اسلام امن و سلامتی کا مذہب ہے؟ جب بھی مسلمانوں کی طرف سے خونریزی کے واقعات ہوں یا کسی نوعیت کے مذہبی فسادات ہوں یا کارٹون وغیرہ سے متعلق احتجاجی مظاہرے یا جلوس ہوں اور اس میں مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمان ہی جب مارے جارہے ہوں یا کسی
👆اسلام امن و سلامتی کا مذہب ہے؟
جب بھی مسلمانوں کی طرف سے خونریزی کے واقعات ہوں یا کسی نوعیت کے مذہبی فسادات ہوں یا کارٹون وغیرہ سے متعلق احتجاجی مظاہرے یا جلوس ہوں اور اس میں مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمان ہی جب مارے جارہے ہوں یا کسی غیر مسلم پر بلاسفیمی کے الزام پر ہجوم کا حملہ ہو اور غیر مسلم کو جلادیا جائے تو ہم ہٹ دھرمی کا اظہار کرتے ہوئے کہہ دیتے ہیں کہ اسلام تو امن و سلامتی کا دین ہے
مگر آج تک کبھی مسلمانوں نے ایسا ثابت نہیں کیا کہ اسلام امن و سلامتی کا مذہب ہے۔ اسکی بجائے ہم نے قرون وسطیٰ کی جہالت کا اظہار کرتے ہوئے قتل اور بہیمانہ تشدد کا کھل کر اظہار کیا، خود کو چنگیز خان، ہلاکو خان اور تیمور لنگ سے بھی بھیانک و خونخوار ظاہر کرکے فخریہ طور پر قرآن کے قول کو صریحاً غلط ثابت کرنے کی کوشش کی کہ “دین میں جبر نہیں” یا سورہ الناس کی اس آیت کو بار بار جھٹلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ “لیکن دینکم ولیدین”
توہین رسالت کے مقدمے میں نامزد عمرکوٹ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر شاہنواز کمبر کو سی آئی پولیس اور سندھڑی پولیس نے مبینہ پولیس مقابلے میں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ اسے کراچی میں قتل کیا گیا جہاں وہ چھپا ہواتھا پولیس افسر کو ہار پھول پہنائے گئے، مٹھائیاں تقسیم کی گئیں اور اسلام ژندہ باد، نعرہ تک ہر کے نعرے لگائے گئے
یاد رہے کہ 17 ستمبر منگل کے روز شاہنواز کمبر کی فیس بک آئی ڈی سے متعدد قسم کی دین کی رو کے منافی پوسٹیں ہوئی تھیں جس کے بعد عمرکوٹ شہر میں مظاہرہ ہوا تھا اور مشتعل عوام نے پولیس پر حملہ کرنے کے بعد پولیس موبائل کو آگ بھی لگا دی تھی تاہم پولیس کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر حالات کو کنٹرول کیا۔ اس کے بعد شاہنواز کمبہر پر ایف آئی آر کاٹنے کے بعد پولیس نے مسلسل تلاش شروع کر دی۔ 18 ستمبر بروز بدھ کنری و ضلع عمرکوٹ میں پرتشدد ہڑتال کی گئی۔ ملزم ڈاکٹر کراچی میں روپوش ہوگیا جہاں سے پولیس نے گرفتار کیا اور پھر پولیس مقابلے میں ہلاک کرکے ہیرو بن گئے۔ سارے حالات میڈیا پر ہائیلائیٹ ہونے کے بعد نفسیات کے ماہر ڈاکٹر عبدالحلیم نے سوشل میڈیا پر بتلایا کہ شاہنواز کمبہار ذہنی مریض ہے اور اسی وجہ سے اس کے رویے میں بدلاو ہے۔ اس کے بعد شاہنواز کمبہار کی میڈیکل رپورٹس بھی منظر عام پر آئیں جس کے مطابق شاہنواز کمبہار مارچ 2020 میں نفسیات کے مشہور اسپتال انسٹیٹیوٹ آف بیہیوئیرل سائنس ڈاکٹر اے کیو خان سینٹر ڈاو یونیورسٹی آف ہیلتھ میں ایڈمٹ رہا اور اسکا باقاعدہ سے علاج بھی چلتا رہا۔
مگر یہ واقعات میں نے عیسائی مذہب والوں میں نہیں دیکھے کہ وہ بلاسفیمی کے نام پر اپنے ہی لوگوں کو قتل کررہے ہوں۔ عیسائی مذہب کے ماننے والے انسانیت دوست ہوتے ہیں یہ تو انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں اور پرندوں سے بھی پیار کرتے ہیں اور انہیں عطئیہ خداوندی سمجھتے ہیں۔ اکثر چرچ میں حضرت عیسیٰ کی گدھے کی سواری کرتے ہوئے پینٹنگز بھی لگی ہوتی ہیں، عیسائی ممالک میں حضرت عیسیٰ سے متعلق کارٹونز اور لطیفے وغیرہ اخبارات و رسائل میں چھپتے ہیں بلکہ ٹی شرٹس پر تصاویر اورجملے بنے ہوتے ہیں مگر وہاں کوئی بھی بلاسفیمی کا الزام نہیں لگاتا نہ ہی Lynching کرتا ہے۔ عیسائیوں کے چرچز پاکستان سمیت دنیا بھر میں تعلیم اور صحت کیلئے فنڈنگ کرتے ہیں۔ سارے عیسائی ممالک میں مسلمانوں کو مساجد اور مدارس بنانے کی اجازت ہے بلکہ مسلمانوں کے ہر فرقے کو اپنی اپنی مساجد و مدارس کی اجازت ہے۔ وہ سب Right to religion and faith پر مکمل عمل کرتے ہیں۔
مگر ہم دن رات یہ ثابت کرنے پر لگے رہتے ہیں کہ” اسلام امن و سلامتی کا مذہب” قطئی نہیں ہے، بلکہ نفرت اور جنگ و جدل کا مذہب ہے۔