October 16, 2026

سکھر بیورو چیف سید نصیر حسین زیدی دعا ان لاین نیوز سکھر میں سیلز مینوں کا بدامنی کے خلاف احتجاج، تحفظ اور لوٹی گئی املاک کی بازیابی کا مطالبہ

IMG-20260130-WA0276

سکھر بیورو چیف سید نصیر حسین زیدی دعا ان لاین نیوز
سکھر میں سیلز مینوں کا بدامنی کے خلاف احتجاج، تحفظ اور لوٹی گئی املاک کی بازیابی کا مطالبہ

سکھر (بیورورپورٹ)سکھر سیلز ویلفیئر اتحاد ایسوسی ایشن سکھر زون کے زیرِ اہتمام سکھر پریس کلب کے سامنے ایک پرامن احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں سکھر، روہڑی اور ملحقہ علاقوں میں سیلز مینوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی بدامنی، چوری، ڈکیتی اور اسنیچنگ کی وارداتوں کے خلاف شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔احتجاج میں شریک سیلز مینوں نے بتایا کہ وہ روزگار کے سلسلے میں دیہاتوں، شہروں اور مختلف اضلاع کا رخ کرتے ہیں، تاہم انہیں کسی قسم کا تحفظ حاصل نہیں۔ آئے دن ان سے موٹر سائیکلیں، موبائل فون، نقد رقم اور شناختی دستاویزات چھین لی جاتی ہیں، مگر پولیس کی جانب سے نہ تو مؤثر کارروائی کی جاتی ہے اور نہ ہی متاثرین کی دادرسی ہوتی ہے۔احتجاج کے دوران متاثرہ سیلز مین محمد افسر علی راجپوت نے بتایا کہ دسمبر 2024 میں ان کے گھر سے تالہ توڑ کر نئی اپلائیڈ موٹر سائیکل (ماڈل 2024) چوری کی گئی، جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود ہے۔ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود دو سال گزرنے کے بعد بھی موٹر سائیکل برآمد نہ ہو سکی، جس کے باعث وہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہو چکے ہیں۔اسی طرح متاثرہ سیلز مین ریحان علی شاہ نے بتایا کہ دورانِ ڈیوٹی انہیں نامعلوم مسلح افراد نے روک کر موبائل فون، نقد رقم، شناختی کارڈ، اے ٹی ایم کارڈ اور دیگر قیمتی سامان چھین لیا۔پولیس کو اطلاع دینے کے باوجود نہ این سی کا اندراج کیا گیا اور نہ ہی مؤثر تفتیش عمل میں لائی گئی۔احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے سکھر سیلز ویلفیئر اتحاد کے وائس پریزیڈنٹ عبدالغفور، جنرل سیکریٹری علی رضا اور صدر سعید اعوان نے کہا کہ سیلز مین ہینڈ ٹو ماؤتھ کمائی کرنے والے محنت کش افراد ہیں، جن کے لیے موبائل فون اور موٹر سائیکل روزگار کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ اگر یہ چھن جائے تو پورا گھرانہ فاقہ کشی پر مجبور ہو جاتا ہے۔رہنماؤں نے کہا کہ سکھر میں سینکڑوں سیلز مین روزانہ مختلف اضلاع جیسے لاڑکانہ، شکارپور، جیکب آباد اور دیگر علاقوں کا سفر کرتے ہیں اور راستوں میں وارداتوں کا نشانہ بنتے ہیں، مگر پولیس کی عدم توجہی کے باعث جرائم پیشہ عناصر کے حوصلے بلند ہو رہے ہیں۔احتجاج میں شامل رہنماؤں اور متاثرین نے ڈی آئی جی سکھر، ایس ایس پی سکھر، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ سیلز مینوں کو فوری طور پر تحفظ فراہم کیا جائے۔لوٹی گئی موٹر سائیکلیں، موبائل فون اور نقد رقم برآمد کرائی جائے۔متاثرین کی ایف آئی آرز بلا تاخیر درج کی جائیں۔پولیس کے رویے اور کارکردگی کا نوٹس لیا جائے۔احتجاجی مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات پر فوری عملدرآمد نہ ہوا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا، تاہم انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کا احتجاج پرامن رہے گا۔