آج اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر فضیلہ عباسی کی ضمانت 1 لاکھ مچلکوں کے عوض منظور کر لی، 25 ارب وَڑ گئے
ڈاکٹر فضیلہ عباسی جو F8 میں بطور ڈرماٹالوجسٹ کنسلٹنٹ کام کرتی تھیں، کے 22 بینک اکاؤنٹس سے 25 ارب روپوں کا ٹرن اوور ریکارڈ کیا گیا-
جب مختلف بینک اکاؤنٹس میں اتنی بڑی ٹرانزیکشنز نوٹ کی گئیں تو FIA کا اینٹی منی لانڈرنگ وِنگ حرکت میں آیا-
ایف آئی اے کو معلوم ہوا کہ ڈاکٹر فضیلہ عباسی سالانہ ٹیکس کی ادائیگی کے وقت اپنی آمدن 4 سے 6 لاکھ روپے ماہانہ ظاہر کرتی ہیں-
اتنی کم آمدنی کے ساتھ 25 ارب روپوں کا 22 مختلف بینک اکاؤنٹس میں آگے پیچھے ہونا شکوک و شبہات پیدا کر گیا اور FIA نے فوراً اس کا نوٹس لے لیا-
بعض ذرائع نے یہ دعوی بھی کیا کہ یہ 25 ارب روپے مختلف بینک اکاؤنٹس کے علاوہ حوالہ ہنڈی کے ذریعے بھی دبئی اور امریکا منتقل کیے گئے-
تاہم آج یہ تازہ ترین ڈویلپمنٹ سامنے آئی ہے کہ آج ڈاکٹر فضیلہ عباسی اپنے وکیل نعیم بخاری صاحب کے ہمراہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوئیں اور عدالت عالیہ نے انھیں 1 لاکھ مچلکے جمع کروانے کے عوض ضمانت دے دی-
اس سے پہلے مختلف سوشل میڈیا فورمز پر مختلف لوگ یہ دُہائی دیتے بھی سُنے گئے کہ ڈاکٹر فضیلہ عباسی دبئی میں مقیم ہیں اور اب 25 ارب روہوں کی خُرد برد کے بعد پاکستان نہیں آئیں گی-
تاہم آج اسلام آباد ہائیکورٹ پیش ہونے سے یہ سب افواہیں دَم توڑ گئی ہیں-
علاوہ ازیں، ان کی 6 شادیوں کو بھی عوام نے خوب رگیدا ہے جو شاید اخلاقی طور پر مناسب نہ تھا-
میری اُن کے ایک کلائینٹ سے ملاقات ہوئی، جس نے بتایا کہ وہ ہر ماہ قریباً 4 ہزار روپے دے کر اُن سے کنسلٹینسی لینے جاتا تھا، اور اس کے غیرمحتاط تخمینے کے مطابق ڈاکٹر فضیلہ عباسی روز کے تین چار گھنٹوں میں 12 لاکھ روپے کما لیتی ہوں گی-
سماء ٹی وی کی ایک رپورٹ میں تو یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر فضیلہ عباسی اسلام آباد میں جو کلینک چلا رہی تھیں وہ متعلقہ اتھارٹیز سے رجسٹرڈ بھی نہیں تھا-
مُدعا یہ ہے کہ ڈاکٹر فضیلہ عباسی جو معروف اداکار حمزہ علی عباسی کی بہن ہونے کی وجہ سے بھی زیرِ بحث ہیں، نیز 6 شادیوں کا بوجھ ڈال کر اور 25 ارب کے مختلف بینک اکاؤنٹس سے منتقلی کا واویلا کر کے کہیں عوام کی توجہ کسی خاص ایشو سے ہٹانے کی کوشش تو نہیں؟
آپ کی اس حوالے سے کیا رائے ہے؟ کمنٹ باکس میں ضرور بتائیے گا-