*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان: نہیں مرونگا حالتِ نافرمانی میں*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
کلمہ گو ہمیشہ مسلمان ہی رہتا ھے مگر نافرمان مسلمان بناء ایمان ہوجاتا ھے۔ نافرمان کون مسلمان ھوتے ہیں ہر وہ عمل جسے اللہ اور اس کے حبیب ﷺ نے منع فرمایا ھے اس عمل کو کرنے والے نافرمان مسلمان ھوتے ہیں۔ جیسے نماز روزہ زکواة (صاحبِ نصاب) حج و عمرہ (صاحبِ نصاب) تول فروخت طعام و مشروب صفائی و ستھرائی سمیت پاکی کا دین محمدی ﷺ کے مطابق عمل رکھے وہ صاحبِ ایمان ھے یعنی ایمان یافتہ مسلمان اور جو خلاف شریعت ناپاکی نجس زناکاری شراب نوشی ذخیرہ اندوزی ملاوٹ زائد فروخت یعنی حکومتی نرخ سے زائد، جھوٹ دھوکہ فریب دغا مکاری منافقت چغلی الزام تہمت بہتان چوری ڈکیتی قتل و غارت فتنہ فساد گمراہی پھیلانا یہ سب فعل خلافِ قانون شریعت ہیں جن سے ایمان نہیں رہتا بس آسان دو لفظوں میں یوں سمجھ لیجئے کہ جو خلافِ شریعت مرا وہ بری موت پایا کیونکہ اس وقت وہ ایمان سے خالی مسلمان تھا اور جو شریعت پر کاربند رہتے ہوئے مرا وہ ایمان کی حالت میں مرا۔ ھم من حیث القوم لوگوں کے حقوق سلب کرکے سمجھتے ہیں کہ کچھ نہیں ھوا ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا ھے ھم بہت بڑے نقصان سے دوچار ہوچکے ہیں کیونکہ اس عمل سے ایمان سے خالی ہوچکے ہیں۔ عبادات و ریاضات کا تعلق بھی ایمان کیساتھ ھوتا ھے چاہے وہ حقوق اللہ ہو یا حقوق العباد۔ ایمان مجمل اور ایمان مفصل ایک چھوٹا سا ایمان کا خلاصہ ھے جو ہمیں بچپن میں اسکول و مدرسہ میں پڑھایا جاتا ھے ان ایمان والے نیت یقین اور اعمال کے ساتھ دیگر وہ احکامات جو شریعت الہیٰ نے قرآن کے ذریعے بتائے اور رسول خدا ﷺ نے احادیث کے ذریعے تشریح کیں۔ کئی ایسے بھی معاملات ہیں جنہیں آپ ﷺ نے احادیث میں بتائیں یہ سب کے سب ایمان کی شرائط میں شامل ہوتے ہیں جیسے شق القمر وغیرہ آج جب میں اپنے اندر جھانکتا ھوں غور کرتا ھوں تو روزانہ کی بنیاد پر نجانے کتنی بار جھوٹ کا استعمال کرتا ھوں صرف دنیا کی مال و دولت حرص و متاع اور تکمیلِ خواہشات کیلئے میں نے اندازہ لگایا کہ میں بناء ایمان ہوجاتا ھوں کیونکہ ایمان صرف شریعت پر مضبوطی پر قائم رہنے پر میرے ساتھ رہتا ھے پھر خیال گزرا کہ چند مفادات کی خاطر لوگوں کی تکلیف پہنچاتا بھی ہوں اس عمل سے بھی ایمان میرا نہیں رہتا دن بھر کے چوبیس گھنٹوں میں کوئی لمحہ ایسا نہیں گزرتا کہ ایمان میرے ساتھ ھو اور جب سوتا ھوں تو بناء وضو بناء تلاوت کلام پاک اور درود پاک یہ سوچ کر مزید خوف اور کانپ جاتا ھوں کہ اگر سوتے ہی میں موت واقع ہوگئی تو بناء ایمان کے مر جاؤنگا واقعی مجھے مسلمان ہونے کیلئے ایمان کو مضبوطی کیساتھ پکڑے رہنا ھے اور وہ اسی وقت ممکن ہوگا کہ میں سنتِ نبوی ﷺ پر مکمل کاربند رہوں۔ اللہ تبارک تعالیٰ اپنے بندوں کی کیفیت اور عادت کو سب سے بہتر جانتا ھے اسی سبب رب العزت نے واضع قرآن پاک میں حکم صادر کردیا کہ دین میں مکمل داخل ہوجاؤ یعنی قرآنی و شرعی احکامات کی مکمل پیروی میں زندگی کو ڈھال لو آج ہمارے معاشرے کی بربادی و تباہی اور اخلاقی تنزلی کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی ھے کہ من حیث القوم ہم نے اصولِ شرعیہ کو صرف اپنے مطابق چیدہ چیدہ استعمال کرنا اپنی عادت بنالی ھے۔ آج بھی وہی مسلمان اللہ کا قرب اور رسولِ خدا ﷺ کی محبت شفقت اور مقام پا رھے ہیں جو دینِ محمدی ﷺ پر پورے کے پورے اتر رھے ہیں انہیں نہ مسلک سے نہ فرقہ سے اور نہ ہی ذات پات رنگ و نسل سے مطلب ھے ایسے مسلمانوں کا مرکز شریعت پر خود کو مکمل ڈھالنا مقصود ہوتا ھے۔ دعا ھے اللہ مجھ سمیت ہر مسلمان کو شریعتِ محمدی ﷺ پر مکمل کاربند رہتے ہوئے ایمان کی دولت پر قائم رکھے اور ایمان پر ہی موت عطا فرمائے آمین یا رب العالمین۔ یاد رھے کہ حکومت یا ریاست یا پھر ساتھ کے لوگوں کا عمل کیا ھے بس اپنے اعمال اور ایمان کی حفاظت میں رہیں یقیناً ہمارے ایمانی اعمال کو دیکھ کر ساتھ والے مسلمان میں بھی ایمان کی روشنی جاگ جائے واقعی چراغ سے چراغ ہی روشن ہوتا ھے بند دیئے سے روشنی نہیں پھیلتی۔۔۔۔!!