October 29, 2026

ازبکستان کے صدر کا تاریخی دورہ — پاکستان میں دوستی، تجارت اور علاقائی تعاون کا نیا دور کالم نگار: غلام مصطفی جمالی

IMG-20260203-WA0237(2)

ازبکستان کے صدر کا تاریخی دورہ — پاکستان میں دوستی، تجارت اور علاقائی تعاون کا نیا دور
کالم نگار: غلام مصطفی جمالی
فون نمبر: 03333737575
تازہ ترین عالمی اور خطائی حالات میں، ازبکستان کے صدر شوکت مرزایٔوف کا پاکستان کا سرکاری دورہ نہ صرف دونوں ملکوں کے تعلقات میں نیا سنگ میل ثابت ہوا بلکہ یہ خطے میں اقتصادی، تجارتی، ثقافتی اور سیاسی تعاون کے نئے دروازے کھولنے کا سبب بھی بنا۔ اس دورے کو پاکستان کے لیے تاریخی اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ صرف ایک سرکاری ملاقات نہیں بلکہ مستقبل کے طویل مدتی تعلقات کی بنیاد رکھنے والا اقدام تھا۔ اسلام آباد پہنچنے پر صدر مرزایٔوف کا ریڈ کارپٹ استقبال کیا گیا، جہاں صدر پاکستان اور وزیر اعظم نے ان کا پر تکلف خیرمقدم کیا۔ اس دوران اعلیٰ سطحی مذاکرات اور ڈیلگیشنز کے اجلاس ہوئے، جن میں سیاسی، اقتصادی، تجارتی، تعلیمی اور ثقافتی امور پر تفصیل سے بات ہوئی۔
پاکستان اور ازبکستان کی تاریخ ایک لمبے عرصے پر محیط ہے۔ دونوں ممالک کے عوام صدیوں سے مذہبی، ثقافتی اور تجارتی روابط کے ذریعے جڑے رہے ہیں۔ تاریخی طور پر مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے قدیم تجارتی راستے، خصوصاً ریشم کی راہیں، دونوں ممالک کے درمیان مضبوط معاشی اور ثقافتی تعلقات کی علامت رہے ہیں۔ قدیم دور میں تاجر، علماء، اور فنکار دونوں ملکوں کے درمیان سفر کرتے رہے، اور اس طرح خطے میں علم، ثقافت اور تجارتی مہارتوں کا تبادلہ ہوتا رہا۔ تاہم جدید دور میں ان تعلقات کو فروغ دینے کے لیے خاص اقدامات کی ضرورت تھی، اور اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ دورہ عمل میں آیا۔
صدر مرزایٔوف کے دورے کا ایک اہم مقصد دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم کو بڑھانا اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنا تھا۔ پاکستان میں بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے صدر مرزایٔوف نے کہا کہ ازبکستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات نہ صرف سیاسی بلکہ اقتصادی طور پر بھی مضبوط ہو سکتے ہیں۔ اس موقع پر دونوں ممالک نے اگلے پانچ سالوں میں دوطرفہ تجارتی حجم کو دو ارب ڈالر تک بڑھانے کا منصوبہ منظور کیا۔ اس سلسلے میں مجموعی طور پر 28 سے زائد معاہدے اور میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ (MoUs) سائن کئے گئے، جو مختلف شعبوں جیسے کہ زراعت، تعلیم، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، دفاع، توانائی، اور صنعت میں تعاون کو فروغ دیں گے۔
تجارت اور سرمایہ کاری کے علاوہ، اس دورے کا ایک اہم پہلو علاقائی کنیکٹیویٹی اور تعاون کا فروغ تھا۔ دونوں ممالک نے ازبکستان-افغانستان-پاکستان (UAP) ریل لنک منصوبے کو “گیم چینجر” قرار دیا، جو وسطی ایشیا کو پاکستان کے بندرگاہوں سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ یہ منصوبہ نہ صرف تجارتی حجم کو بڑھائے گا بلکہ خطے میں امن اور اقتصادی استحکام کے لیے بھی بنیاد فراہم کرے گا۔ ریل، سڑک، ہوائی اور بحری رابطوں کے فروغ پر بھی زور دیا گیا تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت اور مسافروں کی آمدورفت آسان ہو سکے۔
اس دورے کے دوران ثقافتی اور تعلیمی شعبوں میں تعاون کے امکانات بھی زیر غور آئے۔ دونوں ممالک نے فیصلہ کیا کہ وہ مستقبل میں مختلف ثقافتی، تجارتی اور تعلیمی منصوبوں کے ذریعے عوامی رابطے بڑھائیں گے، تاکہ خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے مستحکم بنیادیں قائم ہو سکیں۔ اسکولوں، یونیورسٹیوں اور تحقیقاتی اداروں میں باہمی تبادلے کے منصوبے بھی طے کئے گئے، جن کا مقصد نوجوان نسل میں دونوں ممالک کی ثقافت اور زبان کی سمجھ بوجھ کو فروغ دینا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف زبانوں کے کورسز، ورکشاپس اور مشترکہ ثقافتی پروگرامز کو بھی شامل کیا گیا ہے، جس سے عوامی رابطے میں بہتری آئے گی اور خطے میں بھائی چارے کا فروغ ہوگا۔
اقتصادی اور تجارتی شعبے میں اس دورے کے اثرات بہت اہم ہیں۔ زراعت کے شعبے میں، پاکستان اور ازبکستان نے مشترکہ منصوبوں کا آغاز کرنے پر اتفاق کیا، جن میں کھاد، بیج، اور جدید زرعی تکنیکوں کا تبادلہ شامل ہے۔ صنعتی شعبے میں بھی تعاون بڑھانے کے منصوبے تیار کئے گئے، جن میں مختلف مصنوعات کی تیاری اور برآمدات کے مواقع شامل ہیں۔ توانائی کے شعبے میں، دونوں ملکوں نے توانائی کی پیداوار، خصوصاً قابل تجدید توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے منصوبے طے کئے۔ اس سے نہ صرف توانائی کی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ دونوں ممالک میں روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
اس دورے کا سیاسی پہلو بھی انتہائی اہم تھا۔ دونوں ممالک نے خطے میں امن، استحکام اور دہشت گردی کے خلاف تعاون پر زور دیا۔ اس سلسلے میں وزارتی اور سیکورٹی لیول پر باقاعدہ مذاکرات ہوئے تاکہ باہمی اعتماد اور معلومات کے تبادلے کے ذریعے علاقائی سلامتی مضبوط کی جا سکے۔ پاکستان اور ازبکستان نے علاقائی تعاون کے مزید مواقع تلاش کرنے پر بھی اتفاق کیا، جن میں اقتصادی تعاون کی تنظیموں اور بین الاقوامی فورمز میں مشترکہ کارروائی شامل ہے۔
صدر مرزایٔوف کے دورے کا سماجی پہلو بھی قابل ذکر ہے۔ عوامی رابطے اور ثقافتی تبادلے کے ذریعے دونوں ممالک نے یہ پیغام دیا کہ خطے میں امن، دوستی اور بھائی چارہ کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ میڈیا، فلم، موسیقی اور دیگر ثقافتی پروگراموں کے ذریعے عوام میں مثبت تاثر پیدا کرنے پر زور دیا گیا۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک نے نوجوانوں کے لیے باہمی تعلیم اور تربیت کے پروگراموں کی منظوری دی، تاکہ نئی نسل خطے میں تعاون کے فروغ میں اپنا کردار ادا کر سکے۔
اس تاریخی دورے کے اثرات صرف موجودہ تعلقات تک محدود نہیں رہیں گے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے سالوں میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعاون میں اضافہ ہوگا، نئی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں گے، اور عوام کے درمیان ثقافتی تعلقات مضبوط ہوں گے۔ دونوں ممالک کے تجارتی حجم میں اضافہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی مثال قائم کرے گا، کیونکہ مستحکم اور ترقی پذیر تعلقات خطے میں امن، خوشحالی اور ترقی کے امکانات بڑھاتے ہیں۔
دورے کے دوران دونوں ممالک نے توانائی کے شعبے میں خصوصی منصوبے بھی زیر غور رکھے۔ قابل تجدید توانائی، سولر اور ونڈ پاور کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے منصوبے منظور کئے گئے۔ اس سے نہ صرف توانائی کی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ دونوں ممالک کی صنعتی ترقی اور ماحول دوست ترقی کے منصوبوں کو بھی فروغ ملے گا۔
تعلیمی شعبے میں بھی اہم اقدامات طے پائے۔ ازبکستان اور پاکستان نے مشترکہ تحقیقاتی پروگرامز، یونیورسٹی سطح پر تبادلے اور اساتذہ و طلبہ کے تربیتی پروگرامز پر اتفاق کیا۔ اس سے دونوں ممالک کے نوجوانوں میں تعلیمی اور ثقافتی رابطے مضبوط ہوں گے، اور نئی نسل خطے میں تعاون اور ترقی کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرے گی۔
یہ تاریخی دورہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات محض رسمی ملاقاتوں تک محدود نہیں ہیں، بلکہ یہ تعلقات اعتماد، باہمی مفاد اور علاقائی اتحاد کے نئے دور کی بنیاد ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک مستقبل میں نہ صرف سیاسی اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط کریں گے بلکہ خطے میں تعاون، ترقی اور خوشحالی کے نئے دروازے بھی کھلیں گے۔
آخر میں، ازبکستان کے صدر کا یہ تاریخی دورہ پاکستان کے لیے نہ صرف اعزاز کا موقع تھا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے نئے دور کی بنیاد بھی فراہم کرتا ہے۔ یہ دورہ مستقبل کے لیے ایک روشن مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا اور دونوں ملکوں کے عوام کے لیے امید اور اعتماد کی علامت ثابت ہوگا۔