October 29, 2026

پی ٹی آئی ارکانِ اسمبلی اور مخصوص نشستوں سے متعلق اہم تحریر!

20240919_181431

‏پی ٹی آئی ارکانِ اسمبلی اور مخصوص نشستوں سے متعلق اہم تحریر!
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں بنچ نے عام انتخابات سے محض 25 دن قبل پی ٹی آئی سے انتخابی نشان واپس لینے کا فیصلہ دیا اور الیکشن کمیشن نے اُس فیصلے کی بنیاد پر پی ٹی آئی کو سیاسی جماعت ماننے سے انکار کر دیا. مخصوص نشستوں کا معاملہ دوبارہ سپریم کورٹ کے سامنے آیا تو چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی سمیت 11 ججوں نے الیکشن کمیشن کی تشریح کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کا انتخابی نشان واپس لینے کے باوجود پی ٹی آئی بطور سیاسی جماعت موجود تھی اور انتخابات میں بطور جماعت حصہ لے سکتی تھی، اکثریتی فیصلے میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کو پی ٹی آئی کے ممبرانِ قومی اسمبلی قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو متعلقہ کارروائی مکمل کرنے کا حکم دیا لیکن حکومتی جماعتیں اور حقیقی مقتدرہ کو یہ بات ہضم نہ ہوئی اور الیکشن ایکٹ میں ترمیم کر کے آزاد امیدواروں کو دوبارہ پارٹی سرٹیفیکیٹ جمع کی شق ہی ختم کر دی اور ترمیم کا اطلاق Retrospective یعنی 2017 جب سے الیکشن ایکٹ بنا تب سے کر دیا اور اب بضد ہیں کہ سپریم کورٹ کا اکثریتی فیصلہ نہ مانا جائے. یعنی الیکشن کمیشن نے جو غلطی کی یا دانستہ طور پر ملی بھگت سے ایک سیاسی جماعت کو انتحابی عمل سے باہر کیا گیا اور جس سپریم کورٹ کے فیصلے کو بنیاد بنا کر یہ کیا گیا وہ خود کہہ رہی ہے کہ ہمارے فیصلے کی غلط تشریح کی گئی تو اُس کی سزا بھی اسی سیاسی جماعت کو ہی کیسے دی جا سکتی ہے اور یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ترمیم کر کے اسے آٹھ سال پہلے سے نافذ العمل کر دیا جائے. یہ بظاہر بدنیتی پر مبنی کی گئی ترمیم سپریم کورٹ کے فیصلے کو غیرموثر نہیں کر سکتی اور الیکشن کمیشن کا ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنا ایک المیہ ہو گا