23

عالمی بےچینی

عالمی بےچینی
تحریر:اللہ نوازخان
allahnawazk012@gmail.com
موجودہ دور میں عالمی طور پر بے چینی بہت زیادہ پھیل گئی ہے۔اس پھیلتی بے چینی نے پوری دنیا کا سکون درہم برہم کر دیا ہے۔سوال یہ ہے کہ یہ بے چینی کیوں پھیل رہی ہے؟اس کی بہت سی وجوہات ہیں،ان میں کچھ قدرتی اور کچھ انسانوں نے خود پیدا کی ہوئی ہیں۔معاشرے میں انسانی حقوق پامال کیے جا رہے ہیں،بلکہ انسانوں کا زندہ رہنا بھی دشوارکردیاگیا ہے۔موسمیاتی تبدیلیاں یا محل وقوع کے اثرات بھی ہیں اور جنگوں نے بھی دنیا کو بدترین نقصان پہنچا دیا ہے،جو عالمی بے چینی کا سبب بنا ہے۔طاقتور ممالک نے کمزور ممالک کی معیشتوں کو مکمل کنٹرول میں لیا ہوا ہے جس سے بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔کئی کمزورممالک میں طاقتور ممالک کی وجہ سے بھوک،بیماریاں،نا انصافی اور دیگر برائیاں عام پائی جاتی ہیں۔ایک جگہ انسان جیٹ طیاروں میں سفر کر رہے ہیں اور کہیں انسان کو پہننے کے لیے جوتے بھی دستیاب نہیں ہیں۔کہیں انسان لگژری زندگی گزار رہےہیں اور کہیں پیناڈول کی گولی بھی دستیاب نہیں۔عدم مساوات نے دنیا میں بے چینی کو عروج پر پہنچایا ہوا ہے۔قرضوں کے نام پر کئی ممالک کی معیشت کو جکڑ دیا گیا ہے جس سے وہ نکل ہی نہیں سکتے۔کہیں سیاسی عدم استحکام پیدا کر کے سیاست کو کنٹرول کر لیا گیا ہے۔جعلی جمہوریت قائم کر کے دعوی کیا جاتا ہے کہ یہاں جمہوریت قائم کر دی گئی ہے۔مختلف قسم کے حربے استعمال کر کے انسانوں کو غلام بنا دیا جاتا ہے۔بعض غلام تو بظاہرآزاد نظر آتے ہیں لیکن حقیقت میں ذہنی غلام ہوتے ہیں۔ایک مخصوص نظریات کی پیروی کرنے پر مجبور کر کے انسانوں کو بدترین زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔افراتفری کا ماحول بنا کر کسی بھی علاقے میں انتشار پھیلا کر مفادات حاصل کر لیے جاتے ہیں۔بہت سی جگہوں پر علاقائی تعصب کو ابھار کر انسانوں کو آپس میں لڑا دیا جاتا ہے اور کہیں کسی نام نہاد نظریے کی بنا پر لڑایا جاتا ہے۔بڑی طاقتیں اپنے من مانے نظریات نافذ کر کے دنیا کو کنٹرول کرنا چاہتی ہیں،جس کا نقصان دنیا کو پہنچ رہا ہے اور دنیا میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔
اس وقت دنیا ایک گلوبل ویلیج کی صورت میں تبدیل ہو چکی ہے اور دنیا کو غلام بنانے کے نظام میں بھی جدت لائی جا رہی ہے۔اقوام متحدہ کا ادارہ بھی موجود ہے لیکن وہ بھی طاقتوروں کو تحفظ دیتا ہے۔معیشت کو کنٹرول کرنے کے لیے ڈالر یا مخصوص کرنسی کا استعمال ضروری ہے،جس سے تیسری دنیا کی عوام شدید بحرانوں کا شکار ہو چکی ہے۔اپنے مفادات کے حصول کے لیے کچھ بھی کر دیا جاتا ہے۔مثال کے طور پر کسی ملک کو اپنے کنٹرول کرنے کے لیے بے تحاشہ بمباری اور دیگر بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنا دیا جاتا ہے۔افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ تباہ کرنے کے لیے یہ جواز گھڑلیاجاتا ہے کہ دہشتگردی کو ختم کیا جا رہا ہے۔دہشتگردی کو ختم کرنے کے نام پر بڑی دہشتگردی جب تک ختم نہیں ہوگی دنیا میں امن نہیں آئے گا۔دنیا میں نظریات اور اخلاقیات صرف کمزوروں کے لیے ہوتے ہیں،اگر کوئی طاقتور چاہے تو ان کو رونددیتا ہے اور کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہوتا۔پوچھنے والا تو چھوڑیے،اس کے مظالم کا تحفظ کر کےاس کو نجات دہندہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔کوئی کمزورملک تھوڑی سی جرات دکھائے تو اس کو عبرت کی مثال بنا دیا جاتا ہے۔عالمی معاشی پابندیاں اور دیگر بائیکاٹ اس ملک کو اس حد تک پہنچا دیتے ہیں کہ وہ مجبورا طاقتوروں کےغلام بن جاتے ہیں۔بہت سے ممالک میں انتشار،سیاسی بے چینی یا دیگر جرائم کو سپورٹ کیا جاتا ہے اور اس طرح ان ممالک کے حکمرانوں کو زیر تابع لا کربہت سے مفاد حاصل کیے جاتے ہیں۔عجیب سا کلیہ نافذ کر دیا گیا ہے کہ طاقتور جو چاہیں حاصل کر لیں اور جو کمزور ہیں کچھ بھی حاصل نہیں کر سکتے۔عالمی طور پر تمام انسانوں کو برابر کہا گیا ہے،لیکن رنگ،نسل اور چند دیگر وجوہات کی وجہ سے کچھ انسانوں کو جانوروں سے بھی بدترسمجھا جاتا ہے۔پانی،خوراک اور دوسری ضروریات پر قبضہ کرکے کروڑوں افراد کو بدترین زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔
عالمی طور پر جو بے چینی پھیلی ہوئی ہے اس پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔برائی کے خلاف تو جنگ کرنی چاہیے لیکن جو برائی عالمی طور پر تسلیم شدہ ہو۔اس کو برائی نہ سمجھا جائے جو طاقتور کہے بلکہ حقیقی طور پر برائی موجود ہو۔مثال کے طور پر غزہ کو تباہ کر دیا گیا ہے،حالانکہ غزہ میں رہنے والے افراد مظلوم تھے لیکن ان کو نشانہ بنایا گیا۔اب ایران کو بھی جنگ میں دھکیل دیا گیا ہے،حالانکہ یہ جنگ شروع نہیں بھی ہو سکتی تھی اگر انصاف پر عمل کیا جاتا۔یوکرین جنگ بھی کئی سالوں سے جاری ہے اور اس جنگ میں بے شمار انسان مارے جا چکے ہیں،یہ بھی ظلم ہے۔کئی علاقوں میں رہنے والے افراد پانی،خوراک،تعلیم،صحت اور دیگر ضروریات سے محروم ہیں۔اسلامی ممالک بھی کمزوری کا شکار ہو چکے ہیں،اگر کوشش کی جائے تو اسلامی ممالک بھی دنیا میں بے چینی کو ختم کر سکتے ہیں۔افسوس کہ اسلامی ممالک کے حکمران بھی اپنے مفادات کا شکار ہیں۔تفرقہ بازی سمیت کئی قسم کے تعصبات کا شکار ہو کر ایک دوسرے کے دشمن بن گئے ہیں۔یہ بھی درست ہے کہ اس وقت سب سے زیادہ مسلمانوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔اگر مسلمان اکٹھے ہو جائیں تو بہت سے مسائل پر قابو پایاجا سکتا ہے بلکہ کہا جا سکتا ہے کہ عالمی بے چینی ختم ہو سکتی ہے۔”اسلامی نظام”عالمی بےچینی کو آسانی سے ختم کر سکتا ہے،بس مسئلہ یہ ہے کہ اسلامی نظام کو قائم کرنے نہیں دیا جاتا۔ابھی وقت ہے کہ عالمی طور پر بے چینی کو ختم کر کےاور امن لاکرانسانوں کو ایک بہترین معاشرہ دستیاب ہو سکتا ہے اگر درست سمت کی طرف سفر کرنا شروع کر دیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں