October 28, 2026

پھیلا ہوا چہار سمت میں پھیلا ہوا بے ربط اور وسیع و عریض ایئر پورٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Screenshot_2026-10-28_211230.896

پھیلا ہوا چہار سمت میں پھیلا ہوا بے ربط اور وسیع و عریض ایئر پورٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھوٹے بچوں کی بے ہنگم اور بے سروپا چیخ و پکار نہ رکنے میں آ رہی تھی اور نہ ہی مستقل قریب میں اس کی کوئ امید نظر آتی تھی۔ خواتین کے ملبوسات ہمیشہ کی طرح آدھا تیتر،آدھا بٹیر کی طرح دو انتہاؤں کے بیچ مکمل پردے میں ملبوس خواتین اور ہر کس و ناکس کو دعوت نظارہ دیتی ہوی نیم برہنہ خواتین۔۔۔۔شعور نے انسانوں سے شعور شاید چھین ہی لیا کہ وہ اپنی سوجھ بوجھ سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔۔:اسی ہجوم میں اسٹیشن نمبر پانچ پہ ایک درمیانی عمر کا جوڑاابھی موجود تھا جو غیر معمولی طور پہ مطمئن اور پر سکون دکھائُ دیتا تھا بلکہ کچھ زیادہ ہی مطمیئن تھا انہوں نے پہلے لوٹے کافی چلغوزوں کے ساتھ مزے لے لے کے کھائ پھر اپنی اپنی پسند کے ٹاک شوز قہقہوں کی بہار میں لوٹ پوٹ ہوتے ہوۓ دیکھے نہ صرف اپنے کئی جاننے والوں سے گپ شپ کی مرد کی جیب میں بائس یورو کے کچھ روپے اور سکے تھے اس نے اپنی اہلیہ کے منع کرنے کے باوجود سات یورو کا ایک کیلا اور پندرہ یورو کاُ فریش اورنج جوس بھی لیا اٹکھیلیاں کرتے ہوۓ جب یہ جوڑا اسٹیشن نمبر 26 پہ پہنچا تو اس انکشاف نے ان کے پیروں تلے سے زمین کھینچ لی کہ ان کی استنبول سے لاور کی فلائیٹ پندرہ منٹ پہلے اڑان بھر چکی ہےبلکہ اپنی برلن میں رہائش پذیر بیٹی کو فروٹس کھاتے ہوۓ اپنی ایئر پورٹ کی تصاویر بھی بھیجیں انھی cherriesاور انگوروں کی تصاویر جو ان کی بیٹی نے انھیں وداع کرتے ہوۓ ان کے ہینڈ بیگ میں ڈال دی تھی اور تو اور ان کی بیٹی نے ان کا سامان پلین کی بیلٹ پہ ڈراپ کرتے ہوۓ ان سے وہیل چیرز کی سہولت لینے کا بھی پوچھا تھا کہ استنبول ایئرپورٹ شیطان کی آنت کی طرح پھیلا ہوا ہے آپُکو اپنا اسٹیشن ڈھونڈنے میں مشکل ہو گی مگر بظاہر صحت مند بوڑھے والدین کی طبیعت پہ یہ بات شدید ناگوار گزری انھوں نے اپنی بیٹی کی خلوص نیت سےدی گئی صلاح کو بڑے غرور کے ساتھ رد کر دیامگر ٹھیک آتھ گھنٹے بعد جب استنبول کے ایئرپورٹ پہ ان کی ٹکٹیں ان کی جیب میں دھری کی دھری رہ گئیں اور ان کیُ فلائیٹ مس ہو گیئ تھی ان کی آدھے گھنٹے کی محنت اس وقت اکارت ہو گیئ جب پلیٹ فارم نمبر 26 پہ جا کر انھیں اس خبر نے انھیں آسمان سے زمین پہ لا گرایا کہ ان کی فلائیٹ ٹھیک پندرہ منٹ پہلے اڑان بھر چکی ہے۔مرد کے ساتھ تو جو ہوا سو ہوا عورت نے تو با قاعدہ ہچکیوں کے ساتھ رونا شروع کر دیا۔ ترکش ایئرُلاین سے رابطہ گیا ، انھیں بتایا گیا کہ ان کی ٹکٹییں فلائٹ کےُ مس ہوتے ہی کینسل ہو چکی ہیں اور اگلی ترکش فلائیٹ کے ٹکٹس کے لیے پندرہ سو یورو اگلے دس منٹ میں ترکش ایئرُلاین کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہونے اشد ضروری ہیں ورنہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یعنی جو پرواز ان کی اپنی غلطی سے مس ہو گیئ تھی اس کا ٹکٹ منسوخ کر دیا گیا ہے
کلرک کی سیٹ پہ بیٹھے ہوۓ بدتمیز شخص نے انتہای درشت لہجے میں کہا۔
آپ کی غلطی ہے،your mistake
تو کچھ رحم کیجیئے میں پندرہ سو یورو کا انتظام نہیں کر سکتا ،مرد نے گھگیاتے ہوۓ کہا،جبکہ عورت مانو کسی بے جان لاشے کی مانند اپنے مرد کے پیچھے کھڑی واردات زمانہ کو اپنے اوپر بیتتے ہوۓ دیکھ رہی تھی کبھی کبھی ہمانسانوں پہ غم کا بوجھ ہماری اوقات سے زیا دہ ہو جاۓ تو کچھ لمحوں کے لیےہم ایسے ہی اندھے،گونگے، بہرے اور بے جان ہو جاتے ہیں سانسوں کی روانی اور دھڑکنوں کی لب ڈب کے ہوتے ہوۓ بھی۔۔۔۔۔یہ غلطی اس غلطی اس بنیاد پہ پیش آئ مرد کے ہاتھ میں موجود بورڈنگ کارڈ پہ چھ بجے آغاز،سات بجے اختتام اور ڈسپلے بورڈ پہ فلائیٹ کی اڑان کا وقت سات بج کر پانچ منٹ درج تھا۔یہ تمام معلومات بار بار ان کی نظروں کے سامنے آتی رہیں اور سب سے بڑی بات کہ مرد کے ہاتھوں میں دونوں ٹکٹوں کی موجودگی۔۔۔۔۔تاہم کسی نامعلوم طاقت نے اس کی توجہ،فہم اور فیصلہ سازی کی صلاحیتیں مکمل طور پر مفلوج ہو گیئں یہی کیفیت اس کی بیوی پہ بھی طاری رہی۔اس مرد کی اہلیہ کوی معمولی ہاؤس وائف نہ تھی بلکہ ایک بڑی یونیورسٹی کے شعبہ کیمسٹری کی ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ تھی مگر حیرت انگیز طور پر دونوں میاں بیوی پورے تین گھنٹے ایک معروف اور مصروف ایئر پورٹ پر اس قدر لاپرواہ اور غیر متوجہ رہے کہ ٹکٹ اور ڈسپلے بورڈ پر درج واضح معلومات کے باوجود وہ صورتحال کو سمجھنے سے قاصر رہے ۔ ویٹنگ ایئریاُ میں دونوں کھانے پینے اور اپنے لیپس ٹاپ پہ اس طر ح مصروف ہو گیے جیسے وقت ان کے لیے کوی معنی نہ رکھتا ہو عجب بد نصیبی تھی کہ لوگ اپنی اپنی فلایٹس پکڑنے کے لیے بھاگ رہے تھے اور یہ باولے کافی، فروٹس اور ٹاک شوز کی جھوٹی دنیا میں مست۔۔۔۔
جب سورج کی نارنجی روشنی تھوڑی گلابی ہو کر مدھم ہونے لگی تو شوہر نے اپنی اہلیہ سے کہا نیک بخت چلو فلائیٹ پکڑتے ہیں .آدھے گھنٹے کی مستی بھری واک کے بعد اسٹیشن نمبر 26پہ ان کی فلائیٹ ٹھیک پندرہ منٹ پہلے اڑان بھر چکی تھی۔
دونوں میاں بیوی اس صورتحال پہ شدید صدمے کا شکار ہو گیئے۔پندرہ سو یورو کا انتظام کیسے ہوا یہ ایک لمبی داستان ہے تاہم جب ایک انٹرُنیشنل ایئر لائن اس طرح کے بے لچک اور non professional روئیے کی مرتکب ہو اور مسافروں کی انجانے میں ہو جانے والی غلطی اور غلطی سے بڑھ کر بے بس کی مجبوری سے فایدہ اٹھائے تو پھر ایسے گونگے بہرے فیصلوں کے نتائج بہت ہی نہیں شدید برے ہو سکتے ہیں
پونم نورین گوندل لاہور