سکھر بیورو چیف سید نصیر حسین زیدی جیکب آباد میں 100 ارب کی سڑکوں کا سب سے بڑا ڈاکہ بے نقاب — 12 سال میں 300 ’’کاغذی‘‘ اسکیمیں امداد بوزدار
سکھر بیورو چیف سید نصیر حسین زیدی
جیکب آباد میں 100 ارب کی سڑکوں کا سب سے بڑا ڈاکہ بے نقاب — 12 سال میں 300 ’’کاغذی‘‘ اسکیمیں
امداد بوزدار
سکھر: عوام سن لیں! آپ کے نام پر، آپ کے ٹیکس کے پیسوں سے، اور آپ کے مستقبل کو روندتے ہوئے گزشتہ 10 سے 12 سال میں 100 ارب روپے کی سب سے بڑی ڈویلپمنٹ چوری کی گئی ہے۔ یہ کرپشن نہیں — یہ اقتصادی دہشت گردی ہے، پوری منصوبہ بندی کے ساتھ کی گئی جرائم کی ایک خوفناک کہانی۔
سرکاری ریکارڈ چیخ چیخ کر بتاتا ہے کہ 2013 سے 2025 تک 300 سے زائد سڑکوں کے منصوبے مکمل دکھائے گئے ہیں۔ لیکن جب ان ’’مکمل‘‘ سڑکوں کے مقامات پر جا کر حقیقت دیکھی گئی تو منظر لرزا دینے والا تھا: ھر گاؤں میں ٹوٹی مٹی کی پگڈنڈیاں، ھر یونین کونسل میں دلدلی راستے، کوئی تعمیراتی نشان تک موجود نہیں۔
اور عوام کا ایک ہی جواب:
“سڑکیں؟ کون سی سڑکیں؟ یہاں تو پتھر بھی نہیں ڈالے گئے!”
گاؤں والوں نے طنز کرتے ہوئے کہا:
“اگر یہ سڑکیں بنی ہیں تو شاید آسمان پر بنی ہوں… زمین پر تو کہیں نہیں ہیں!”
اس تاریخی سرکاری ڈاکے کی سب سے مضبوط کڑی جس دفتر سے جڑتی ہے وہ ہے ڈسٹرکٹ روڈز جیکب آباد کے ایکسین نصیر بھٹو اور ٹینڈر کلرک شاہین پٹھان
محکمہ کے اندر موجود ذرائع کے مطابق یہ دونوں افسران 300 ’’کاغذی سڑکوں‘‘ کے مرکزی آرکیٹیکٹ ہیں۔
اندرونی رپورٹس کے مطابق: جعلی MBs (Measurement Books) تیار کیے گئے ، مکمل شدہ کام کے جھوٹے سرٹیفکیٹ جاری ہوئے، اصل ٹھیکیداروں کو باہر رکھ کر ’’پسندیدہ‘‘ لوگوں کو نوازا گیا، سڑکیں نہ بنیں مگر اربوں روپے جاری ہوگئے
ایک شخص نے بتایا:
“جیکب آباد کے لوگوں کو ترقی نہیں، صرف لوٹ مار ملی ہے۔”
سانگھڑ تا صالح پٹ روڈ — اربوں کا دوسرا قبرستان
بدعنوانی یہاں پر بھی نہیں رُکی۔
ایکسین نصیر بھٹو کو سانگھڑ تا صالح پٹ روڈ جیسے اربوں روپے کے منصوبے کا مکمل کنٹرول دیا گیا ہے۔
اندرونی ذرائع کے مطابق اشتہارات کے بغیر پہلے سے طے شدہ ٹھیکے، نیب اور اینٹی کرپشن کی آنکھوں میں دھول اور مخصوص ٹھیکیداروں کو ’’اندرونی چینل‘‘ کے ذریعے نوازا گیا یہ ٹینڈرنگ نہیں — یہ ڈویلپمنٹ کے نام پر اربوں کی منظم لوٹ مار ہے۔
عوام کا سوال: 100 ارب کہاں گئے؟
جیکب آباد آج بھی گرد آلود راستوں ،ٹوٹی سڑکوں، کیچڑ میں ڈوبے راستوں پر سسک سسک کر لوگ چلتے ہیں۔
مگر حکومتی فائلوں میں:
300 سڑکیں ’’مکمل‘‘
اربوں روپے ’’استعمال‘‘
فنڈز ’’ریلیز‘‘
ٹھیکے ’’کلئیر‘‘
تو اصل سوال وہی رہتا ہے:
“اگر سڑکیں نہیں بنی… تو 100 ارب روپے کہاں گئے؟ کس نے کھائے؟ کس نے بچائے؟ اور کس نے تحفظ دیا؟”
یہ معاملہ اب مذاق نہیں —
یہ سندھ کی سب سے بڑی ڈیولپمنٹ کرائم فائل بن چکا ہے۔
علائقہ مکینوں نے تمام اسکیموں کا فورینزک آڈٹ ،ایکسین و عملے کی فوری معطلی و گرفتاری، ٹھیکیداروں کی فہرست کا پبلک ڈسکلوزر، جیکب آباد کے زمینی حقائق کا تھرڈ پارٹی ویریفکیشن، اربوں روپے کے مشکوک ادائیگیوں کی واپسی کا مطالبہ کر رھے ھیں۔
جیکب آباد کے عوام مزید دھوکہ نہیں کھائیں گے۔
اب یہ جنگ کاغذی ترقی نہیں — اصل انصاف کی ہے۔