11

سول اسپتال سکھر کے آرتھوپیڈک وارڈ کی خستہ حالی پر عدالت برہم

سول اسپتال سکھر کے آرتھوپیڈک وارڈ کی خستہ حالی پر عدالت برہم
آئینی بینچ نے عمارت میں ٹراما سینٹر کی منتقلی روک دی، سیکریٹری صحت اور ایم ایس طلب

سکھر (بیورورپورٹ)سول اسپتال سکھر کے آرتھوپیڈک وارڈ کی خستہ حالی اور اس کے لیے مختص عمارت کو ٹراما سینٹر میں تبدیل کرنے کے خلاف دائر آئینی درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے اہم احکامات جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت تک کسی بھی قسم کے تعمیراتی یا منتقلی کے عمل کو روک دیا ہے۔درخواست کی سماعت سندھ ہائی کورٹ سکھر کی آئینی بینچ، جسٹس امجد علی بوھیو اور جسٹس علی حیدر ادا پر مشتمل بینچ نے کی۔عدالت نے واضح ہدایت جاری کی کہ آرتھوپیڈک ڈیپارٹمنٹ کے لیے تعمیر کی گئی عمارت میں آئندہ سماعت تک کوئی کام نہ کیا جائے اور نہ ہی اسے ٹراما سینٹر کے طور پر استعمال میں لایا جائے۔عدالت نے آئندہ سماعت پر سیکریٹری صحت کو ذاتی حیثیت میں پیش ہوکر تحریری جواب جمع کرانے کا حکم دیا ہے کہ آرتھوپیڈک کے لیے بنائی گئی عمارت کو ٹراما سینٹر میں منتقل کرنے کا فیصلہ کس بنیاد پر کیا گیا۔ ساتھ ہی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) سول اسپتال کو بھی طلب کرلیا گیا ہے۔
درخواست گزار کا مؤقف
یہ درخواست پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے رہنما لالا اسد پٹھان کی جانب سے بئریسٹر خان عبدالغفار خان کی معرفت دائر کی گئی تھی۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ آرتھوپیڈک ڈیپارٹمنٹ کے لیے فنڈز مختص کرکے عمارت تعمیر کی گئی، تاہم بعد ازاں اسے ایک خودمختار ادارے کے حوالے کر کے ٹراما سینٹر چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔
جسٹس علی حیدر ادا نے ریمارکس دیے کہ اگر فنڈز ایک مخصوص شعبے کے لیے جاری کیے گئے تھے تو پھر وہ عمارت کسی دوسرے ادارے کے حوالے کیوں کی گئی؟ انہوں نے کہا کہ تعمیر مکمل ہونے کے بعد چند ماہ تک عمارت آرتھوپیڈک ڈیپارٹمنٹ کے زیر استعمال رہی، مگر بعد میں اس کا مقصد تبدیل کردیا گیا۔بئریسٹر خان عبدالغفار خان نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار کا مقصد آرتھوپیڈک وارڈ کی بحالی کے ساتھ ساتھ شہر میں جدید ٹراما سینٹر کا قیام بھی ہے، تاہم ایک شعبے کے لیے مختص عمارت کو دوسرے مقصد کے لیے استعمال کرنا قانونی اور انتظامی طور پر درست نہیں۔سماعت کے دوران یہ اہم انکشاف بھی سامنے آیا کہ اسپتال انتظامیہ کو دسمبر میں خستہ حال وارڈز کی مرمت کے لیے 4 کروڑ 60 لاکھ روپے جاری کیے گئے تھے۔ عدالت کے روبرو بتایا گیا کہ یہ رقم سول اسپتال کے بوسیدہ وارڈز کی مرمت اور بحالی کے لیے مختص تھی۔سیکریٹری صحت نے تحریری طور پر ایم ایس سول اسپتال سے استفسار کیا ہے کہ جب مذکورہ فنڈز جاری ہوچکے تھے تو پھر وارڈ کی چھت اور پلستر کیسے گر گیا؟ کیا مرمت کا کام سرانجام نہیں دیا گیا؟ انہوں نے اسپتال انتظامیہ سے فنڈز کے استعمال کی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 26 فروری تک ملتوی کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ آئندہ پیشی پر سیکریٹری صحت اور ایم ایس تفصیلی رپورٹ کے ساتھ عدالت میں پیش ہوں۔قانونی ماہرین کے مطابق اس کیس کا فیصلہ نہ صرف سول اسپتال سکھر بلکہ صوبے بھر میں سرکاری اسپتالوں میں فنڈز کے شفاف استعمال اور شعبہ جاتی اختیارات کے تعین کے حوالے سے ایک اہم نظیر ثابت ہوسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں