جرم چھپانے کے نت نئے طریقے : ساہیوال میں پیش آیا ایک افسوسناک واقعہ : مبینہ طور پر حسد کی آگ میں مبتلا لیڈی ڈاکٹر نے ایم بی بی ایس کی سٹوڈنٹ اپنی
جرم چھپانے کے نت نئے طریقے : ساہیوال میں پیش آیا ایک افسوسناک واقعہ : مبینہ طور پر حسد کی آگ میں مبتلا لیڈی ڈاکٹر نے ایم بی بی ایس کی سٹوڈنٹ اپنی کزن کو ڈیلیوری کے دوران موت کے گھاٹ اتار دیا ۔۔۔۔ جرم کا پردہ کیسے فاش ہوا ؟؟؟ ساہیوال کی ایرج کی شادی ہوئی تو سسرال والوں نے لڑکی کا شوق اور قابلیت دیکھتے ہوئے اسے تعلیم جاری رکھنے کی اجازت دی ، ایرج تعلیم کے ہر سال میں ٹاپر رہی وہ لاہور سے ایم بی بی ایس پارٹ ون کی تعلیم حاصل کررہی تھی اس دوران یہ حاملہ ہوئی تو اکتوبر 2025 میں اسکی کزن ڈاکٹر سحرش اسے ایک پرائیویٹ ہسپتال لے گئی تاکہ وہاں ڈیلیوری ہو ، ڈیلیوری بھی وقت سے 15 دن قبل کی گئی ، آپریشن ڈاکٹر سحرش نے خود کیا جبکہ وہ سرجن ڈاکٹر نہیں محض ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہے ۔۔۔ آپریشن کےد وران ایرج فوت ہو گئی جبکہ ایک بچی دنیا میں آتے ہی یتیم ہو گئی ، ایرج کی تدفین کے بعد اسکا سسر اور شوہر ڈپٹی کمشنر کے پاس گئے اور اس واقعہ پر میڈیکل بورڈ بنانے کا مطالبہ کیا ، بورڈ نے ڈاکٹر سحرش کو طلب کیا اور پوچھا کہ آپ نے یہ آپریشن کیوں کیا تو اس نے تسلیم کیا کہ اس نے واقعی جرم کیا ہے جو اسے نہیں کرنا چاہیے تھا ، ایرج کا شوہر اور سسر بضد ہیں کہ ڈاکٹر سحرش نے ایرج کو جان بوجھ کر حسد میں مبتلا ہو کر جان سے مارا ہے ۔۔۔۔۔ آپ کے خیال میں کیا متوفیہ ایرج کے سسرال والوں کا الزام درست ہے اور کیا اس واقعہ میں ڈاکٹر سحرش کو مجرمانہ غفلت کی سزا ملنی چاہیے ؟؟اپنی رائے کمنٹس میں دیں