مولانا فضل الرحمان! خارزار سیاست کا اجلا کردار تحریر : صاحبزادہ حبیب اللہ کھرل
مولانا فضل الرحمان! خارزار سیاست کا اجلا کردار
تحریر : صاحبزادہ حبیب اللہ کھرل
اسٹبلشمنٹ اور استعماری قوتیں جن سے خطرہ محسوس کرتی ہیں، ان کی کریٹبلٹی اور ساکھ خراب کرنے کی سر توڑ کوشش کرتی ہیں-مولانا اپنے اجلے کردار کے سبب ہی ان کے پروپیگنڈوں کی زد میں رہے- اس ملک کی سیاسی تاریخ میں ایک اجلے کردار کے انتخاب کی بات کیجائے تو میں آنکھیں بند کرکے مولانا فضل الرحمان کا نام پیش کرونگا-سیاست میں مستحکم پوزیشن رکھنے والا کونسا سیاستدان ہے جو ان خفیہ ہاتھوں کی پشت پر کارفرما آہنی عناصر کے خلاف زبان کھولنے کی جرات کرسکتا ہے- اس جرات کے لئے اجلے کردار کی ضرورت ہے اور مولانا اجلے کردار کے ساتھ چونکہ جرات کے اس جان لیوا محاذ پرتنہا لڑ رہے ہیں اس لئے اس جرم کی سزا میں ان کا میڈیا ٹرائل کیا جاتا ہے-
پرویز مشرف نے احتساب کمیشن بنایا- مولانا کرپشن زدہ ہوتے تو ان کو بھی گھسیٹا جاتا-
مشهور ٹی وی اینکرحامد میر صاحب “جیو ٹی وی” پر پرویز مشرف کے ایک ہرکارے کا یہ اعتراف سامنے لاچکے ہیں کہ مولانا کو رام کرنے کے لئے کس طرح روپوں سے بھرا بریف کیس اسے تھمایا گیا اور مولانا نے کس شان استغناء کے ساتھ اسے کو مایوس لوٹایا-کے پی کے میں ابھی میں رائٹ انفارمیشن ایکٹ نافذ کیا گیا ہے-اس میں عوام کو یہ سہولت حاصل ہے کہ وہ کسی کے خلاف کوئی بھی فائل، جس وقت چاہیں، طلب کرسکتے ہیں-مولانا نے کے پی کے میں پانچ سال حکومت کی-اس ایکٹ کے تحت وہاں کوئی فرد جب چاہے مولانا اور ان کی فیملی کے کرپشن یا خورد برد کا ریکارڈ نکال سکتا ہے-اسکینڈلز مولانا کے خلاف بناے گئے-لوگوں کی راے ٹی وی کے انتہائی تھرڈ کلاس اینکرز کی گفتگو سے بنتی ہے-افسوس کہ لوگ بھی ان کی اوٹ پٹانگ باتوں کے زیر اثر آجاتےہیں اور مولانا پر آتش زیر پا ہوگئے-
صاحب نظر لوگ اقوال پر نہیں کردار پر نظر رکھتے ہیں مخالفین نے مولانا کی اوریجنل ساکھ کبھی عوام تک پہنچنے نہ دی-انہوں نے زرخرید اینکروں کو استعمال کیا اور مولانا کے خلاف اسکینڈلز کو ہوا دیکر، ان کا امیج داغ دار بنانے کی کوشش کی-مخالفین خود اعتراف جرم کر چکی ہے کہ اس نے مولانا کے خلاف کن کن محاذات پر کام کیا-آپ نے شفاف کیرئیر کے حوالے سے مغربی جمہوریت کا نام لیا ہے- حضور اس “کوکب ارضی” پر جہاں جہاں ڈکٹیٹرز ہیں،وہ انہی جمہوری چیمپینوں کے لے پالک ہیں-