48

پاکستان کی ثالثی اور امریکہ-ایران جنگ بندی کی امید تحریر: اللہ نواز خان

پاکستان کی ثالثی اور امریکہ-ایران جنگ بندی کی امید
تحریر: اللہ نواز خان
allahnawazk012@gmail.com
ایران اور امریکہ ـاسرائیل جنگ عالمی معیشت کے علاوہ عالمی امن کو بھی متاثر کر رہی ہے۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں،جس سے پاکستان سمیت کئی ممالک متاثر ہو رہے ہیں۔یہ جنگ دو یا تین ملکوں تک محدود نہیں،بلکہ پورے خطے کو لپیٹ میں لے رہی ہے۔ایران ان ممالک کو بھی نشانہ بنا رہا ہے جہاں امریکی اڈے موجود ہیں۔جنگ سے قبل مذاکرات کیے گئے تھے لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے۔مذاکرات کی ناکامی کے بعد امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا۔امریکہ نے ایران پر حملہ خطے میں موجود اڈوں کے ذریعے کیا اور جوابی طور پر ایران نے بھی امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔خطے کے وہ ممالک جہاں امریکی اڈے موجود ہیں وہ ممالک بھی اس جنگ میں شامل ہو گئےکیونکہ امریکی اڈوں کی موجودگی کی وجہ سے ان کی شمولیت تسلیم کر لی گئی۔اس طرح یہ جنگ زیادہ ممالک کو نقصان پہنچا رہی ہے۔اس ماحول میں پاکستان نے جنگ کو روکنے کے لیے کوششیں شروع کر دی ہیں۔یہ بہت ہی بہترین کوشش ہے کہ جنگ کو روکا جائے۔پاکستان کی کوششیں کامیاب ہو رہی ہیں اور اس پر کام بھی شروع ہو گیا ہے۔پاکستان کی حکومت ایران اور امریکہ کے ساتھ رابطے میں رہ کر جنگ کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔29 اور 30 مارچ کواسلام آباد میں ایک میٹنگ بھی ہوئی جس میں سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ شامل تھے۔اس میٹنگ کا ایجنڈا یہ تھا کہ مشرق وسطی میں کشیدگی کا خاتمہ کیا جائے،فوری جنگ بندی اور خطے میں پائیدار امن کے لیے مذاکرات کیے جائیں۔اس جنگ کو روکنے کے لیے پاکستان کی کوششیں بہت نمایاں ہیں، اس لیے اس کی عالمی ساکھ نمایاں ہو رہی ہے۔پہلے مذاکرات میں ثالثی کا کردار عمان اور قطر ادا کرتے تھے،لیکن اب وہ خود جنگ میں شامل ہو چکے ہیں۔پاکستان کے امریکہ کے ساتھ بہت ہی دوستانہ تعلقات ہیں اور ایران ہمسایہ ہونے کے علاوہ اسلامی ملک بھی ہے،اسی لیے دونوں ممالک میں جنگ بندی ایک بہترین عمل ہوگا۔جنگ کی وجہ سے پاکستان میں احتجاج بھی ہوئے ہیں۔ایرانی سپریم لیڈرعلی خامنہ ای کی شہادت کے بعد پاکستان میں احتجاج بھی ہوااور امریکی قونصلیٹ کے قریب تصادم بھی ہوا۔ان احتجاجوں میں کئی افراد جان کی بازی ہار گئے۔پاکستانی عوام بھی نہیں چاہتی کہ خطے میں کشیدگی پھیلے یا ایران کو نشانہ بنایا جائے،اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ عوامی خواہش بھی یہی ہے کہ یہ جنگ رک جائے۔پاکستان جنگ کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے اور امید کی جارہی ہے کہ یہ کوششیں کامیاب ہو جائیں گی۔
یہ جنگ صرف خطے کے لیے نقصان دہ نہیں بلکہ عالمی طور پر بھی اپنے اثرات چھوڑ رہی ہے۔جنگ بندی صرف ایران کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگی بلکہ پاکستان سمیت کئی ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی۔اس جنگ کے رکنے سے انسانی قتل عام رکے گا اور مہنگائی پر بھی کنٹرول حاصل کر لیا جائے گا بلکہ تباہی بھی رک جائے گی۔جنگ کو بند کرنے کے لیے اسرائیل رکاوٹ پیدا کر سکتا ہے،کیونکہ اسرائیل گریٹر اسرائیل کے منصوبے پر عمل کر رہا ہے۔برسوں سے اسرائیل کی طرف سے یہ کوششیں کی جا رہی ہیں کہ زیادہ سے زیادہ علاقہ جات پر قبضہ کر لیا جائے۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اسرائیل اس جنگ کو خود بھی روکنا چاہ رہا ہو کیونکہ اسرائیل پر بھی حملے ہو رہے ہیں۔اسرائیل پر ہونے والے حملے ماضی کی نسبت زیادہ خطرناک ہیں اور ان حملوں سے اسرائیل کا نقصان بھی ماضی کی نسبت زیادہ ہو رہا ہے۔اس لیے اسرائیل بھی جنگ روکنے کے حق میں ہو سکتا ہے لیکن مضبوطی ثابت کرنے کے لیے کچھ ٹال مٹول کر سکتا ہے۔یہ جنگ کب رکے گی کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن امکان یہی ہے کہ یہ زیادہ عرصے تک جاری نہیں رہےگی۔زیادہ عرصے تک اس لیے جاری نہیں رہے گی کہ ایران جوابی حملوں میں امریکہ کو نقصان پہنچانے کے لیے خطے میں موجود اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔اڈوں کو نشانہ بنانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ممالک بھی نقصان اٹھائیں جو شامل بھی نہیں ہیں لیکن امریکی اڈے وہاں موجود ہیں۔یہ ممالک بھی امریکہ پر دباؤ ڈال رہے ہوں گے کہ جنگ کا خاتمہ کیا جائے تاکہ وہ تباہی سے بچ سکیں۔
پاکستان کی ثالثی خاصی اہمیت اختیار کر رہی ہے اور یہ ثالثی کئی قوتوں کے لیے پریشان کن بھی ثابت ہو رہی ہے۔پریشانی اس لیے کہ اس سے پاکستان کی عالمی طور پر پوزیشن بہت ہی مستحکم ہو جائے گی۔پاکستان کی ثالثی سےپاکستان کی ایران کے ساتھ مزید قربت بڑھے گی اور امریکہ کے ساتھ تعلقات بھی مزید بہتر ہوں گے۔یہی نہیں بلکہ مشرق وسطی میں پاکستان ایک خصوصی اہمیت اختیار کر لے گا اور بہت سے ممالک نہیں چاہتے کہ پاکستان کو خصوصی اہمیت حاصل ہو۔بہرحال پاکستان نیک نیتی سے اپنا حق ادا کر رہا ہے اور مثبت امید بڑھ رہی ہے کہ پاکستان اس ثالثی میں کامیاب ہوگا۔پاکستان کی اعلی قیادت ایران کی اعلی قیادت کے ساتھ بھی جنگ بندی کی مشاورت کر رہی ہے نیز امریکہ کے ساتھ بھی رابطے ہو رہے ہیں۔جنگ بندی کے لیے امریکہ کاایک بڑا مطالبہ یہ ہوگا کہ ایٹمی توانائی سے ایران دستبردار ہو جائے۔یہ پاکستان کے لیے بھی آزمائش ہوگی کہ جوہری توانائی سے دستبرداری کامطالبہ تسلیم ہوتا ہے یا نہیں۔ہو سکتا ہے ایران تسلیم کر لے اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایران تسلیم کرنے سے انکار کر دے۔اقرار یا انکار کی صورت پاکستان اپنا کردار بہتر طریقے سے نبھائے گا اور امید ہے کہ اس مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل نکل ہی آئے گا۔اگر ایران یا امریکہ- اسرائیل جنگ بندی مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے تو اس صورت میں پاکستان پھر بھی ایک بہتر پوزیشن پر ہوگا۔بہتر پوزیشن پر اس لیے کہ پاکستان اپنا فرض ادا کر رہا ہے۔بہرحال ان مذاکرات کا کچھ نہ کچھ تو نتیجہ نکلے گا اور وہ بہتر ہی ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں