21

خ ح شہزاد دل کی بات

خ ح شہزاد
دل کی بات
امریکہ اسرائیل اور ایران کی جنگ جاری ھے۔دونوں طرف سے فتوحات کی خبریں آرھی ھیں۔یہ فتوحات زمین کا ٹکڑا نہیں جیسا کہ پہلے جنگوں میں ھوتا تھا۔اب فتوحات یہ ھیں کہ فلاں شہر پر بم گرا کر اتنے مکانات۔فیکڑیاں۔سکول۔ہسیتال وغیرہ ملبے کا ڈھیر بنا دی ھیں اور اتنے شہری مارے گے ھیں۔پہلے جنگ فوج لڑا کرتی تھی اب ھر شہری لڑتا ھے۔اب تک اس جنگ میں فریقین کے اتنے فوجی نہیں مرے جتنے عام شہری مآرے گے ھیں اور 2025 میں پاک بھآرت جنگ میں بھی فوج سے زیادہ عام شہری شہید ھوئے۔اب جنگ سرحدوں پر نہیں بلکہ شہروں میں ھوتی ھے۔اور جی تھری کی گولی سے زیادہ میزائل اور ڈرون اور راکٹ وغیرہ چلتے ھیں یعنی جنگ کے معمولات یکسر بدل گے ھیں جو ھم آجکل ارطغرل یا اورحان غازی کے ڈراموں میں دیکھتے ھیں۔اب خبر یہ ھے کہ پاکستان اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کررھا ھے۔اور دیگر ممالک کی بھی حمایت حاصل ھے۔آنے والے دنوں میں یہ جنگ رک بہی سکتی ھے یا پھر تیسری عالمی جنگ میں بھی تبدیل ھوسکتی ہے۔یورپ جس طرح امریکہ کا ساتھ نہیں دے رھا لیکن آہستہ آہستہ یہ سارا کفرستان اکھٹا ھوجائے گا اور عربستان بھی یا اکھٹا ھوجائے گا یا پھر ان کی الٹی گنتی شروع ھوجائے گی۔عربستان اس لیے لکھا ھے کہ اسلام نام کی کوئی چیز اب عربوں میں نہیں رھی۔اور خلافت عثمانیہ کے خلاف غداری بھی اسلام کے نام پر نہیں بلکہ عرب قومیت کے نام پر ھوئی تھی سو اب ایک صدے ھوگی ھے اس غداری کو اب بس انجآم قریب ھے شاہد ریاض میں بننے والی اونچی عمارت پایہ تکمیل تک نہ پنچ سکے اور پہلے ھی گر جائے۔کیونکہ اس جنگ نے عربوں کو مسلمانوں کے سامنے ننگا کردیا ھے۔انکی اپنی آبادی سے زیادہ امریکی اور یورپی فوجی اور اڈے اس بات کی گواہی دے رھے ھیں کہ یہ کفار کے ذہنی غلام بن چکے ھیں۔اور ذہنی غلامی زنجیروں میں جکڑی ھوئی غلامی سے بدتر ھے۔ہتھکڑیاں اور بیڑیاں انسان کو ذہنی طور پر غلامی سے نحات حاصل کرنے کا جذبہ پیدا کرتی ھیں۔جبکہ زہنی غلام ہاتھی کی ھرح معمولی رسی سے ھی باندھ دیا جائے تو وہ بھی نہیں توڑ سکتا۔سو ھم نے یہ دیکھ لیا کہ عرب اب کچھ کرنے کے قابل نہیں۔اگر ان میں ذرا سی بھی غیرت ایمانی ھوتی تو غزہ کے لاکھوں مسلمان بچے بوڑھے عورتیں جو چیخ چیخ کر پکار رھے تھے اسے ھی نہ ملبے کا ڈھیر بنتے۔اب ایران نے انکی رہی سہی کسر نکال دی ھے اور عوام کو بھی پتہ چل گیا ھے کہ انکے حکمران کتنے بے حس۔بے حیا۔اور بزدل ھیں۔پاکستان کے حکمرانوں سے لاکھ اختلاف سہی لیکن ان کے سر پر ڈنڈا ھے جو انہیں سیدھا رکھتا ھے سو پاکستان اب اپنے اصل مقام کی طرف لوٹ رھا ھے۔اور عربوں سمیت اب سارے فیصلے آسلام آباد میں ھوں گے۔ان شاءاللہ۔آغاز ھوچکا لیکن منزل ابہی دور ھے۔مسلسل محنت اور لگن سے ان شاءاللہ جلد بزرگوں کی پشئن گوئی پوری ھوگی۔موجودہ حالات میں میرے خیال میں حکومت کے خلاف بیان بازی اور روایتی اپوزیشن کا رویہ جو ھوتا ھہ اسکو کچھ وقت کے لیے ملتوی کردینا چاھے اور فارم 47کی حکومت کو بھی سپورٹ کرنی چاھے اور حکومت کو بھی چاھے اور سیکورٹی اداروں کو بھی کہ وہ عوام کے ساتھ جو دوریاں پیدا ھوچکی ھیں انھیں کم کرے اور اتحاد واتفاق کا ماحول پیدا کرے۔جیسا کہ ایرانی قوم نے کیا ھے۔شہروں کے شہر ملبہ کا ڈھیر بن گے ھیں لیکن ایرانی قوم نے میزائلوں سے نھیں بلکہ اپنے جذبہ سے امریکہ اور اسرائیل کو شکست دینے میں کامیاب ھوئی ھے۔اس لیے پاکستان کے لیے ابھی بہت سارے امتحانات باقی ھیں۔لیکن میں دیکھ رھا ھوں کہ جذبہ دن بدن کم ھورھا ھے جبکہ جنگ نہیں جنگیں سر پر کھڑی ھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حکومتیں اور سیکورٹی ادارے اپنے خلاف کسی قسم کے سروے وغیرہ کے اعداد وشمار کو روک لیتے ھیں۔اور اگر معمولی سی بھی تعریف اگر کوئی غیر بھی کردے تو وہ ہیڈ سرخی بنتی ھے۔جبکہ اصل تعریف وہ ھوتی ھے جو اپنی عوام کرے۔اگر کوئی ٹرمپ شیطان کو سیلوٹ مار کر اینی تعریف سن کر خوش ھے تو اسے ھم خوش فہمی ھی کہیں گے کیونکہ ٹرمپ شیطان کا حافظہ کمزور ھے۔کبھی پانچ جہاز کبھی چھ اور آخری بیان شاہد نو جہازوں کا تھا۔اب اسے اپنے جہازوں کا حساب کتاب یاد نہیں بلکہ ایران کی بحریہ کو ختم کرچکا ھے پھر بھی آبنائے ھرمز سے جہاز گزارنے کے لیے پوری دنیا سے مدد مانگ رھا ھے۔جب اسے بتایا جاتا ھے کہ اپیل نہیں کرنی ھم سپر پاور ھیں تو اگلے لمحے وہ دھمکی لگا دیتا ھے۔سو یہ پاگل کتا پوری دنیا کے امن کو داؤ پر لگا چکا ھے۔اللہ تعالی جلد نجات عطا فرمائے۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں