جھنگ( محمد ناصر)محکمہ فوڈ اتھارٹی کی نااہلی کی وجہ سے شہر میں دودھ مافیا سرگرم ناقص دودھ اور دہی کی فروخت لاکھوں بچوں اور بڑوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی عوامی سماجی حلقوں نے فوڈ اتھارٹی محکمہ کی کاکردگی پر سوال اٹھا دیئے
جھنگ( محمد ناصر)محکمہ فوڈ اتھارٹی کی نااہلی کی وجہ سے شہر میں دودھ مافیا سرگرم ناقص دودھ اور دہی کی فروخت لاکھوں بچوں اور بڑوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی عوامی سماجی حلقوں نے فوڈ اتھارٹی محکمہ کی کاکردگی پر سوال اٹھا دیئے تفصیلات کے مطابق جھنگ میں ناقص دودھ اور دہی فروخت کرنے والے سرعام انسانی جانوں کے ساتھ کھیلنے لگے ملاوٹ شدہ دودھ مضر صحت دودھ کیمیکل ڈرموں کے ذریعے صبح سویرے بازار میں ان دوکانوں پر پہنچ جاتا ہے جس کو دن بھر 80 سے 100روپے تک مہنگے داموں عوام کو فروخت کیا جاتا ہے اس کیمیکل اور ملاوٹ شدہ دودھ سے ہی تیار دہی کو استعمال کرنے سے لوگ بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں مضر صحت دودھ کیمیکل کی وجہ سے انتہائی گہرا ہوتا ہے جسے عوام کو خالص بتا کر فروخت کیا جا رہا ہے زرائع کے مطابق قادر پور موڈ منڈی پیر کوٹ سدھانہ شورکوٹ واصو آستانہ چنڈ بھروانہ جبکہ شہری علاقوں میں جھنگ بازار ٹانگہ اڈاہ سیٹلائٹ ٹاؤن سرگودھا روڈ جھنگ سٹی اور دیگر شاہراوں پر دودھ اور دہی ملاوٹ شدہ دھڑلے سے فروخت کیا جارہا ہے فوڈ اتھارٹی جھنگ صرف اپنے دفاتر تک محدود ہو کر رہ گئ ہے فوٹو سیشن کے لیے شہر بھر میں دو چار کاروائی کرکے اوکے کی رپورٹ اعلی حکام تک پہنچا دیتے ہیں زرائع نے یہ بھی بتایا کہ اس وقت شہر میں کوئی دودھ دہی کی دوکان ایسی نہیں جہاں خالص دودھ اور دہی دستیاب ہو جبکہ دوکاندار ملاوٹ شدہ دودھ کے ریٹ اپنی من مانی کے شہریوں سے وصول کر رہے ہیں عوامی سماجی حلقوں کا کہنا تھا کہ فوڈ اتھارٹی جھنگ پاکستان کا سب سے لاپرواہی برتنے والا ادارہ بن چکا ہے اور اگر اعلی حکام نے اس پر سختی سے نوٹس نہ لیا تو بچے بڑے کئیں بیماریوں میں مبتلا ہو جائیں گے دودھ مافیا نے محکمہ فوڈ اتھارٹی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بچوں اور بڑوں کی زندگیوں سے کھیلنا معمول بنا لیا ہے جس کی وجہ سے عوام میں تشویش کی لہر پائی جارہی ہے عوامی سماجی حلقوں نے ڈی جی فوڈ اتھارٹی ڈپٹی کمشنر جھنگ اور دیگر اعلی حکام سے اپیل کی ہے کہ محکمہ فوڈ اتھارٹی جھنگ کی نااہلی پر سختی سے نوٹس لیتے ہوئے شہر بھر میں ملاوٹ شدہ دودھ فروخت کرنے والے دوکانداروں کے خلاف ایکشن لیں تاکہ بڑے اور بچے بیماریوں سے بچ سکیں