علاقہ تھل کے سر سید ، پروفیسر ملک حاجی احمد خان بوڑانہ بھی رخصت ہو گئے
علاقہ تھل کے سر سید ، پروفیسر ملک حاجی احمد خان بوڑانہ بھی رخصت ہو گئے
خصوصی تحریر: راجہ نور الہی عاطف
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
پروفیسر ملک حاجی احمد خان بوڑانہ یکم اپریل 45 19ء کو ضلع خوشاب کی تحصیل نورپورتھل کے گاؤں بوڑانہ والا میں ایک زمیندار گھرانے کے ہاں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد کا نام ملک حاجی عبدالرحمان بوڑانہ تھا ۔ وہ اس گاؤں کے نمبردار بھی تھے ۔ ملک حاجی احمد خان بوڑانہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد شعبہ ء تدریس سے وابستہ ہو گئے ۔ 1965ء میں گورنمنٹ ہائی سکول نور پور تھل میں ان کی تعیناتی عمل میں آئی اور 1983 ء تک اس ادارے میں خدمات سر انجام دیں ۔ بعدازاں ترقی ملنے پر گورنمنٹ ہائی سکول بمبول تھل کے ہیڈ ماسٹر بنے ۔ 1985ء میں ایڈہاک بنیادوں پر بطور لیکچرر سیاسیات گورنمنٹ کالج بھکر تعینات ہوئے۔ لیکچر گورنمنٹ کالج کلورکوٹ بھی تعینات رہے ۔ آپ ہسٹری کے مضمون میں بہت نامور ہوئے ۔ ہسٹری ان کا پسندیدہ مضمون تھا۔ بعد ازاں مستقل طور پر ہسٹری کے پروفیسر مقرر ہوئے ۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم اے ہسٹری کیا ہوا تھا ۔ آپ نے گورنمنٹ ھائی سکول نورپور تھل میں تعیناتی کے دوران تقریبا” 18 سال تک ہسٹری، اسلامیات، انگلش اور مطالعہء پاکستان کے مضامین پڑھائے ۔ آپ کو اپنی کلاس سے متعلق مضامین کی درسی کتابیں ازبر تھیں ۔ آپ کی تدریس کئی لحاظ سے انفرادی اہمیت کی حامل تھی۔ بچوں کی فلاح وبہبود کے لیے ہمیشہ والدین سے قریب رابطہ رکھا۔ غریب اور نادار طلباء کی دامے درمے سخنے اور قدمے بھرپور امداد کی ۔ آپ نے ریٹائرمنٹ کے بعد گورنمنٹ گرلز کالج نورپور تھل میں بلا معاوضہ اعزازی طور پر انگلش پڑھانے کی خدمات بھی پیش کیں۔ پروفیسر ملک حاجی احمد خان بوڑانہ نے اپنی ساری زندگی علاقہ تھل میں تعلیمی ترقی کے لیے وقف کیے رکھی۔ ان کی اس علم دوستی کے اعتراف میں انہیں علاقہ بھر میں علاقہ تھل کے سر سید کے نام سے موسوم کیا گیا ۔ پروفیسر ملک حاجی احمد خان بوڑانہ نے اپنے آبائی گاؤں بوڑانہ والا تھل کے باسیوں کی اجتماعی تعمیر و ترقی کے لیے بھی گرانقدر خدمات سر انجام دیں۔ یہی وجہ ہے کہ تحصیل نورپورتھل کے دیگر علاقوں کی طرح بوڑانہ والا تھل کے باسی بھی دل و جان سے ان کی عزت و تکریم کرتے تھے ۔ وہ پیکر خلوص و وفا تھے۔ ان کی وفا و مروت کی متعدد روشن مثالیں زبان زد عام ہیں۔ گورنمنٹ ہائی سکول نورپور تھل میں تعیناتی کے دوران ہیڈ ماسٹر ملک حاجی مرید حسین کلو مرحوم، پروفیسر ملک غلام حبیب گجر مرحوم اور ایکس اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر راجہ حاجی غضنفر علی کے ساتھ ان کی دوستی مثالی تھی ۔ آپ اپنے دیگر جملہ رفقائے کار اور ادارے کے دیگر سٹاف کے ساتھ بھی ہمیشہ حسن سلوک اور پیار و محبت سے پیش آتے ۔ جب نورپورتھل میں گورنمنٹ انٹر کالج فار بوائز کا قیام عمل میں آیا تو باامرمجبوری اسے جز وقتی طور پر یہاں کی اولڈ سول ڈسپنسری کے چند کمروں میں چلانا پڑا ۔ اس دوران پروفیسر ملک حاجی احمد خان بوڑانہ اس کالج کے ٹیچنگ سٹاف کا حصہ تھے ۔ آپ نے اس ادارے کی اپنی عمارت کے تعمیر کے لیے بھرپور مخلصانہ کردار ادا کیا۔ اس وقت ان ہی کی کوششوں سے سابق وائس چیئرمین بلدیہ نورپورتھل ملک منظور احمد بگا کی سربراہی میں کالج کی عمارت بناؤ کمیٹی تشکیل دی گئی جو انجمن اڑھتیاں کے رہنما حاجی چوہدری رحمت علی، سینیئر صحافیوں ملک محمد حیات جوئیہ ،ایم نوردین ، نمائندہ والدین اور دیگر معززین علاقہ پر مشتمل تھی اور راقم الحروف (راجہ نورالہی عاطف) کو اس کمیٹی کی بطور سیکرٹری انفارمیشن ذمہ داریاں تفویض کی گئیں۔ اللہ تعالی ا کے فضل و کرم سے مسلسل تگ ودو کے نتیجے میں اس کمیٹی اور اہلیان علاقہ کے عمائدین کی بھرپور کوششوں کی وجہ سے کالج ہذا کی اپنی عمارت تعمیر ہوئی ۔ پروفیسر ملک حاجی احمد خان بوڑانہ کا طریقہ ء تدریس ہمیشہ پر اثر ہوا کرتا تھا ۔ راقم الحروف کو ان کا شاگرد عزیز ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے ۔ پوری کلاس پورے انہماک سے ان کے لیکچر کو سنتی اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے دیے ہوئے سبق کی تیاری اسی لیکچر کے دوران ہی ہو جایا کرتی تھی ۔ البتہ ہمارے محسن و مربی پروفیسر ملک حاجی احمد خان بوڑانہ جب اگلے روز کلاس کا جائزہ لیتے تو اگر کسی بچے کے آموختہ سبق میں انہیں کوئی کمی محسوس ہوتی تو وہ سرزنش کے طور پر اپنے شاگرد کی گردن پر ہلکا سا تھپڑ بھی رسید کرتے جس کی وجہ سے ان کا پیریڈ “کھتی” پیریڈ کے نام سے بھی مشہور ہو گیا تھا ۔ پروفیسر ملک حاجی احمد خان بوڑانہ نے گورنمنٹ ہائی سکول فار بوائز نورپور تھل میں تعیناتی کے دوران اپنے ہیڈ ماسٹر اور جملہ رفقاءے کار سمیت دیگر ادارے کے سٹاف کے ساتھ مل کر اس کی تعمیر و ترقی کے لیے بھی مثالی خدمات سرانجام دیں ۔ گورنمنٹ انٹر کالج نورپور تھل کے پرنسپل کی حیثیت سے بھی پروفیسر ملک حاجی احمد خان بوڑانہ نے قابل تقلید مثالی خدمات پیش کیں ۔ اس وقت ان کے شاگردان عزیز کی تعداد ہزاروں میں ہے ۔جو اندرون اور بیرون ممالک میں مختلف شعبہ ہاءے زندگی کے لیے خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔ مثالی ہردلعزیز تعلیمی شخصیت ہونے کی وجہ سے پروفیسر ملک حاج احمد خان بوڑانہ کے شاگردوں کے دلوں میں ان کا احترام اور محبت ہمیشہ موجزن رہتی ۔ ان کے ایک شاگرد عزیز ایکس اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر ملک حاجی محمد نواز جسرہ نے ایک مرتبہ ایک نجی محفل میں بتایا تھا کہ پروفیسر ملک حاجی احمد خان بوڑانہ کی عظیم المرتبت شخصیت کا یہ خاصا تھا کہ آپ ہمیشہ سالانہ میٹرک امتحانات کے موقع پر پیپر شروع ہونے سے لے کر پیپر ختم ہونے تک اپنے شاگردوں کے ساتھ امتحانی سینٹر پر موجود ہوتے اگر اس دوران انہیں کسی قسم کی کوئی مشکل پیش آتی تو ان کی پریشان حالی کے ازالہ کے لیے فوری طور پر اپنا کردار ادا کرتے ۔ قارئین محترم ! تھل کی نامور علم دوست شخصیت پروفیسر ملک حاجی احمد خان بوڑانہ کی تحصیل نورپورتھل کے لیے علمی اور سماجی خدمات کی اتنی طویل فہرست ہے کہ ان کا یہ ایک کالم متحمل نہیں ہو سکتا ۔ لہذا راقم الحروف اس سرسری جائزے پر ہی اکتفا کرتا ہے ۔ علم و آگاہی کی روشنی بکھیرنے والی یہ عظیم المرتبت شخصیت 3 ستمبر 2023ء کو ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گئی ۔
اب علاقہ تھل کی سماجی اور علمی ترقی کے لیے ان کے عظیم مشن کو ان کے صاحبزادے ایکس پریذیڈنٹ تحصیل بار ایسوسی ایشن ایڈووکیٹ ملک مشتاق حسین بوڑانہ، سیئنیر ہیڈ ماسٹر ملک امتیاز حسین بوڑانہ اور ملک ریاض حسین بوڑانہ جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ علاقہ تھل کے سر سید پروفیسر ملک حاجی احمد خان بوڑانہ کا تھل کے نوجوانوں کے نام ان اشعار کی صورت میں پیغام فضا میں گونج رہا ہے ۔
چراغ زندگی ہوگا فروزاں ہم نہیں ہوں گے
چمن میں آئے گی فصل بہاراں ہم نہیں ہوں گے
جوانو اب تمہارے ہاتھ میں تقدیر عالم ہے
تمہیں ہو گے فروغ بزم امکاں ہم نہیں ہوں گے