*مولانا فضل الرحمان کا مطالبہ منظور، حکومت کل آئینی ترمیم لائے گی، چیف جسٹس کو ایکسٹنشن نہ دینے کا فیصلہ*
*مولانا فضل الرحمان کا مطالبہ منظور، حکومت کل آئینی ترمیم لائے گی، چیف جسٹس کو ایکسٹنشن نہ دینے کا فیصلہ*
*پی ٹی آئی کا ممکنہ قانون سازی پر اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ*
ججز کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر حکومت کی عدالتی اصلاحات پارلیمان میں کل پیش کی جائیں گے، حکومت نے چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کی عمر نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے اس حوالے سے اتحادیوں اور اپنے اراکین پارلیمنٹ کو آگاہ کردیا ہے اور ارکان کو کل پارلیمنٹ میں حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی نے ممکنہ قانون سازی پر اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے کسی جج کو ایکسٹینشن نہ دینے کا مولانا فضل الرحمان کا مطالبہ مان لیا ہے اور چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کی عمر نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ آج قومی اسمبلی عدالتی اصلاحات کیلئے آئینی ترمیم پیش کی جائے گی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اطلاعات موصول ہوئی کہ حکومت کی جانب سے پارلیمان میں آئینی ترمیم اتوار کو پیش کئے جانے کا امکان ہے۔
وزیراعظم شہبازشریف کی ن لیگ اوراتحادی اراکین کو پیرتک اسلام آباد میں رہنے کی ہدایت کے بعد ان قیاس آرائیوں نے مزید زور پکڑا کہ آج آئینی ترمیم بل پیش نہیں کیا جا سکے گا۔
خیال رہے کہ آئینی ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ کے ججز کی ریٹائرمنٹ کی عمر اڑسٹھ اور ہائیکورٹ کے ججز کی ریٹائرمنٹ کی عمر پینسٹھ سال کی جائے گی۔ چیف جسٹس کی مدت میں تین سال توسیع ہوگی۔
اس ضمن میں گزشتہ روز حکومتی حلقوں نے کہا تھا کہ آئینی ترمیم کے لیے درکار نمبر گیم پورے ہیں اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ چار اراکین آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیں گے۔
ذرائع کے مطابق سینٹرل پنجاب سےتعلق رکھنے والے دو اراکین بھی ووٹ دے سکتے ہیں، دونوں کا تعلق سنی اتحاد کونسل سے ہے، سابقہ فاٹا اورجنوبی پنجاب کےایک ایک رکن بھی ووٹ دیں گے۔
ذرائع کے مطابق دونوں اس وقت ُ آزاد اراکین ہیں لیکن اپوزیشن بنچوں پر بیٹھے ہیں۔ خیال رہے کہ حکومت نے کل اہم آئینی ترمیم لانے کے لیے سینٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس طلب کیے ہیں۔ حکومت نے آئینی ترمیم کے لئے دونوں ایوانوں میں نمبر گیم پورے ہونے کا دعویٰ پہلے ہی سامنے آچکا ہے۔
دوسری جانب قومی اسمبلی اجلاس کے بعد اپوزیشن نے پارلیمنٹ ہاؤس میں ہنگامی پارلیمانی پارٹی اجلاس طلب کیا، جس میں بیر سٹرگوہر، اپوزیشن لیڈر عمرایوب خان، شیر افضل مروت، زرتاج گل، عامر ڈوگر، اسد قیصر اور زین قریشی شریک ہوئے۔