September 3, 2026
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

سکھر بیورو چیف سید نصیر حسین زیدی سکھر: سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ نے سرکاری جھیلوں سے مچھلی کے شکار کے ٹھیکوں سے متعلق

IMG-20260903-WA0233
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

سکھر بیورو چیف سید نصیر حسین زیدی
سکھر: سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ نے سرکاری جھیلوں سے مچھلی کے شکار کے ٹھیکوں سے متعلق دائر کی گئی دو درخواستوں کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران ڈویژنل فاریسٹ آفیسر سکھر ضیاء اللہ لغاری، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور دیگر متعلقہ افسران عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس ارباب علی ہکڑو اور جسٹس محمد عثمان علی ہادی پر مشتمل آئینی بینچ نے سندھ حکومت کے محکمہ جنگلات کے خلاف شاہنواز مہر اور محمد ایاز بلوچ کی جانب سے دائر درخواستوں نمبر 846/2020 اور 927/2020 کی سماعت کی۔
درخواست گزاروں کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے محکمہ جنگلات کے افسر سے معاملے کے بارے میں استفسار کیا۔ اس موقع پر ڈویژنل فاریسٹ آفیسر سکھر ضیاء اللہ لغاری نے عدالت کو بتایا کہ یہ ایک پرانا معاملہ ہے۔ کلر بلاک میں مچھلی کے شکار کا ٹھیکہ حکیم علی جتوئی کو ایک سال کی مدت کے لیے دیا گیا تھا، جس کی مدت جون 2021ء میں ختم ہو چکی ہے۔
انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ محکمہ جنگلات نے سال 2026ء کے لیے جھیلوں میں مچھلی کے شکار کے نئے اشتہارات جاری کر دیے ہیں، تاہم کلر بلاک کا ٹھیکہ تاحال کسی ٹھیکیدار کو نہیں دیا گیا۔ کوئی بھی خواہشمند ٹھیکیدار محکمہ جنگلات کے دفتر سے رابطہ کر سکتا ہے، جس کی درخواست پر قانون کے مطابق غور کیا جائے گا۔
عدالت نے دلائل اور محکمہ جنگلات کا مؤقف سننے کے بعد دونوں درخواستیں مسترد کرتے ہوئے محکمہ جنگلات کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔

google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0