مٹھہ ٹوانہ کے نامور معلم ملک شوکت حیات شاہی کھرل کے اعزاز میں یادگار الوداعی تقریب خصوصی تحریر: راجہ نورالٰہی عاطف
مٹھہ ٹوانہ کے نامور معلم ملک شوکت حیات شاہی کھرل کے اعزاز میں یادگار الوداعی تقریب
خصوصی تحریر: راجہ نورالٰہی عاطف
زندگی کے سفر میں کچھ لوگ ایسے ملتے ہیں جن کی موجودگی محض ایک فرد کی موجودگی نہیں ہوتی بلکہ وہ اپنے کردار، اخلاص اور محبت سے پورے ماحول کو متاثر کرتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں ایسے اساتذہ کی قدر و منزلت مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ ایک استاد صرف کتاب کا سبق نہیں پڑھاتا بلکہ وہ نسلوں کے کردار کی تعمیر کرتا ہے۔ ملک شوکت حیات شاہی کھرل بھی ایک ایسی ہی باوقار شخصیت ہیں، جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا ایک طویل عرصہ تعلیم و تربیت اور طلبہ کی رہنمائی کے لیے وقف کیا۔
گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول مٹھہ ٹوانہ کے سینئر ٹیچر ملک شوکت حیات شاہی کھرل کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر ادارے کی جانب سے منعقدہ پروقار الوداعی تقریب بلاشبہ ایک یادگار تقریب تھی۔ بظاہر یہ ایک استاد کی ملازمت سے سبکدوشی کا موقع تھا، مگر حقیقت میں یہ ان کی طویل تعلیمی خدمات، سماجی وابستگی، حسنِ اخلاق اور رفقائے کار سے محبت کا اعتراف تھا۔
تقریب میں ایکس ڈی ای او سیکنڈری سکولز خوشاب ملک فضل الٰہی فضل نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی، جبکہ صدارت ادارے کے پرنسپل ملک محمد رمضان نے کی۔ تقریب میں ایکس پرنسپل چوہدری اللہ رکھا، اسسٹنٹ ڈائریکٹر ملک محمد قاسم، پنجاب ٹیچرز یونین ضلع خوشاب کے صدر ملک محمد امتیاز اعوان، چیئرمین پنجاب ایجوکیٹرز یونین ضلع خوشاب ملک صاحب خان، ایکس پریذیڈنٹ پی ٹی یو تحصیل نورپور تھل ملک صابر حسین جسرا، سینئر ٹیچر ملک عبدالغفور غفاری، معروف سماجی کارکن ملک فخر اقبال رتیال ٹوانہ، ملک ظہیر عباس جسرا، ایپکا کے مقامی صدر حاجی احمد سمیت سکول ہذا کے اساتذہ اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔
ملک شوکت حیات شاہی کھرل کی ادارے میں آمد پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرکے پرتپاک استقبال کیا گیا۔ یہ منظر اپنی جگہ ایک مکمل داستان تھا۔ پھولوں کی یہ پتیاں دراصل ان کے لیے برسوں کی رفاقت، محبت اور احترام کی علامت تھیں۔ کسی استاد کے لیے اس سے بڑا اعزاز اور کیا ہوسکتا ہے کہ جب وہ اپنے ادارے سے رخصت ہو تو اس کے ساتھی اسے محبت اور عزت کے ساتھ الوداع کہیں۔
تقریب کی نظامت کے فرائض ٹیچر محبوب الٰہی نے انتہائی خوبصورتی اور خوش اسلوبی سے انجام دیے۔ مقررین نے اپنے خطاب میں ملک شوکت حیات شاہی کھرل کی تعلیمی اور سماجی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے تدریسی فرائض کو محض ملازمت نہیں سمجھا بلکہ اسے ایک مقدس ذمہ داری تصور کرتے ہوئے نسلِ نو کی تعلیم و تربیت میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔
یہ حقیقت ہے کہ استاد معاشرے کا وہ معمار ہے جس کے ہاتھ میں اینٹ اور گارا نہیں بلکہ قلم، علم اور کردار ہوتا ہے۔ وہ جس ذہن کو چھوتا ہے، اس پر اپنی شخصیت کے نقوش چھوڑ جاتا ہے۔ اس کے پڑھائے ہوئے شاگرد جب زندگی کے مختلف شعبوں میں کامیاب ہوتے ہیں تو دراصل وہ اپنے استاد کی محنت کا ثمر بن کر سامنے آتے ہیں۔
ملک شوکت حیات شاہی کھرل کے اعزاز میں ہونے والی اس تقریب کی خوبصورتی یہ بھی تھی کہ ان کے ساتھی اساتذہ نے انہیں تحائف پیش کیے۔ یہ تحائف محض اشیاء نہیں بلکہ برسوں پر محیط رفاقت، محبت اور یادوں کی علامت تھے۔ ایسے لمحات میں الفاظ کم پڑ جاتے ہیں اور جذبات آنکھوں سے جھلکنے لگتے ہیں۔
اپنے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملک شوکت حیات شاہی کھرل نے تمام رفقائے کار کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ ان کے لہجے میں اپنے ساتھیوں کے لیے محبت اور ادارے کے ساتھ وابستگی صاف محسوس کی جا سکتی تھی۔ یقیناً برسوں تک کسی ادارے میں خدمات انجام دینے کے بعد وہاں سے رخصت ہونا آسان نہیں ہوتا۔ کلاس روم، طلبہ، ساتھی اساتذہ، روزمرہ کی مصروفیات اور بے شمار یادیں انسان کے دل میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوجاتی ہیں۔
ریٹائرمنٹ دراصل ملازمت کا اختتام ہے، خدمت کا نہیں۔
ایک استاد سرکاری عہدے سے سبکدوش ہوسکتا ہے، مگر اس کی تعلیم، تربیت اور کردار سازی کا اثر کبھی ریٹائر نہیں ہوتا۔ ملک شوکت حیات شاہی کھرل بھی اب اپنی ملازمت سے ضرور رخصت ہوئے ہیں، لیکن ان کے شاگردوں کی کامیابیوں، ساتھیوں کی یادوں اور ادارے کی تاریخ میں ان کا کردار ہمیشہ زندہ رہے گا۔
گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول مٹھہ ٹوانہ کی یہ خوبصورت تقریب اس بات کا عملی ثبوت تھی کہ عہدے ختم ہوجاتے ہیں، مگر اچھے کردار اور مخلص خدمات انسان کو ہمیشہ زندہ رکھتے ہیں۔ ملک شوکت حیات شاہی کھرل نے اپنے تدریسی سفر میں جو عزت کمائی، وہ کسی سرکاری اعزاز سے کم نہیں۔
آج جب وہ عملی زندگی کے ایک اہم مرحلے سے سبکدوش ہو رہے ہیں تو ان کے لیے دل سے یہی دعا نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت، خوشی، سکون، عزت اور خوشیوں بھری طویل زندگی عطا فرمائے۔ ان کی علمی، تعلیمی اور سماجی خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے اور انہیں اپنے خاندان، دوستوں، شاگردوں اور احباب کے درمیان ہمیشہ خوش و خرم رکھے۔
کچھ لوگ اداروں سے رخصت ہوتے ہیں، مگر ادارے کی یادوں سے کبھی رخصت نہیں ہوتے۔ ملک شوکت حیات شاہی کھرل بھی یقیناً انہی لوگوں میں سے ایک ہیں۔