کوکومو،چلی ملی اور چونسا آم تحریر. ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور سلسبیل شاہ کو سب پیار سے سیمی ہی کہتے تھے تھی
کوکومو،چلی ملی اور چونسا آم
تحریر. ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
سلسبیل شاہ کو سب پیار سے سیمی ہی کہتے تھے تھی بھی بہت پیاری، چٹا سفید دودھیا رنگ، جسے پانے کے لیے ہم مشرقی اور خاص طور پر انڈو پاک کے لوگ کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار رہتے ہیں ، اللہ پاک کی رازق ذات نے رزق کا وعدہ تو ٹنوں وزنی جانوروں سے بھی کر رکھا ہے اور وہ پالن ہار اپنے وعدے میں پورا ہے، مگر ہم انسانوں کو رزق کی وافر فراہمی بھی اسی کا کمال ہے تو رنگ گورا کرنے کے تمام کاروبار بھلے وہ کاسمیٹیکس ہوں، ہومیوپیتھی ادویات و کریمیں ہوں، ایلو پیتھک ادویات ہوں، دیسی جڑی بوٹیاں ہوں یا قہوے، یہ بات طے ہے کہ ان گورے کرنے والوں کے بھاشن اور وعدے بھلے جھوٹ کا پلندہ ہی کیوں نہ ہوں ان کے کاروبار ہمیشہ ترقی در ترقی کرتے رہیں گے کیونکہ بھلے ہم اور آپ شعور کی جتنی بھی سیڑھیاں چڑھ چکے ہیں ہمارے اور آپ کے نزدیک حسن کا معیار صرف اور صرف چٹا رنگ ہی ہے. سلسبیل، جسے سب پیار سے سیمی کہتے تھے کی شادی سات سمندر پار ایک کارڈیالوجسٹ سے ہوی تھی، ارینج میرج تھی، اکلوتے بیٹے کے والدین نے سینکڑوں رشتے ٹھکراے تھے،
اچھی تعلیم و تربیت اور اکلوتے بیٹے کے والدین نے پورے استحقاق اور مان سے اپنے بیٹے کے لیے نسبتاً بھولی بھولی اور اس امیر گھر کی خوش شکل، خوش لباس، خوش اطوار اور خوش ادا بیٹی کو پسند کیا، سچ پوچھیے تو میرا اس بات پہ مکمّل یقین ہے کہ جوڑے آسمانوں پہ بنتے ہیں، روحیں، ایک جیسی روحوں کی متلاشی ہوتی ہیں.خیر ہمیشہ ایک سے لوگ ہی ایک دوسرے کی زوجیت میں آتے ہیں اور تجربے سے یہ بات ثابت ہوی ہے کہ ساتھ ساتھ رہنے والے میاں بیوی کی عادتیں تو ایک جیسی ہو ہی جاتی ہیں، دیکھنے والوں کو بھی ایک دوسرے کے بہن بھائی ہی لگتے ہیں.
خیر بات ہو رہی تھی، سیمی شاہ کے حسن بے مثال کی گورا چٹا رنگ، لمبے پشت تک لہراتے ہوئے گھنے بال، بڑی بڑی گہری جھیل سی آنکھیں، گالوں پہ پڑنے والے دلنشیں ڈمپل تو حسن میں بے پناہ اضافے کا منہ بولتا ثبوت تھے. خیر سیمی کی شادی ایک پڑھی لکھی فیملی کے انتہائی پڑھے لکھے سپوت سے ہو گءی، باقی سب کچھ ٹھیک تھا مگر یہ فیملی عرصہ دراز سے باہر سیٹ تھی تو سیمی کو بھی شادی کے بعد اپنے شوہر نامدار کے ساتھ باہر ہی سیٹ ہونا پڑا زندگی ہنسی خوشی گزر رہی تھی سیمی کے اوپر تلے دو بیٹے ہو گیے، سیمی گھر گرہستی میں پور پور غرق ہو گءی، پانچ برس کا عرصہ پلک جھپکتے ہی گزر گیا، سیمی کے والدین سیمی سے ملنے کے لیے تیار ہوے تو جانے سے پہلے انھوں نے لاڈلی بیٹی سے پوچھا آپ کے لیے کیا لے کر آءیں، اس ایک سوال نے سیمی کو بچپن کی بھول بھلیوں میں لا پھینکا اس نے بڑی حسرت سے اپنے دیس کو یاد کیا جہاں بہتی ہوی ندیاں اور بلند و بالا پہاڑ تھے، جہاں آموں کے موسم میں لوگ مست ہو کے آموں کی مٹھاس کشیدتے تھے، جہاں گھر کی قریبی مارکیٹ میں شام کو سارے بچے کوکو مو بسکٹ اور چلی ملی کی کھٹاس سے لطف اندوز ہوتے تھے، سیمی نے بڑی حسرت سے اپنی ماں سے کہا ماں یہاں پردیس میں باقی تو ہر شے مل جاتی ہے بس چونسا آم، چلی ملی اور کو کو مو بسکٹ نہیں ملتے، وہ لیتی آنا، تو یاد رکھیے ہمارے ذایقے بھی کبھی کبھی ہمارے لیے موجہ حسرت بن جاتے ہیں.
پراے دیسوں میں رہنے والو
ہجر کے سب غم اے سہنے والو
ہو خیر پیارو
اے دیپ تارو
پراے دیسوں میں جا کے رہنا
پراے دیسوں سے دل لگانا
بہت کٹھن ہے
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
Punnam.naureenl@icloud.com