سکھر روز نامہ کانیات (بیورو رپورٹ) آل سکھر تاجر اتحاد کے رہنماؤں نے مچھلی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی جرائم پیشہ سرگرمیوں اور امن و
سکھر روز نامہ کانیات (بیورو رپورٹ)
آل سکھر تاجر اتحاد کے رہنماؤں نے مچھلی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی جرائم پیشہ سرگرمیوں اور امن و امان کی بگڑتی صورتحال کے خلاف پریس کانفرنس کرتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ مچھلی مارکیٹ ایشیا کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے، جہاں روزانہ ہزاروں افراد کا آنا جانا ہوتا ہے، مگر اس کے باوجود سیکیورٹی کے مؤثر انتظامات نہ ہونے کے باعث تاجر عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آل سکھر تاجر اتحاد کے صدر میر عبدالرحمن مینگل مچھلی مارکیٹ کے صدر قربانی میرانی نے کہا کہ مچھلی مارکیٹ میں وارداتوں کا سلسلہ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے، گن پوائنٹ پر موٹر سائیکلیں اور نقدی لوٹنے کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لالا سمیر سے 8 لاکھ روپے کی ڈکیتی ہوئی، جو تاحال ریکور نہیں کی جا سکی، جس سے تاجروں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔
رہنماؤں نے بتایا کہ اس حوالے سے ایس ایس پی سکھر سے بھی ملاقات کی گئی ہے اور انہیں مارکیٹ کے سنگین مسائل سے آگاہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مچھلی مارکیٹ کے تحفظ کی ذمہ داری صرف پولیس پر عائد نہیں ہوتی بلکہ تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو مل کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
آل سکھر تاجر اتحاد نے ڈی آئی جی سکھر سے مطالبہ کیا کہ مچھلی مارکیٹ میں فوری طور پر ایک الگ اور مستقل پولیس پکٹ قائم کی جائے تاکہ جرائم کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ پولیس ہیڈکوارٹر میں موجود نفری پر مشتمل ایک خصوصی ٹیم تشکیل دے کر سبزی منڈی اور مچھلی مارکیٹ پر تعینات کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
تاجر رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر فوری طور پر مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو تاجر برادری احتجاج پر مجبور ہو جائے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے تاجروں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے فوری اور عملی اقدامات کریں گے۔