڈٹ لیتا ہے، کیا وہ قرضوں اور ان کے سود کی ذمہ داری بھی لیتا ہے؟

اور پتا کریں وہ کون ہے جس نے سی پیک کے معاہدوں کو ری وزٹ کرنا چاہا تو اس پر الزام لگایا گیا کہ یہ سی پیک رول بیک کررہا ہے

اس سی پیک “رول بیک کرنے والے بندے” نے ہی، آئی پی پیز سے کیے گئے معاہدے میں ادائیگیوں کو revise کرکے انھیں فکس ڈالر ریٹ یعنی 148 پر فریز کیا تھا

ورنہ،

آج پاکستان موجودہ ڈالر ریٹ یعنی قریباً 278 کے ریٹس پر ادائیگیاں کررہا ہوتا

اب پتا کرو کہ،

1- سی پیک المعروف گیم چینجر کے معاہدے کس نے کیے؟ تمھارا معاشی گیم کس قدر “چینج” ہوا؟ بجلی کے ریٹس کیسے لگ رہے ہیں؟

2- سی پیک کو “رول بیک” کرنے کا الزام کس پر لگا تھا؟ کون ان معاہدوں کو ری وزٹ کرنا چاہ رہا تھا؟ کس نے ادائیگیوں کے ریٹ کو 148 پر فکس کرکے تمھیں 278 کے ریٹ سے بچایا تھا؟

*عوام پاکستان کا گناہ گار کون ہے,؟ خود سوچیں*

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں