ویسے تو آئین پاکستان چوں چوں کا مربہ بن چکا ھے جس کو کبھی جنرلوں نے پہلے معطل کیا پھر بحال کرکے ترامیم کے ذریعے بدل کر صدارتی نظام نافذ کرنے کوشش کی ھے
ویسے تو آئین پاکستان چوں چوں کا مربہ بن چکا ھے
جس کو کبھی جنرلوں نے پہلے معطل کیا پھر بحال کرکے ترامیم کے ذریعے بدل کر صدارتی نظام نافذ کرنے کوشش کی ھے
جس کو سیاسی پارٹیوں نے دوبارہ ترامیم کے ذریعے پاریلمانی نظام میں بدلا ھے
جس کا آئین پاکستان بنیادی طور پر پارلیمانی نظام کا حکم دیتا ھے
جس کو کسی بھی ترمیم سے بدلا نہیں جا سکتا ھے
لہذا شورو غل سے بھر ہور 26 ویں ترمیم بھی اٹھارویں ترمیم کی طرح تاریخی کردار ھونا چائیے
جس میں پارلیمنٹرین کا ووٹ کا حق بھی بحال کیا جاۓ
کہ وہ جس کو چاھے اپنے ضمیر کے مطابق اپنا ووٹ دے پاۓ
جس سے ایک پارلیمنٹرین کسی پارٹی کے سربراہ کے زر خرید غلام کی بجاۓ عوام کا منتخب نمائیندہ کہلاۓ گا
مزید برآں ترمیم میں آپس میں ٹکرانے والے تمام آرٹیکلز کو ختم کیا جاۓ جس میں عدلیہ کے ججوں کی تقرری صرف پارلیمنٹ کے ذریعے ھو نا چائیے
علاوہ ازیں عدلیہ کے سو موٹو اختیارات کو بھی ختم کرنا ھوگا
جس میں لوگوں کا حق اپیل پائمال ھو چکا ھے