معتبر ذرائع اور دستیاب ٹھوس شواہد کے مطابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے سیکریٹری اور انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی سے نکالے گئے ڈاکٹر مشتاق سپریم کورٹ کو بھرپور انداز میں استعمال کرتے ہوئے یونیورسٹی سے خوب بدلہ لے رہے ہیں۔
معتبر ذرائع اور دستیاب ٹھوس شواہد کے مطابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے سیکریٹری اور انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی سے نکالے گئے ڈاکٹر مشتاق سپریم کورٹ کو بھرپور انداز میں استعمال کرتے ہوئے یونیورسٹی سے خوب بدلہ لے رہے ہیں۔
دسمبر 2023 میں بطور ایک رکن بورڈ آف ٹرسٹیز شریک ہوتے ہوئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے صدر مملکت عارف علوی اور بینالقوامی یونیورسٹیوں کے سربراہان کی موجودگی میں یونیورسٹی کے سعودی صدر اور ریکٹر ڈاکٹر ثمینہ ملک اور یونیورسٹی کے ماتحت اہلکاروں کو باری باری بلا کر اُن سے بھی بدزبانی اور بدسلوکی کی۔
صدر عارف علوی تو بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خاموش رہے مگر ویڈیو لنک پر موجود سعودی اور دیگر یونیورسٹیوں کے سربراہان نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ اسلامک یونیورسٹی کے بورڈ آف ٹرسٹیز کی میٹنگ ہے نہ کہ اُنکی سپریم کورٹ، اسکے باوجود قاضی صاحب اس حد تک بدتمیزی پر چلے گئے کہ خود کو محض رکن بورڈ کی بجائے چیف جسٹس تصور کرتے ہوئے حراسیگی کا الزام لگانے والی ایک خاتون کو بھی کمرے کے باہر سے بلوا کر بین القوامی یونیورسٹیوں کے سربراہان کے سامنے نام لیکر پیش کر دیا-
یونیورسٹی کے سعودی صدر پر طنز کرتے رہے اور اس حد کہہ دیا کہ وہ یہ الزامات سعودی شھریوں پر نہیں بلکہ یونیورسٹی کے بدعنوان پاکستانی افسران پر لگا رہے ہیں۔ اسلامک یونیورسٹی کی انتظامیہ کیطرف سے تین سال تک بورڈ کا اجلاس نہ بلانے پر ریکٹر ڈاکٹر ثمینہ کی کھلے عام بے عزتی کی جس پر سعودی یونیورسٹیوں کے سربراہان نے بھی ناراضگی کا اظہار کیا۔
آج سرکاری یونیورسٹیوں میں اعلیٰ عہدوں پر عدم تعیناتی کا کیس خود ہی سنتے ہوئے جب اسلامک یونیورسٹی کے وکیل سینئیر ایڈوکیٹ سپریم کورٹ روحان الدین نے مزکورہ بالا واقعات کی روشنی میں چیف جسٹس کی بنچ پر موجودگی پر تحریری اعتراض کر دیا تواعتراضات پر سماعت کرنے اور دلائل سننے کی بجائے چیف جسٹس آگ بگولہ ہو گئے اور توہین عدالت کی کاروائی اور لائسنس معطلی کی دھمکی دے ڈالی، ساتھ ہی پوچھا کے ریکٹر ڈاکٹر ثمینہ کدھر اور کیوں نہیں آئی، جس پر وکیل کی طرف سے پیش کردہ میڈیکل سرٹیفیکیٹ پر ڈاکٹر ثمینہ ملک کی بجائے ثمینہ یاسمین لکھا ہونے کے باعث ایمبولنس اور ویل چئیر پر ڈاکٹر ثمینہ کو عدالت میں فوری پیشی کا حکم دیتے ہوئے سماعت میں وقفہ کر دیا۔
غصہ اس بات کا بھی ہے کہ یونیورسٹی بورڈ کے بین القوامی ممبران نے چیف جسٹس کے اِس شرمناک روئیے کے باعث اُس اجلاس کی تمام کاروائی اور اُس کے منٹس مسترد کر دئیے ہیں اور اب لگتا یہ ہے کہ موصوف جج کی ریٹائرمنٹ تک اجلاس بھی بلانے سے انکاری ہیں۔
تحریر کورٹ رپورٹر مطیع اللہ جان