October 6, 2026

‏صنم جاوید سے گزشتہ چودہ ماہ سے جو سلوک روا رکھا گیا، کیا اس دوران آپ نے کسی پولیس افسر، کسی مجسٹریٹ، کسی جیل کے حکام، کسی جرنیل، کسی جج کے منہ سے یہ سنا کہ اب بس کردو، یہ ظلم ختم کرو، ہم مزید تمہارا ساتھ نہیں دے سکتے۔

20240713_204052

‏صنم جاوید سے گزشتہ چودہ ماہ سے جو سلوک روا رکھا گیا، کیا اس دوران آپ نے کسی پولیس افسر، کسی مجسٹریٹ، کسی جیل کے حکام، کسی جرنیل، کسی جج کے منہ سے یہ سنا کہ اب بس کردو، یہ ظلم ختم کرو، ہم مزید تمہارا ساتھ نہیں دے سکتے۔
کیا تمام سرکاری اور ملٹری مشینری مکمل بیغیرت، کھسی ہوچکی ہے کہ کسی ایک کے دل میں بھی اس ظلم کے خلاف کوئی ہمدردی، کوئی آواز اٹھانے کی ہمت پیدا نہ ہوسکی؟
ایک ادارہ کھلے عام بدمعاشی کررہا ہے، جسے چاہتا ہے اٹھا لیتا ہے، جسے چاہتا ہے تشدد کروا دیتا ہے، پولیس، انتظامیہ، عدلیہ، صحافی، حکومت، سب کے سب بیغیرت بن کر بیٹھے رہتے ہیں اور کوئی احتجاج نہیں کرتے۔
پاکستان سے زیادہ محفوظ تو شاید جنگل بھی ہوگا جہاں درندے حکمرانی کرتے ہیں۔
ہمارا معاشرہ بے حسی کی آخری حدوں تک پہنچ چکا ہے۔ ایسے معاشرے ہمیشہ تباہی کا شکار ہی ہوا کرتے ہیں۔