10

رواداری تحریر:اللہ نوازخان

تحریر:اللہ نوازخان
allahnawazk012@gmail.com
رواداری
دنیا میں اس وقت تنگ نظری،تعصب اور نفرت بہت بڑھ چکی ہے۔رواداری کی عدم موجودگی بہت سے مسائل پیدا کر رہی ہے،ضروری ہے کہ رواداری کو فروغ دیا جائے۔رواداری کا مفہوم یہ ہے کہ مختلف قسم کے نظریات،عقائد،ثقافت یا جذبات کا خیال رکھا جائے۔اگر ایک فرد یا قوم کے عقائد، ثقافت یا نظریات پسند نہیں آتے،تو ان کےجذبات کا خیال رکھا جائے اور نفرت نہ کی جائے۔تنگ نظری یا تعصب سے انتشار پھیلتا ہے،بعض اوقات قتل و غارت جیسے ناگوارافعال بھی سر انجام دے دیے جاتے ہیں۔رواداری کی عدم موجودگی سے معاشرہ میں انتشار پھیلتا ہے جو کہ بہت ہی خطرناک ہے۔ترقی کی منازل طے ہو رہی ہیں لیکن دگنی رفتار سے نفرت اور تعصب بھی پھیل رہا ہے۔اب ایسا ہوتا ہے کہ معمولی سی بات پر بہت بڑا نقصان کر دیا جاتا ہے۔زمانہ جہالت میں بھی عدم رواداری کی وجہ سے بہت خون خرابہ ہوتا تھا،لیکن اسلام کی وجہ سے وہ خرابیاں دور ہو گئیں۔زمانہ جہالت میں معمولی معمولی باتوں پر کئی کئی سالوں تک جنگیں لڑی جاتیں اور ان جنگوں میں بہت خون خرابہ ہوتا۔بچے یتیم ہو جاتے،عورتیں بیوہ ہو جاتیں،اس کے علاوہ مالی نقصان بھی ہوتا لیکن جاہلانہ عزت کی وجہ سے بڑے بڑے نقصان برداشت کر لیے جاتے۔اب پھر رواداری ختم ہو رہی ہے،ذاتی طور پر بھی نفرت پھیل رہی ہے اور مختلف اقوام کے درمیان بھی نفرت بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔محض مذہب یا قوم کی وجہ سے انسانوں کو نشانہ بنا دیا جاتا ہے۔اس وقت کئی اقوام شدید مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں کیونکہ ان کا عقیدہ یا نظریات مخالفین کو پسند نہیں آتے۔بارود کا استعمال کر کے پورےپورے ممالک تباہ کیے جا رہے ہیں۔
اللہ تعالی نے قرآن میں رواداری کی تلقین کی ہے۔واضح طور پر حکم دیا ہے کہ رواداری کا نظام قائم کیا جائے۔قرآن میں کسی کے جھوٹے خدا کو بھی برا بھلا کہنے کو منع کیا گیا ہے۔ارشاد باری تعالی ہے”اور انہیں برا نہ کہو جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں کہ وہ زیادتی کرتے ہوئے جہالت کی وجہ سے اللہ کی شان میں بے ادبی کریں گے،یوں ہی ہم نے ہر امت کی نگاہ میں اس کے عمل کو آراستہ کر دیا،پھر انہوں نے اپنے رب کی طرف پھرنا ہے تو وہ انہیں بتا دے گا جو وہ کرتے تھے”(انعام۔108) قرآن حکیم کی یہ آیت ثابت کرتی ہے کہ اللہ تعالی نےمسلمانوں کو واضح طور پر حکم دیا ہوا ہے کہ ہر ایک کے جذبات،عقائداور نظریات کا خیال رکھا جائے،چاہے اس کے عقائد یا نظریات غلط ہی کیوں نہ ہوں۔اگر ایک فردیا قوم اللہ کے سوا کسی جھوٹے معبود کی پرستش کر رہے ہیں تو ان کو برابھلانہ کہا جائے،کیونکہ وہ بدلے میں سچے رب کو برا بھلا کہنا شروع کر دیں گے۔قرآنی تعلیمات کے مطابق اگر ایک فرد کسی بھی مذہب پر ایمان لا چکا ہے تو اس کا جبری طور پر مذہب تبدیل نہ کیا جائے۔ارشاد باری تعالی ہے”تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین”(سورۃ الکافرون.6) ایک اور جگہ پر ارشاد باری تعالی ہے،”دین میں کوئی جبر نہیں”(البقرہ.256) قرآنی تعلیمات واضح درس دیتی ہیں کہ رواداری کو فروغ دیا جائے۔
احادیث میں بھی رواداری پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم تمام عمر برداشت اور رواداری کا مظاہرہ کرتے رہے۔ان کو بے شمار تکالیف دی گئیں،گالیاں نکالی گئیں،پتھر مارے گئے،یہاں تک کہ شہید کرنے کی بھی کوشش کی گئیں،لیکن حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ہمیشہ رواداری اور برداشت کا مظاہرہ کیا۔آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نےفتح مکہ کے موقع پر عظیم الشان رواداری کا مظاہرہ کیا۔فتح مکہ کے موقع پرمسلمانوں کے سخت ترین دشمنوں کو معاف کر دیا گیا،حالانکہ ان دشمنوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ کرام کو سخت ترین تکالیف دیں۔یہاں تک کہ ہندہ کو بھی معاف کر دیا گیا،جس نے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پیارے چچا حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کا کلیجہ چبایا تھا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہر ایک سے شفقت کے ساتھ پیش آتے۔حضور صلی اللہ علیہ السلام نے تمام مخلوق کو اللہ کا کنبہ کہا۔حدیث کے مطابق”ساری مخلوق اللہ کا کنبہ ہے,اس کے نزدیک سب سے پسندیدہ انسان وہ ہے جو اس کے کنبے کے ساتھ نیکی اور اچھا برتاؤ کرے”حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی کی بجائے نرمی کو اپنانے کا درس دیا۔نرمی اپنانے والے کو خوشخبری بھی دی۔ایک حدیث کے مطابق”اللہ تعالی نرمی کو پسند فرماتے ہیں اور نرمی پر وہ کچھ عطا کرتے ہیں جو سختی پر نہیں دیتے”(مسلم) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی دوسروں کو تکلیف نہ دی اور یہ تعلیم بھی دی کہ دوسروں کو تکلیف یا دکھ نہ پہنچایا جائے۔ایک حدیث کے مطابق”تم میں سے مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں اور مومن وہ ہے جس سے لوگوں کے جان و مال کو خطرہ نہ ہو”(ترمذی)
اس وقت دنیا میں بہت زیادہ بدامنی پھیل چکی ہے،اگر رواداری کو اپنا لیا جائے تو امن آسکتا ہے۔رنگ،نسل،عقیدہ،قوم،علاقہ وغیرہ کی وجہ سے کسی کے ساتھ نفرت نہ کی جائے،بلکہ برداشت اور رواداری کا رویہ اپنایا جائے۔رواداری اور برداشت سے معاشرہ میں بہتری پیدا ہوتی ہے۔ایک غلط فہمی کا تذکرہ کرنا ضروری ہے کہ تمام انسان مختلف قسم کے نظریات یا عقائد پر پرکاربند ہوتے ہیں،حالانکہ وہ غلط ہوتے ہیں،ان کو برداشت کرنا چاہیے لیکن ان کو درست تسلیم نہیں کرنا چاہیے،کیونکہ یہ منافقت کہلاتا ہے۔کروڑوں افراد مختلف نظریات پر یقین رکھتے ہیں،حالانکہ وہ بالکل غلط ہوتے ہیں اور غلط کو غلط تسلیم کرناچاہیے۔غلط عقیدے کی وجہ سے کسی کو تکلیف پہنچانا،اسلام میں سختی سے ممنوع ہے۔رواداری مسلمانوں میں بھی پیدا ہونا ضروری ہے تاکہ امت مسلمہ متحدہوکر بہتری کی طرف بڑھ سکے۔مسلمان مختلف فرقوں کو برداشت کریں،بلکہ برداشت کر کے آپس میں اتحاد پیدا کیا جائے تاکہ زوال پذیر امت مسلمہ بلندی کی طرف سفر کر سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں