کار کو ونیلا آئس کریم سے الرجی کاریں بنانے والے ایک بڑی کمپنی کو ایک تحریری شکایت ملی کہ ان کی کار کو ونیلا فلیور کی آئس کریم سے الرجی ہے ۔ شکایت کرنے والے نے لکھا کہ وہ رات کو ڈنر کے بعد فیملی کے ساتھ آئس کریم
کار کو ونیلا آئس کریم سے الرجی
کاریں بنانے والے ایک بڑی کمپنی کو ایک تحریری شکایت ملی کہ ان کی کار کو ونیلا فلیور کی آئس کریم سے الرجی ہے ۔
شکایت کرنے والے نے لکھا کہ وہ رات کو ڈنر کے بعد فیملی کے ساتھ آئس کریم کھانے جاتا ہے اورجس دن وہ ونیلا فلیور کی آئس کریم کھاتا ہے، کار سٹارٹ ہونے کا نام نہیں لیتی ۔ مگر یہ دقت کسی اور فلیور کے آئس کریم کے ساتھ نہیں ہوتی ۔
کمپنی والوں نے پہلے تو اس شکایت کو نظر انداز کیا۔ کیونکہ کار اور آئس کریم کے کسی فلیور کا کیا واسطہ ۔ مگر دوسری بار جب اسی کسٹمر نے پھر سے یہی شکایت کی تو بات کمپنی کے اعلیٰ حکام کے پاس پہنچی اور اب انہوں نے اس شکایت کو سنجیدگی سے لیا ۔ کمپنی کی طرف سے ایک انجنئیر کو کسٹمر کے پاس بھیجا گیا۔
انجنئیر نے کسٹمر سے سارا قصہ سنا۔ رات کو وہ اس کے ساتھ گیا۔ کسٹمر نے چاکلیٹ فلیور کی آئس کریم لی ۔ واپس آئے تو کار سٹارٹ ہوگئی ۔ دوسری رات سٹرابری فلیور کی لی تو پھر بھی آسانی سے سٹارٹ ہوگئی ۔ تیسری رات ونیلا فلیور کی باری آئی ۔ وہ آئس کریم لے کر آیا تو واقعی کار اسٹارٹ نہیں ہوئی ۔ انجنئیر کو کچھ سمجھ نہیں آیا کہ کیا معاملہ ہے۔ ونیلا فلیور کی آئس کریم لانے سے کار سٹارٹ کیوں نہیں ہوتی ۔ ظاہر ہے کچھ تو مسٔلہ تھا ۔ انجنئیر نے تحقیق جاری رکھی ۔ وہ رات کو آئس کریم کھانے جاتے رہے۔
کچھہ دن بعد انجنئیر نے ایک بات نوٹ کی کہ ونیلا فلیور کی آئس کریم خریدتے ہوئے کم وقت لگتا تھا وہ چند منٹ میں ہی واپس آجاتے تھے ۔ ایسا اس لئے تھا کہ ونیلا فلیور کی آئس کریم کی ڈیمانڈ بہت زیادہ تھی ۔ اسلئے آئس کریم پارلر والوں نے ونیلا فلیور آئس کریم کا ایک کاؤنٹر پارلر کے باہر بھی لگا رکھا تھا، جہاں سے آئس کریم فوراََ مل جاتی تھی ۔ باقی فلیورز کیلئے اندر جانا پڑتا تھا اور کچھ دیر لگتی تھی۔
انجنئیر نے حساب لگایا جب کار کو جلد ہی دوبارہ سٹارٹ کیاجاتا ہے تو وہ اسٹارٹ نہیں ہوتی ۔ انجنئیر نے سوچا کہ مسٔلہ ونیلا فلیور آئس کریم کا نہیں ٹائم کا ہے جس کی وجہ سے کار سٹارٹ نہیں ہوتی۔۔ بالاخر اس نے وجہ ڈھونڈ ہی لی ۔ وہ تھی Vapour Lock
کسٹمر ونیلا فلیور کے علاوہ کسی فلیور کی آئس کریم خرید کرلاتا تو کار کے انجن کو ٹھنڈا ہونے کا وقت مل جاتا اور کار آسانی سے اسٹارٹ ہوجاتی ۔ ونیلا فلیور کی آئس کریم جلدی مل جاتی تھی ۔ وقت کم لگتا تھا اور اس طرح کارکے انجن کو ٹھنڈا ہونے کا وقت ہی نہیں مل پاتا تھا ۔۔
اکثر مسٔلے اسی طرح کے ہوتے ہیں۔
ضرورت یہ سمجھنے کی ہوتی ہے کہ مسٔلہ ہے کیا۔ غوروفکر سے ہر مسٔلہ سمجھا اور اس کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔ ” Why ” اور ” How ” بہت اہم ہیں۔
صحافت کا بھی یہ اصول ہے کہ خبر کو کئی Ws کا جواب دینا چاہئیے
What , Where , Why , When ,Who , Whom ( & How )