ایران کےبعداگلا ہدف کیوبا
تحریر:اللہ نواز خان
allahnawazk012@gmail.com
امریکی صدر نے اعلان کر دیا ہے کہ ایران کے بعد اگلا ہدف کیوبا ہو سکتا ہے۔امریکی صدر نے یہ اعلان سعودی انویسٹمنٹ کانفرنس میں کیا۔واضح رہے کہ ماضی میں بھی ایسا اعلان کیوبا کے بارے میں کیا گیا تھا۔امریکی صدر کے اس بیان سے عالمی طور پر ہلچل مچ گئی ہے اور کشیدگی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔حال ہی میں کیوبا شدید معاشی بحرانوں میں پھنس گیا ہے۔وینیز ویلا کے صدر مادورو کی گرفتاری کے بعد ونیز ویلاکی طرف سے تیل کی ترسیل کیوباکو بند کر دی گئی۔تیل کی بندش سے کیوباکی معیشت بہت ہی کمزور ہو گئی ہے۔ایندھن کی کمی نے ادویات،پانی،بجلی اور ٹرانسپورٹ کے مسائل جیسے کئی مسائل پیدا کر دیے۔کئی کئی دن تک شہریوں کو بجلی دستیاب نہیں ہوتی۔تیل کی فراہمی معطل ہونے کی وجہ سے کیوبا کی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔حکومت کوشش کر رہی ہے کہ مسائل پر قابو پا لیا جائے لیکن مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ممکنہ طورپرمعاشی مشکلات کے پیش نظر امریکی صدر نے کیوبا کو اگلا ہدف قرار دیا ہے۔کیوبا امریکہ سے زیادہ دور نہیں،ہو سکتا ہے جنگ شروع کر دی جائے یاجس طرح ونیزویلا کے صدر کو گرفتار کر کے امریکہ پہنچایا گیا تھا،اسی طرح کیوبا کےصدر یا اعلی قیادت کو گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ونیزویلا کےصدر کی گرفتاری بھی مشکل امر تھی لیکن اس کو گرفتار کر دیا گیا تھا۔کہا جا سکتا ہے کہ کیوباآسانی سے امریکہ کا نشانہ بن سکتا ہے۔کیوبا کے ساتھ جنگ کچھ عرصہ تک ملتوی ہو سکتی ہے لیکن نہیں محسوس ہوتا کہ لمبے عرصے تک ملتوی رہے گی۔ایران کے بعد فوری طور پر کیوبا کوکنٹرول کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
کیوبا معاشی طور پر کمزور نہیں،مگر تیل کی بندش سے معیشت کمزوری کا شکار ہو گئی ہے۔کیوبا کا محل وقوع اسے تجارتی اور سٹریٹجک لحاظ سے اہم بناتا ہے کیونکہ یہ خلیج میکسیکو اور بحیرہ کیریبین کے دہانے پر واقع ہے۔کیوباکی اشتراکی حکومت 1959 میں مسلح جدوجہد کے بعد قائم ہوئی تھی۔کیوبا کے دو لیڈر فیڈل کاسٹرو اور چے گویرا پوری دنیا میں مشہور تھے۔کیوبا ایک بہتر پوزیشن پر تھا لیکن اب بہت ہی کمزور پوزیشن پر پہنچ چکا ہے۔اب اگر امریکہ کی جانب سے حملہ یا کوئی دوسری کاروائی کی جاتی ہے تو کیوبا اپنا دفاع آسانی سے نہیں کر سکے گا۔کیوبا کی معیشت بنیادی طور پر زرعی اور معدنی پیداوار پر منحصر ہے۔کیوبا کا تمباکو تو پوری دنیا میں مشہور ہے اور کیوبن سگار خاصے پسند کیے جاتے ہیں۔زراعت اور معدنیات کی وجہ سے غربت کم تھی۔تیل کی کمی نے تمام شعبہ ہائےزندگی کو متاثر کر دیا ہے۔کیوبا امریکہ کی وحشیانہ طاقت کا مقابلہ نہیں کر سکے گا،اسی لیے کوشش کی جا رہی ہے کہ امریکہ سے مذاکرات کر کے کوئی بہتر حل نکالا جائے۔کیوبا کی اعلی قیادت نے بھی کہا ہے کہ بات چیت کے ذریعے کوشش کی جا رہی ہے کہ مسئلہ حل ہو جائے۔ہو سکتا ہے معدنیات اور زراعت میں امریکہ کو حصہ دے کر تحفظ حاصل کر لیا جائے۔اگر امریکہ مطمئن نہ ہوا تو کیوباپر حملہ بھی ہو سکتا ہے۔کیوبا کی حکومت بھی سمجھتی ہے کہ اس پر حملہ ہو سکتا ہے۔حال ہی میں کیوباکے صدر میگوئل ڈیازکانیل نےجزیرے پرانسانی ہمدردی کی بنیادوں پر امداد پہنچانے والے بین الاقوامی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت کا خیال ہے کہ کیوبا پر حملہ ہو سکتا ہے اور اس کے مطابق تیاری بھی کی جا رہی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایندھن بحران ختم کرنے کے لیے امریکی ہم منصبوں سے بات چیت بھی جاری ہے۔
جنگ بھی نہیں ہوتی اور مذاکرات بھی کامیاب نہیں ہوتے تو کیوبین حکومت معاشی بحران کی وجہ سےبھی گر سکتی ہے بلکہ انارکی بھی پھیل سکتی ہے۔کیوباکی حکومت بحرانوں پر قابو پانے کے لیے کوشش کر رہی ہے لیکن بہت زیادہ مشکلات ہونے کی وجہ سے قابو پانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔کیوبا کو تقریباروزانہ 100000بیرل تیل کی ضرورت ہوتی ہے،لیکن مقامی پیداوار صرف 25 سے 30 ہزار بیرل ہے.تیل کی کمی نے بہت سے مسائل پیدا کر دیے ہیں۔روس انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیوباکو تیل دے رہا ہے،لیکن وہ بھی ابھی تک کیوباکو وصول نہیں ہوسکا کیونکہ راستے کی مشکلات بہت ہیں۔روس کے علاوہ الجیریا،برازیل،میکسیکو کے ذریعے ایندھن کی فراہمی ممکن ہو سکتی ہے لیکن امریکہ کا مقابلہ کرنا اس وقت ہر ایک کے لیے بہت مشکل ہے۔کیوبا توانائی کے ذرائع کو شمسی انرجی پر منتقل کر کے اپنے مسائل پر قابو پا سکتا ہے۔چین کے ساتھ سولر پارکس کے منصوبے پر کام ہو بھی رہا ہے،اس طرح کیوبا توانائی تیل کی بجائے سولر انرجی سے حاصل کر سکےگا۔اندرونی طور پر زراعت اور دیگر شعبہ جات کو مضبوط بنا کر معیشت کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔کیوبا کے لیے اس وقت امریکہ کا مقابلہ کرنا انتہائی مشکل ہے،اس لیے مذاکرات اور ڈیل کے ذریعے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔جنگ کی صورت میں کیوبا کا نقصان زیادہ ہوگا،اس لیے کچھ دے کر ہی جنگ سے بچاجاسکتا ہے۔کیوبا اقوام متحدہ کے ذریعے بھی امریکہ پر دباؤڈالے اور عالمی برادری سے اپیل کر کے بھی امریکہ کو غیر قانونی حرکت سے روکنےکی کوشش کرے۔ایک دفعہ جنگ چھڑ گئی تو اس کا روکنا مشکل ہو جائے گا۔اس جنگ کے نقصانات شاید زیادہ نہ ہوں لیکن کم بھی نہیں ہوں گے۔امریکی طاقت کو بھی روکنا ہوگا ورنہ دنیا میں بدامنی پھیلتی رہے گی۔کیوبا کے اندر بدامنی بھی پھیلائی جا سکتی ہے جس سے کیوبا مزید کمزور ہو جائے گا۔عوامی احتجاج کو بھی بطور ہتھیار استعمال کیا جا سکتا ہے۔یہ واضح رہےکہ امریکہ صرف کیوبا کو نشانہ نہیں بنائے گا بلکہ دیگر ریاستوں کو بھی نشانہ بنائے گا۔گرین لینڈ کو بھی کنٹرول کرنے کا اعلان کیا جا چکا ہے۔علاوہ ازیں دیگر ممالک کو بھی پریشرائز کیا جا رہا ہے۔تقریبا تمام ممالک پر اضافی ٹیرف لگا کر پوری دنیا کی معیشت کو کنٹرول کرنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔بین الاقوامی برادری امریکہ کو روکنے کی کوشش کرے تاکہ دوسرے انسان بھی زندہ رہ سکیں۔
آج اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر فضیلہ عباسی کی ضمانت 1 لاکھ مچلکوں کے عوض منظور کر لی، 25 ارب وَڑ گئے
قصور میں طوفانی بارش اور آندھی سے تباہی، جانی و مالی نقصان
عمران خان کے بچے کبھی پاکستان کیخلاف بات کرینگے تو ہم اس کی حمایت نہیں کریں گے۔بیرسٹر گوہر
سندھ کے تمام تعلیمی اداروں میں کل سے تدریسی عمل بحال ہو جائے گا۔شرجیل میمن
محسن نقوی نے غیرقانونی پاکستانی شہریت رکھنے والوں کونیشنل ڈیٹا بیس سے نکالنے کی ہدایت کردی۔