October 28, 2026

سکھر(بیورورپورٹ۔ سید نصیر حسین زیدی) سکھر پریس کلب کے باہر آبپاشی محکمہ کے چھوٹے ملازمین نے احتجاج کیا، جنہوں نے اپنی تنخواہوں کی عدم

Screenshot_2025-12-06_160753

سکھر(بیورورپورٹ۔ سید نصیر حسین زیدی) سکھر پریس کلب کے باہر آبپاشی محکمہ کے چھوٹے ملازمین نے احتجاج کیا، جنہوں نے اپنی تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف نعرے لگائے، جن میں “تنخواہیں دو، انصاف دو” شامل تھے۔احتجاج میں شامل ملازمین میں بیلدار گیٹ مین خمیسو علی جونیجو، صادق علی شاہانی، علی حسن جونیجو، محمد حنیف اور دیگر شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ2012 میں سید قائم علی شاہ کے دور میں انہیں نوکری دی گئی تھی،اب 13 سال بعد انہیں جعلی قرار دے کر تنخواہیں بند کر دی گئی ہیں،وہ 13 سال سے ایمانداری سے کام کر رہے ہیں،کچھ لوگ رشوت کے زور پر انہیں تنگ کر رہے ہیں۔انہوں نے سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ میں درخواست دائر کی ہے تاکہ تنخواہوں کے بند ہونے کے خلاف انصاف فراہم کیا جائے۔ملازمین کا الزام ہے کہ سرکاری وکیل علی رضا بلوچ نے بلا جواز ان کی تنخواہیں بند کروا دی ہیں اور اب ہر ایک ملازم سے 10-10 لاکھ روپے مانگ رہا ہے، جو سراسر ظلم ہے۔تنخواہیں نہ ملنے کی وجہ سے ملازمین کے گھر چلانے مشکل ہو گئے ہیں اور وہ کئی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔احتجاج کرنے والوں نے چیف جسٹس آف سندھ ہائی کورٹ، سندھ کے وزیراعلیٰ، صوبائی وزیر آبپاشی، سیکریٹری اریگیشن اور دیگر حکام سے اپیل کی ہے کہ ان کی بند شدہ تنخواہیں جاری کی جائیں تاکہ بھوک اور معاشی مشکلات سے بچا جا سکے۔