October 29, 2026

*آصف مہار* ‏آج میں جو باتیں کرنے جا رہا ہوں وہ میں ایک عرصے سے لکھنا چاہ رہا تھا

IMG-20240918-WA0120(2)

*آصف مہار*

‏آج میں جو باتیں کرنے جا رہا ہوں وہ میں ایک عرصے سے لکھنا چاہ رہا تھا
PML N
یہ وہ پارٹی ہے جس نے پاکستان کی عوام کو دکھایا ہے کہ ترقی کا ماڈل کیا ہوتا یے۔
یہ وہ پارٹی ہے جس نے 1990 میں دس دس سال تک لینڈ لائن فون کے لیے انتظار کرنے والوں کو سڑکوں پر گلیوں بازاروں میں فون بوتھ لگا دیے،لینڈ لائن والے خود ترلے کرتے رہتے تھے کہ فون لگوا لو۔
یہ وہ پارٹی ہے جس نے کھٹارا بسوں اور 1960 والی فورڈ ویگنوں میں بھیڑ بکریوں کی طرح سفر کرنے والوں کو ییلو کیب جیسی ٹیکسی میں سفر کرنے کا موقع فراہم کیا جدید بسوں کو لا کر ٹرانسپورٹیشن کا کلچر ہی بدل دیا۔
یہ وہ پارٹی ہے جس نے سڑکوں کا انفراسٹرکچر بدل کے دس دس گھنٹے میں منزل مقصود تک پہنچنے والوں کو ڈیڑھ دو گھنٹے کے باعزت سفر میں منزل مقصود تک پہنچانے کا کارنامہ سرانجام دیا۔
یہ وہ پارٹی ہے جس نے ملک کو ایٹمی طاقت ڈیکلیئر کروا کر دفاع کو ناقابل تسخیر کیا آج پاکستان کی اہمیت جتنی اس حوالے سے ہے کسی اور حوالے سے نہیں۔
یہ وہ پارٹی ہے جس نے سکولوں ہسپتالوں کی حالت بدلی سٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال کالجز بنوائے لاکھوں لیپ ٹاپ تقسیم کیے،موٹر ویز کے بانی ہیں،طلبا کو اربوں کے وظائف دیے۔
یہ وہ پارٹی ہے جس نے لوڈ شیڈنگ سے بلکتے بدحال عوام کی اس مصیبت سے جان چھڑائی کراچی میں امن قائم کیا ملک سے دھ ش ت گر دی ختم کر کے امن بحال کیا مگر۔۔۔۔۔
مگر آج وہ پارٹی عوام کے سامنے مجرم بنی کھڑی ہے اور ہر کوئی اسے برائی کی جڑ سمجھ رہا ہے پتہ ہے کیوں؟

صرف اس وجہ سے کہ اس پارٹی نے سب کچھ کیا مگر اپنے ورکرز اور ہمدردوں کو یکسر نظرانداز کر دیا۔
یہ ہر کسی کے جوتے اٹھائیں گے،ہر کسی کی خوشامدیں کریں گے مگر اپنے ورکرز کو جوتے کی نوک پر رکھیں گے۔