September 3, 2026
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

سرگودھا( راجہ نورالہی عاطف سے) ڈپٹی کمشنر سرگودھا کیپٹن (ریٹائرڈ) محمد وسیم کی زیر صدارت ضلعی انسداد پولیو کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ جس

IMG-20260128-WA0172
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

سرگودھا( راجہ نورالہی عاطف سے) ڈپٹی کمشنر سرگودھا کیپٹن (ریٹائرڈ) محمد وسیم کی زیر صدارت ضلعی انسداد پولیو کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں 2 سے 5 فروری تک جاری رہنے والی انسداد پولیو مہم کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ مہم کے دوران ضلع سرگودھا میں 7 لاکھ 9 ہزار 266 بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ضلع کی 167 یونین کونسلز میں مجموعی طور پر 3 ہزار 331 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جن میں 3 ہزار 36 موبائل ٹیمیں، 206 فکسڈ ٹیمیں اور 89 ٹرانزٹ ٹیمیں شامل ہیں۔ مہم میں 4 ہزار سے زائد رضاکار، 275 ایجوکیشن اسٹاف اور 18 دیگر محکموں کے اہلکار بھی حصہ لیں گے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ انسداد پولیو مہم میں مائیکرو پلان پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ فیلڈ میں اسٹاف کی مانیٹرنگ کو سخت کیا جائے اور محکمہ صحت کے افسران خود فیلڈ میں موجود رہ کر ٹیموں کی نگرانی کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتظامی افسران بھی فیلڈ وزٹس کریں گے تاکہ مہم کے دوران ٹارگٹس کے حصول اور معیار کو برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ پولیو ٹیموں سے بھرپور تعاون کریں اور اپنے بچوں کو قطروں سے محروم نہ رہنے دیں تاکہ پولیو وائرس کا مکمل خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔
بعد ازاں ڈپٹی کمشنر سرگودھا کی زیر صدارت حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام (ای پی آئ) کے جائزہ اجلاس کا انعقاد بھی کیا گیا، جس میں بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ای پی آئی پروگرام کی حکمت عملی، ویکسینیشن کوریج، فیلڈ ورک، کولڈ چین نظام اور کمیونٹی آؤٹ ریچ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کا مقصد بچوں کو پولیو کے علاوہ دیگر موذی اور جان لیوا بیماریوں سے بچانا ہے تاکہ ہر بچہ محفوظ اور صحت مند زندگی گزار سکے۔ اجلاس میں شریک افسران نے کہا کہ ویکسین کی فراہمی اور سرویلنس کو مزید موثر بنانے کے اقدامات پر کام جاری ہے اور بچوں تک حفاظتی ٹیکوں کی رسائی بڑھانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جا رہی ہیں۔

google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0