*حق کی طرف واپسی اور وحدتِ امت: قرآن و سنت کی روشنی میں ایک مخلصانہ دعوت* بدھ، 04 نومبر 2026ء تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک، سرگودھا
*حق کی طرف واپسی اور وحدتِ امت: قرآن و سنت کی روشنی میں ایک مخلصانہ دعوت*
بدھ، 04 نومبر 2026ء
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک، سرگودھا
دینِ اسلام کی اصل حقیقت اور معیارِ حق:
دینِ اسلام کوئی فکری نظریات کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ خالصتاً وحیِ الٰہی کا نام ہے۔ رب العزت کی بندگی، صراطِ مستقیم اور نجات کا واحد اور حتمی معیار صرف اور صرف کتاب اللہ (قرآن مجید)، سنتِ نبوی اور آثارِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں۔ جب تک امت ان بنیادی سرچشموں سے جڑی رہی، سربلند رہی۔ آج کل جب کہ سلفِ صالحین کا وہ بابرکت دور تو پیچھے رہ گیا ہے اور میدان میں ہم جیسے خطاؤں کے پتلے اور عام لوگ موجود ہیں، ایسے میں امت کو جوڑنا اور فکری ہم آہنگی پیدا کرنا ایک انتہائی اہم اور نازک ذمہ داری بن چکا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا (النساء: 59)
ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحبِ امر ہیں، پھر اگر کسی معاملے میں تمہارے درمیان نزاع (اختلاف) ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو، اگر تم اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہو۔ یہی طریقہ بہتر اور انجام کے اعتبار سے سب سے اچھا ہے۔
ہر مکتبِ فکر کی اصلاح اور محاسبہ کی ضرورت:
آج زمینی حقیقت یہ ہے کہ تمام مکاتبِ فکر میں کم و بیش کچھ نہ کچھ فکری یا عملی کوتاہیاں اور غلو آمیز نظریات در آئے ہیں۔ کائنات میں کتاب اللہ اور سنتِ رسول کے علاوہ کوئی چیز بھی حرفِ آخر یا سو فیصد پرفیکٹ نہیں ہے۔ انسان خطا کا پتلا ہے، لیکن اصل کمال اور سعادت اس میں ہے کہ انسان اپنی غلطی پر اصرار کرنے کے بجائے حق کی طرف لوٹ آئے۔
کل قیامت کے دن جب ہم اللہ رب العزت کے حضور پیش ہوں گے، تب توبہ، رجوع اور تصحیحِ عقیدہ کا کوئی موقع نہیں ملے گا۔ اس لیے آج کا سب سے بڑا تقاضا یہ ہے کہ ہم تعصبات کی عینک اتار کر اپنے اپنے مکتبِ فکر کے دائرے میں بیٹھیں، اپنے عقائد و نظریات کا قرآن و سنت کی روشنی میں دیانتدارانہ محاسبہ کریں اور دیکھیں کہ کہاں کہاں کتاب و سنت سے انحراف یا غلو کی آمیزش ہو چکی ہے۔
اعلامیہ گولڑہ شریف اور دیگر مکاتبِ فکر کے لیے دعوتِ فکر:
اس تناظر میں بریلوی مکتبِ فکر کے سنجیدہ علماء اور اکابر کی طرف سے جو فکری لچک، اعتدال پسندی اور اصلاحی پیش رفت سامنے آئی ہے (جیسا کہ اعلامیہ گولڑہ شریف سے ظاہر ہے)، وہ انتہائی قابلِ تحسین اور روشن مثال ہے۔ غلو آمیز تصورات سے گریز، عقائد کی درست تشریح، صحابہ کرام اور اہل بیتِ عظام کے مابین احترامِ باہمی کی فضا کو عام کرنا، اور معاشرتی امن کو ترجیح دینا ایک جرأت مندانہ اور تاریخ ساز قدم ہے۔
یہی حوصلہ افزا رجحان اب دیگر تمام مکاتبِ فکر کو بھی اپنانا چاہیے۔ آج ایک خوبصورت فکری روٹین بنتی جا رہی ہے کہ سنجیدہ طبقے اچھائی اور اصل دین کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ ہر مسلک کے علماء اور دانشوروں کی یہ اخلاقی اور دینی ذمہ داری ہے کہ وہ محض اندھی تقلید یا گروہی انانیت کی بجائے کھلے دل سے اس بات کا اعتراف کریں کہ جہاں بھی کتاب و سنت کے منافی کوئی بات یا غلو پایا جاتا ہے، اس سے توبہ کی جائے اور رجوع الی الحق کا اعلان کیا جائے۔
دلوں کی نرمی اور اخوت کی اسلامی تعلیمات:
اس فکری رجوع اور اصلاح کے لیے سب سے پہلے دلوں کی تختی کو نفرتوں سے پاک کرنا اور دلوں کو نرم کرنا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمانِ عالیشان ہے:
أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ (الحديد: 16)
ترجمہ: کیا ایمان لانے والوں کے لیے اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر سے اور جو حق نازل ہوا ہے اس سے نرم ہو جائیں؟
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نرمی اور اخلاق کے حوالے سے ارشاد فرمایا، جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے:
إِنَّ الرِّفْقَ لَا يَكُونُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ، وَلَا يُنْزَعُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ (صحيح مسلم)
ترجمہ:
بے شک نرمی جس چیز میں بھی ہو اسے خوبصورت بنا دیتی ہے اور جس چیز سے بھی نکال لی جائے اسے عیب دار کر دیتی ہے۔
قرآن و سنت کی روشنی میں وحدت کا حتمی حکم
اللہ رب العزت نے امت کو باہمی اتحاد کی تلقین کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (النور: 31)
ترجمہ: اور اے مومنو! تم سب کے سب اللہ کے حضور توبہ کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔
اور دوسری جگہ ارشاد ہوا:
وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا (آل عمران: 103)
ترجمہ: اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور باہم متفرق نہ ہو۔
اور باہمی محبت و یگانہ کاری کے حوالے سے صحیح بخاری و مسلم کا یہ سنہری اصول ہمارے سامنے ہے:
مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى (صحيح بخاری و مسلم)
ترجمہ: آپس میں محبت کرنے، رحم کرنے اور شفقت کرنے میں مومنوں کی مثال ایک جسم کی طرح ہے کہ جب اس کا کوئی عضو تکلیف میں مبتلا ہو تو سارا جسم بے خوابی اور بخار میں اس کا ساتھ دیتا ہے۔
اختتام اور مخلصانہ پیغام
آج وقت آ گیا ہے کہ تمام مکاتبِ فکر اپنی ذاتی یا گروہی انانیت کو پسِ پشت ڈال کر صرف اور صرف کتاب اللہ اور سنتِ رسول کی چھتری تلے جمع ہو جائیں۔ ماضی کی تلخیوں کو دفن کر کے ایک دوسرے کے عذر کو سمجھنا اور اعتدال کا راستہ اختیار کرنا ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو اس امت کو دنیا اور آخرت میں کامیابی دلوا سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ تمام مکاتبِ فکر کے اکابر اور عوام کو یہ توفیق عطا فرمائے کہ وہ بروقت اپنی اصلاح کر لیں قبل اس کے کہ وہ وقت آئے جہاں ندامت کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے۔
الدعاء:
رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالإِيمَانِ وَلا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلاًّ لِّلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَؤُوفٌ رَّحِيمٌ۔
ترجمہ: اے ہمارے پروردگار! ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے، اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے خلاف کوئی کینہ نہ رکھ، اے ہمارے رب! بے شک تو بڑا شفیق اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔
اے اللہ! ہماری اس مخلصانہ سعی کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرما، امتِ مسلمہ کو تمام مکاتبِ فکر کے اندر موجود فکری غلو اور باہمی نفرتوں سے نجات عطا فرما، ہمارے دلوں کو قرآن و سنت کے نور سے منور کر دے اور ہمیں صراطِ مستقیم پر متحد فرما۔
آمین یا رب العالمین۔
داعیِ حق و اتحاد:
انجینیئر نذیر ملک، سرگودھا
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 00923008604333