117

اپنا من بھی ہلکا کر لے اور پرنسپل کا منہ بھی بند کر دے مگر اسے اپنے اور اپنی بچی پہ بے پناہ ترس آیا جس نے مزید ایک اور سال اس اونچی دوکان کے پھیکے پکوان والے سکول نما کاروباری ادارے میں مزید ایک اور سال گزارنا تھا. ہادیہ کی ماں کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو تھے انھیں

اپنا من بھی ہلکا کر لے اور پرنسپل کا منہ بھی بند کر دے مگر اسے اپنے اور اپنی بچی پہ بے پناہ ترس آیا جس نے مزید ایک اور سال اس اونچی دوکان کے پھیکے پکوان والے سکول نما کاروباری ادارے میں مزید ایک اور سال گزارنا تھا. ہادیہ کی ماں کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو تھے انھیں ابھی کل ہی کی بات لگتی تھی جب وہ ہادیہ کو صرف آرٹ کے شوق کی وجہ سے اس سکول میں داخل کروانے آی تھیں لمبی چوڑی فیسیں بھرنے کے بعد ہادیہ کو مضامین کے انتخاب کے مشکل مرحلے میں سے بھی گزرنا پڑا پرنسپل صاحبہ کسی ماہر سیلز گرل کی طرح اپنے سکول کی فتوحات کے قصے یوں بڑھا چڑھا کے بتا رہی تھیں گویا وہ کسی پانی پت کی جنگ کی فاتح رہ چکی ہوں ہادیہ کی والدہ کو ٹاپ کر کے بیرون ملک وظائف پہ داخلہ حاصل کرنے والی طالبات کے نام اور تصاویر پرنسپل صاحبہ بار بار دکھا کے غرور سے اتراتی تھیں گویا پوزیشن ہولڈرز کی پوزیشنز پرنسپل اور سکول کی مرہونِ منت تھیں ایسا نہ تھا. کہتے ہیں نہ کہ دکھ سہییں فاختہ بی اور انڈے کھایں کوے میاں. محنت کر کے پڑھ پڑھ کے اپنے سر کے بال سفید کرنے والوں کے دماغ میں محنت کرنے کا ایک ازلی جنون ہوتا ہے جو انھیں کسی بھی پل چین نہیں لینے دیتا اور پوزیشنز لینے پہ سکول والے اپنی اپنی ہٹیاں چمکانے اور شان و شوکت میں اضافے کے لیے ان پوزیشن ہولڈرز کی تصاویر اور گریڈز بڑے بڑے بورڈز پہ آویزاں کر کے نیے ایڈمیشن کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے. ہاں درمیانے اور نکمے طلبا و طالبات کا ان نام نہاد اونچے سکولوں میں کوئی پرسان حال نہیں ہوتا اور یہ نکمے اساتذۂ اور پرنسپلز ان بچوں اور ان کے والدین کو ہراساں کرنے کا کوی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے. یہ ہے تصویر کا دوسرا رخ مطلب روتے کے ساتھ روتا کوی نہیں اور ہستے کو ہنستا دیکھ سکتا کوئی نہیں. ہادیہ کے ساتھ اور بھی بے تحاشا ایسے طلباء و طالبات ہیں جو ایسے نالائق اور کام چور اساتذۂ کے جبر کا شکار ہو کر یا تو مضمون چھوڑ دیتے ہیں یا ادارہ اور کبھی کبھار زندگی ہی سے منہ موڑ لیتے ہیں. حیف ہے حیف
حیف اس نظام پہ
نام کے جہان پہ
کڑوا کڑوا تھو کوڑی
میٹھا ہاتھ آے نہ
ثنا کو سلیم سے اور سلیم کو ثناء سے بے تحاشا محبت تھی ساتھ مرنے جینے کے وعدے تھے. مگر مرد نے حسب معمول اپنی ضرورت پوری ہونے کے بعد فرضی مجبوری کا رونا رو کے ثناء کو چھوڑ کے صباحت سے شادی کر لی اور ثنا نے اپنے اعتبار اور مان کی بربادی پہ گندم والی گولیاں کھا کے زندگی کو خیر آباد کہہ کے موت کو گلے لگا لیا لوگوں نے کہا لڑکی بدکردار تھی حقیقت میں وفا بے وفائی سے ہار گءی تھی.
نور مقدم اپنے بواے فرینڈ سے ملنے خود گءی تھی آیس پارٹی ہوی یا جسم کی بھوک مٹای گءی مگر نور مقدم کے بہیمانہ قتل نے نور مقدم کو بے گناہ اور اس کے قاتل کو ایک درندے جیسے روپ میں لا دنیا کے سامنے کھڑا کیا تو خدا را کسی بھی مسءلے پہ اپنی راے دینے سے پہلے تمام پہلوؤں پہ ضرور غور کر لیا کریں. کیونکہ
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک پل…… نہیں ہوتا
خدا آپ سب کا حامی و ناصر ہو.
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
drnaureenpunnam@gmail.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں