October 29, 2026

دلچسپ کہانی: جسٹس طارق محمود جہانگیری ہی بطور جج الیکشن ٹریبیونل اسلام آباد کے تین حلقوں میں مبینہ دھاندلی کے خلاف پٹیشنز سُن کر فیصلہ کرینگے یا کوئی اور ٹریبیونل جج؟ اہم فیصلہ کل سنایا جائے گا لیکن اسکے پیچھے گزشتہ ساڑھے چار ماہ میں ہونے والے دلچسپ واقعات کا احاطہ کرتے ہیں.

20240916_065654

‏دلچسپ کہانی: جسٹس طارق محمود جہانگیری ہی بطور جج الیکشن ٹریبیونل اسلام آباد کے تین حلقوں میں مبینہ دھاندلی کے خلاف پٹیشنز سُن کر فیصلہ کرینگے یا کوئی اور ٹریبیونل جج؟ اہم فیصلہ کل سنایا جائے گا لیکن اسکے پیچھے گزشتہ ساڑھے چار ماہ میں ہونے والے دلچسپ واقعات کا احاطہ کرتے ہیں. جسٹس طارق محمود جہانگیری نے 2 مئی کو پہلی سماعت میں مسلم لیگ ن کے کامیاب امیدواروں کو نوٹس جاری کیے، اگلی سماعت پر کامیاب امیدواروں اور ریٹرننگ افسروں سے فارم 45 اور بیانِ حلفی بھی طلب کر لیے اور ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ جو غلط بیانی کرے گا جیل جائے گا اور یوں ماحول گرم ہو گیا. مسلم لیگ ن کی حکومت نے ایک آرڈیننس جاری کیا جس کے تحت الیکشن ٹریبیونل میں ہائیکورٹ کے Serving Judge کی بجائے کسی ریٹائر کو بھی لگایا جا سکتا ہے اور پھر ن لیگ کے کامیاب امیدواروں نے 6 جون کو الیکشن کمیشن میں ٹریبیونل تبدیلی کی درخواستیں دائر کیں اور چار ہی دن میں الیکشن کمیشن نے فیصلہ کرتے ہوئے جسٹس طارق محمود جہانگیری کا ٹریبیونل تبدیل کر دیا. اسلام آباد ہائیکورٹ میں میں آرڈیننس چیلنج ہوا پھر الیکشن کمیشن کا ٹریبیونل تبدیلی کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی درخواستیں بھی دائر ہوئیں. اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے پہلی سماعت میں تو الیکشن کمیشن کی خوب عزت افزائی کی، پہلی تین سماعتوں میں لگاتار کہتے رہے کہ ٹریبیونل تبدیلی کا فیصلہ غیرقانونی ہے برقرار نہیں رہ سکتا اور ریٹائرڈ جج کے نئے ٹریبیونل کو الیکشن پٹیشنز منتقل کرنے کا کمیشن کا آرڈر معطل کر دیا لیکن کیس کا جلد فیصلہ نہ ہوا بلکہ سماعتیں چلتی ہی رہیں اور تب تک آرڈیننس کو پارلیمنٹ میں پیش کر کے ایکٹ بنا دیا گیا اور اُس قانون سازی کے خلاف بھی درخواستیں دائر ہوئیں، اِس دوران ججز کی دو ماہ کی چھٹیاں آ گئیں، چیف جسٹس عامر فاروق نے موسمِ گرما کی ایک ہفتے کی چھٹی پر جانے سے پہلے 11 جولائی کو جسٹس طارق محمود جہانگیری کو الیکشن پٹیشنز پر ٹرائل آگے بڑھانے سے اِن ریمارکس کے ساتھ روک دیا کہ بس چند دن کی ہی تو بات ہے، ایک ہفتہ چھٹی کے بعد روزانہ کی بنیاد پر سماعت کر کے چار پانچ سماعتوں میں کیس نمٹا دینگے لیکن ایسا نہ ہو سکا. بالآخر چیف جسٹس صاحب نے 29 جولائی کو فیصلہ اِن ریمارکس کے ساتھ محفوظ کیا کہ یہ Judgement Reserved نہیں بلکہ Wait for order ہے اور وہ کوشش کرینگے کہ ایک دو دن میں فیصلہ سنا دیں لیکن ایک بار پھر ایسا نہ ہوا اور یہ وہ فیصلہ جو ایک دو دن میں سنایا جانا تھا کل ایک ماہ اور 20 دن بعد سنائے جانے کیلئے مقرر کیا گیا ہے