بڑی خبر: اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے اسلام آباد سے لاپتہ فیضان عثمان کی بازیابی کے بعد کیس نمٹانے کی بجائے اغواء کاروں کی شناخت اور اُنکے خلاف کارروائی کا فیصلہ کر لیا، اسلام آباد میں کام کرنے والی انٹیلی جنس اور انوسٹی گیشن ایجنسیوں آئی بی، ایف آئی اے،
بڑی خبر: اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے اسلام آباد سے لاپتہ فیضان عثمان کی بازیابی کے بعد کیس نمٹانے کی بجائے اغواء کاروں کی شناخت اور اُنکے خلاف کارروائی کا فیصلہ کر لیا، اسلام آباد میں کام کرنے والی انٹیلی جنس اور انوسٹی گیشن ایجنسیوں آئی بی، ایف آئی اے، آئی ایس آئی، ایم آئی، ایئر اور نیول انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جنرلز اور سی ٹی ڈی پنجاب کو فریق بنانے اور نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے تمام نئے فریقین سے دو ہفتوں میں تحریری رپورٹس طلب کر لیں. چیف کمشنر اسلام آباد کو بھی درخواست میں فریق بنانے کی ہدایت، چیف کمشنر سے بیانِ حلفی طلب کر لیا کہ بتائی آپکے دائرہ اختیار سے Impunity کے ساتھ مسلسل جبری گمشدگیاں کیوں ہو رہی ہیں؟ آئی جی اسلام آباد کو بھی آئی بی، پی ٹی اے اور تمام صوبوں کی سی ٹی ڈیز سے معلومات لے کر مجرموں کی شناخت کر کے رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے