October 29, 2026

نسل بدل گئی، زمانہ بدل گیا، دنیا بدل گئی لیکن ن لیگ کے پروپیگنڈہ ونگ کے حربے نہیں بدلے۔

20240919_181431

نسل بدل گئی، زمانہ بدل گیا، دنیا بدل گئی لیکن ن لیگ کے پروپیگنڈہ ونگ کے حربے نہیں بدلے۔

اتنا کچھ کرلینے کے بعد بھی گُڈ کوپ بیڈ کاپ کی تکنیک کا استعمال کرکے سمجھتے ہیں کہ سارا گند شہباز شریف پر ڈال کر نواز شریف کی بطور “قد آور، اصول پسند، جمہوری” لیڈر امیج کو برقرار رکھ سکتے ہیں جو wishful thinking اور cognitive dissonance کے شکار ایک مخصوص طبقے سے باہر کبھی بھی وجود ہی نہ رکھتی تھی۔

رجیم چینج ان کے اپنے گلے پڑنے لگی تو ان کو یاد آیا کہ “نواز شریف اس تحریک عدم اعتماد کے خلاف تھے”۔ اس سفید جھوٹ کو اتنا پھیلایا گیا کہ بظاہر معقول نظر آنے والے کچھ لوگ بھی اس پر کچھ دیر کے لیے یقین کربیٹھے۔ حالانکہ باخبر اور سمجھدار لوگ یہ بات تب بھی بتا رہے تھے کہ رجیم چینج کا سارا منصوبہ کچھ لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر نواز شریف نے ایون فیلڈ فلیٹس میں تیار کیا تھا۔

آٹھ فروری کے بعد بھی کچھ لوگوں نے یہ خبریں پھیلانے کی کوشش کی کہ نواز شریف حکومت لینے کے خلاف ہیں، دوبارہ ان کے خاندان کو “زبردستی” حکومت دی گئی ہے۔

جس جماعت اسلامی کے اپنے دانشمند امیر نے اپنی فارم 47 والی سیٹ یہ کہہ کر چھوڑ دی اور عزت کمائی کہ سیاسی رشوت مجھے نہیں چاہئیے، اس جماعت کے کچھ کارکن بھی نواز شریف کے وکیلِ صفائی بن کر ہمیں بتا رہے تھے کہ 40 سال سیاست کرنے اور تین بار وزیراعظم رہنے کے بعد نواز شریف کو جیل میں قید یاسمین راشد کی سیٹ پر کھلے عام دن دیہاڑے ڈاکا مار کر قبضہ کرنے کی جو ذلت اٹھانی پڑی ہے، اس پر انہیں مجبور کردیا گیا تھا۔

یعنی جس عوام نے انتخابی نشان کے بغیر تحریک انصاف کو ایسی شاندار اکثریت سے جتوادیا، یاخودی ایجنٹ اور جادو ٹونہ سے توشہ خانہ اور نو مئی تک کردار کشی کی بے شمار کیمپینز ہوا میں اڑا دیں، اسے یہ دانش گرد اس قدر وقوف سمجھتے ہیں کہ وہ اس قسم کی مضحکہ خیز باتوں میں آجائیں گے
اب آئینی ترمیم ناکام ہوگئی ہے اور اس گناہِ بے لذت میں اچھی خاصی بدنامی بھی اٹھانی پڑی ہے تو ٹاؤٹ قسم کے صحافیوں کے ذریعے تاثر دلوایا جارہا ہے کہ نواز شریف تو اس ترمیم کے خلاف تھے۔
ان چٹکلوں پر یقین کرلیا جائے تو ان کا مطلب یہ نکلتا ہے کل نواز شریف کی مرضی کے بغیر رجیم چینج ہوگئی، ایک نہیں دو بار “زبردستی” حکومت دے دی گئی، آئین کا گلا گھونٹنے کی پوری تیاری ہوگئی لیکن نواز شریف سے اپنی پارٹی اور اپنا چھوٹا بھائی نہیں سنبھالا گیا، وہ ملک، معیشت اور جمہوریت سنبھالے گا
ظاہر ہے کہ یہ باتیں انتہائی احمقانہ ہوتی ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ خود کو دانشور سمجھنے والا ایک چھوٹا سا پڑھا لکھا جاہل طبقہ جو میڈیا، ایکیڈیما اور عدلیہ جیسے شعبوں میں اثر و رسوخ رکھتا ہے، ان باتوں پر یقین کر بھی لیتا ہے، اسی لیے اس قسم کے پروپیگنڈہ کے لیے ن لیگ اتنے پیسے لفافوں پر خرچ کرتی ہے۔