پرانا چنیوٹ روڈ درد کی داستان سیوریج مکمل، ٹھیکیدار غائب، شہری دلدل میں دفن!
پرانا چنیوٹ روڈ درد کی داستان سیوریج مکمل، ٹھیکیدار غائب، شہری دلدل میں دفن!
ایک سال کی اذیت کے بعد بھی راستہ ہموار نہ ہوا، گندا پانی جھیل بن گیا
انتظامیہ کی پراسرار خاموشی… کیا یہ علاقہ واقعی جھنگ کے نقشے سے مٹا دیا گیا ہے؟
اہلِ علاقہ کی دہائی: ظلم کی حد ہوگئی، ہم انسان ہیں یا آزمائش کا شکار مخلوق؟
تحریر: ڈاکٹر ظہور احمد زاہد کھرل
پرانا چنیوٹ روڈ پر ظلم کی کہانی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ سیوریج ڈالنے والوں نے پورا ایک سال اہلِ علاقہ کو مٹی، کھڈوں، گندگی اور کھلے کھڈوں کی اذیت میں رکھا۔ اب جب سیوریج کا کام دو ماہ پہلے مکمل ہو چکا ہے تو شہری خوشی کے بجائے مزید عذاب میں مبتلا ہیں، کیونکہ ٹھیکیدار کام چھوڑ کر غائب ہو چکا ہے اور سڑک آج بھی تباہی کا نقشہ پیش کر رہی ہے۔
نہ راستہ ہموار کیا گیا،
نہ پتھر ڈالا گیا،
نہ خاکہ ڈال کر سڑک مکمل کی گئی-
جبکہ حیرت انگیز طور پر شہر کے دوسرے علاقوں میں جہاں کہیں بھی پائپ ڈالا جا رہا ہے، وہاں اسی وقت سڑک کو دوبارہ ہموار کیا جا رہا ہے۔ صرف پرانا چنیوٹ روڈ ایسا ہے جسے انتظامی غفلت نے کھنڈر میں بدل کر رکھ دیا ہے۔
گندا پانی سڑک پر جھیلوں کی شکل اختیار کر چکا ہے، کچی زمین دلدل بن چکی ہے، موٹر سائیکل ہو یا رکشہ – کسی کا گزرنا ممکن نہیں۔ عوام ایک سال سے تنگ گلیوں میں رُل رہے ہیں جبکہ ڈپٹی کمشنر، کمشنر اور پبلک ہیلتھ افسران مسلسل شکایات کے باوجود خاموش ہیں۔
عوام کی چیخ اب سوال بن چکی ہے:
کیا اس شہر کے غریب لوگ انسان نہیں؟
کیا پرانا چنیوٹ روڈ واقعی جھنگ کے نقشے سے نکال دیا گیا ہے؟
یہ خاموشی انتظامیہ کے کردار پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہےـ اور عوام کہہ رہے ہیں کہ یہ غفلت صرف دنیا میں نہیں، اگلے جہان میں بھی پوچھے جانے والی امانت ہے۔