یورپی قوانین قومیت کی بنیاد پر کسی بھی قسم کے براہ راست یا بالواسطہ امتیاز کی اجازت نہیں دیتے۔یورپی کمیشن
یورپی قوانین قومیت کی بنیاد پر کسی بھی قسم کے براہ راست یا بالواسطہ امتیاز کی اجازت نہیں دیتے۔یورپی کمیشن
یورپی کمیشن اس معاملے پر گہری نظر رکھے گا، خصوصا اس لیے کہ اس قانون کو ابھی اطالوی پارلیمنٹ سے حتمی منظوری ملنا باقی ہے۔نائب صدر یورپی کمیشن روکسانا منزاتو
سیسلی(انٹرنیشنل ڈیسک)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق یورپی کمیشن نے اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی کی حکومت کو اسکولوں میں غیر ملکی طلبہ کی تعداد 30 فیصد تک محدود کرنے کے فیصلے پر باضابطہ طور پر خبردار کیا ہے۔ برسلز نے اس قانون کے یورپی یونین کے معاہدوں سے مطابقت رکھنے پر سوالات اٹھاتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یورپی قوانین قومیت کی بنیاد پر کسی بھی قسم کے براہِ راست یا بالواسطہ امتیاز کی اجازت نہیں دیتے۔ یہ تنازع اس حکومتی حکم نامے کے بعد سامنے آیا ہے جو یکم اکتوبر سے نافذ العمل ہے اور جس کے تحت اطالوی اسکولوں کی پہلی جماعتوں میں ایسے غیر ملکی بچوں کی تعداد 30 فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے جو اٹلی میں پیدا نہیں ہوئے یا جنہوں نے مقررہ مدت تک اطالوی اسکولوں میں تعلیم حاصل نہیں کی۔ یورپی کمیشن کی نائب صدر روکسانا منزاتو نے کہا ہے کہ کمیشن اس معاملے پر گہری نظر رکھے گا، خصوصاً اس لیے کہ اس قانون کو ابھی اطالوی پارلیمنٹ سے حتمی منظوری ملنا باقی ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم میلونی کی حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام کا مقصد غیر ملکی بچوں کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ ان کی بہتر تعلیمی اور لسانی انضمام میں مدد کرنا ہے، کیونکہ بعض اسکولوں میں ایسے بچوں کی تعداد زیادہ ہے جو ابھی اطالوی زبان سے پوری طرح واقف نہیں، جس کی وجہ سے تدریسی عمل متاثر ہوتا ہے۔ وزیر تعلیم جوزیپے والدیتارا نے یورپی کمیشن کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ حکومت اپنے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ ان کے مطابق یہ قانون امتیازی نہیں بلکہ ان بچوں کی مدد کے لیے ہے جنہیں اطالوی زبان سیکھنے میں اضافی تعاون کی ضرورت ہے۔ دوسری طرف ڈیموکریٹک پارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے اس اقدام کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کی قومیت کی بنیاد پر تعلیمی کلاسوں میں حد مقرر کرنے کے بجائے حکومت کو اطالوی زبان سکھانے کے لیے مزید اساتذہ، ثقافتی ثالث اور بہتر تعلیمی سہولیات فراہم کرنی چاہئیں۔اس قانون میں اسکولوں کے اندر برقع اور نقاب پہننے پر پابندی اور غیر ملکی بچوں کے والدین کے لیے اطالوی زبان کے کورسز کی شقیں بھی شامل ہیں۔ اب اس معاملے پر اٹلی اور یورپی یونین کے درمیان اختلافات مزید بڑھنے کا امکان ہے، جبکہ حتمی قانونی صورت حال کا انحصار اطالوی پارلیمنٹ کی منظوری اور یورپی قوانین کے ساتھ اس قانون کی مطابقت پر ہوگا۔