October 28, 2026

سافٹ ویئر اپڈیٹ ایک تحریر کا جواب سب سے پہلی اور بنیادی بات یہ ہے کہ زنا کبھی درست نہیں ہو جاتا، چاہے حالات کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں۔ قرآن صاف اعلان کرتا ہے:

FB_IMG_1768152560370

سافٹ ویئر اپڈیٹ
ایک تحریر کا جواب
سب سے پہلی اور بنیادی بات یہ ہے کہ زنا کبھی درست نہیں ہو جاتا، چاہے حالات کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں۔
قرآن صاف اعلان کرتا ہے:
“زنا کے قریب بھی نہ جاؤ، بے حیائی اور بدترین راستہ ہے”۔
یہ حکم کسی شرط کے ساتھ نہیں، نہ غربت کی رعایت ہے، نہ جذبات کی، نہ شوہر کی کمزوری کی۔
یہ کہناکہ
“عورت نے جو کیا ٹھیک کیا” کھلی گمراہی ہے۔ اگر عورت مظلوم ہے، اگر شوہر میں واقعی کوئی کمی ہے، تو شریعت نے واضح اور باعزت راستے دئیے ہیں: اصلاح، خاندان کی مداخلت، طلاق یا خلع۔
کسی تیسرے مرد کے ساتھ تعلق نہ انصاف ہے، نہ حل، نہ عزت — بلکہ ایک اور گناہ ہے۔
اس تحریر میں “لمس” کو مردانگی کا معیار بنا دیا گیا ہے، جو انتہائی سطحی اور حیوانی سوچ ہے۔ مردانگی صرف جنسی طاقت کا نام نہیں،
بلکہ ذمہ داری، وفاداری، حفاظت، غیرت اور حیا کا نام ہے۔ اگر لمس ہی سب کچھ ہے تو نکاح، وفا، خاندان اور شریعت سب بے معنی ہو جاتے ہیں۔
پھر بھائیوں کو مجرم بنا کر زنا کو درست ٹھہرانا بھی ایک خطرناک منطق ہے۔ بھائی غلط ہو سکتے ہیں، شادی غلط ہو سکتی ہے، مگر اس کا حل بدکاری نہیں۔ اگر ہر گناہ کا جواز کسی اور کی غلطی بنا لیا جائے تو معاشرہ جنگل بن جاتا ہے۔
یہ کہنا کہ “وہ گناہ نہیں چاہتی تھی، نکاح چاہتی تھی” بھی خود اپنے اندر تضاد رکھتا ہے۔ اگر نکاح مقصود تھا تو زنا کیوں کیا گیا؟
اسی طرح غربت کو زنا کا جواز بنانا بھی باطل ہے۔ نبی ﷺ نے نکاح کی استطاعت نہ رکھنے والوں کو ضبطِ نفس اور روزے کا راستہ بتایا، نہ کہ حرام کو ہیرو ازم۔
تحریر میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ “ننگے وہ نہیں، ننگا معاشرہ ہے”۔ حقیقت یہ ہے کہ ننگا وہ معاشرہ نہیں بلکہ وہ ضمیر ہے جو زنا کو ہیرو، وفا کو جرم اور حیا کو دقیانوسیت کہنے لگے۔ ننگی وہ سوچ ہے جو حرام کو حق اور حق کو تماشا بنا دے۔
خلاصہ بالکل واضح ہے: عورت مظلوم ہو سکتی ہے مگر زنا پھر بھی زنا ہی رہتا ہے۔ اس فعل کا دفاع اسلام سے بغاوت، معاشرتی تباہی اور آنے والی نسلوں کی اخلاقی موت کا راستہ ہے۔