گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت گورنر ہاؤس پشاور میں اعلی سطحی اجلاس منعقد ہوا۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت گورنر ہاؤس پشاور میں اعلی سطحی اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں مشیر تعلیم خیبرپختونخوا سید عامر عبداللہ، سیکرٹری اعلی تعلیم عابد اللہ، اور دیگر اعلی افسران نے شرکت کی۔
پشاور(نمائندہ خصوصی)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیرِ صدارت گورنر ہاؤس پشاور میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں اعلیٰ تعلیم میں اصلاحات، طلبہ کے لیے وظائف کے مواقع، جامعات کی مالی معاونت اور ادارہ جاتی کارکردگی سے متعلق امور پر غور کیا گیا۔اجلاس میں مشیرِ تعلیم سید عامر عبداللہ، سیکرٹری اعلیٰ تعلیم عابد اللہ، گورنر کے پرنسپل سیکرٹری ، ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر اور یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ای ٹی) ٹیکسلا کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد عنایت اللہ خان نے شرکت کی۔چیئرمین ایچ ای سی نے گورنر کو خیبر پختونخوا کے طلبہ کے لیے وظائف اور مالی معاونت کے مواقع سے آگاہ کیا۔ اجلاس میں مالی معاونت کے ذریعے اعلیٰ تعلیم تک رسائی بڑھانے اور صوبے بھر میں تعلیمی مواقع کو مستحکم کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ جامعات کی تعلیمی اور ادارہ جاتی ترقی کے لیے مالی وسائل کے ذرائع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں ڈیرہ اسماعیل خان میں دو یونیورسٹی کیمپسز کے قیام کی تجاویز کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایک کیمپس یو ای ٹی پشاور اور دوسرا ویمن یونیورسٹی پشاور کا ہوگا، تاکہ خطے میں اعلیٰ تعلیم تک رسائی کو وسعت دی جا سکے۔چیئرمین ایچ ای سی نے گورنر کو یہ بھی آگاہ کیا کہ خیبر پختونخوا کے طلبہ اور اسکالرز کے لیے غیر ملکی وظائف کے امکانات بھی تلاش کیے جائیں گے اور دنیا کی بہترین جامعات کے ساتھ تعاون کے ذریعے وسیع مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
چیئرمین ایچ ای سی نے مجوزہ کیمپسز کے قیام اور صوبے میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات کے فروغ کے لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔اجلاس میں وائس چانسلرز کی کارکردگی کے جائزے کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا، جس میں مؤثر کلیدی کارکردگی اشاریوں (کے پی آئیز) کی تشکیل اور ان کے حصول کا جائزہ لینے کے طریقۂ کار پر غور کیا گیا۔ گفتگو میں ادارہ جاتی احتساب کو مضبوط بنانے، انتظامی امور میں بہتری لانے اور تعلیمی معیار و جامعات کی کارکردگی میں قابلِ پیمائش پیش رفت کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔