40

’’تیل کا تماشا – قیمتیں، کھیل اور عالمی سازشوں کا بوجھ‘‘

’’تیل کا تماشا – قیمتیں، کھیل اور عالمی سازشوں کا بوجھ‘‘

دنیا بھر کی سیاست اگر ایک لمحے کو خاموش بھی ہو جائے تو بھی تیل کا بازار کبھی خاموش نہیں رہتا۔ ہر خبر، ہر بیان، ہر معاہدہ… عالمی معیشت کے دل کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ پاکستان جیسا ملک، جس کی سانس پٹرول، ڈیزل اور درآمدی توانائی کے نازک تاروں سے بندھی ہوئی ہے، اس کھیل کا نہ کھلاڑی ہے نہ مالک… صرف تماشائی ہے، اور وہ بھی پہلی قطار میں نہیں— کہیں دور پیچھے، دھول میں بیٹھا ہوا۔

گزشتہ چند ہفتوں میں عالمی منڈی میں برینٹ آئل کی قیمتوں میں اچانک اتار چڑھاؤ، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، اور خلیجی ریاستوں کا پٹرولیم اسٹرکچر دوبارہ ترتیب دینا ایسے عوامل تھے جنہوں نے پاکستان کی معیشت پر ایک بار پھر دباؤ ڈال دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں عوام کی نظریں ہمیشہ وزیرِ خزانہ اور اوگرا پر ہوتی ہیں، لیکن اصل کھیل کہیں اور کھیلا جاتا ہے— لندن کے اسٹاک فلور سے لے کر متحدہ عرب امارات کے پٹرولیم بورڈ روم تک۔

یہ حقیقت اپنی جگہ مضبوط ہے کہ عالمی منڈی میں ہر پانچ ڈالر کا اضافہ، پاکستان کے معاشی ڈھانچے کو کم از کم پچاس ارب روپے کا جھٹکا دیتا ہے۔ ڈالر کے نرخ الگ سے ملک کے ہاتھ مروڑتے ہیں۔ پاکستان جب بھی درآمدی بل بڑھاتا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر چیخنے لگتے ہیں اور حکومت کے پاس عوامی بوجھ بڑھانے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔

ایسا نہیں کہ پاکستان کے پاس اپنی توانائی کے راستے نہیں تھے۔ تھر کول سے لے کر گیس کے ذخائر تک، سب پر سیاست اور مصلحتوں نے دھ dust جمائی ہوئی ہے۔ ہم نے تیل کے بحرانوں کو جھیلنے کے بجائے اپنی توانائی کی آزادی کو گروی رکھ چھوڑا۔ نتیجہ؟ عالمی مارکیٹ میں ہونے والی ہر چھینک یہاں بخار کی صورت اترتی ہے۔

یو اے ای میں قیمتوں میں ماہانہ بنیادوں پر ردوبدل کا نیا شیڈول پاکستان پر بھی نفسیاتی اثر ڈالتا ہے۔ سرمایہ کار محتاط ہو جاتے ہیں، تاجر اشیا کے نرخ بڑھا دیتے ہیں، اور عوام ایک بار پھر پیٹرول پمپ پر قطار میں کھڑے ہو کر سوچتے ہیں کہ اخراجات کا اگلا طوفان کتنے دنوں کی دوری پر ہے۔ عالمی منظرنامے میں سعودی عرب کے تیل کی پیداوار کم کرنے کے فیصلے نے قیمتوں کو سہارا دیا ہے، جبکہ روسی تیل پر پابندیوں نے مارکیٹ کو مزید غیر یقینی بنایا ہوا ہے۔ ایسے میں پاکستان کا پٹرولیم بل ہمیشہ ایک ٹائم بم کی طرح چلتا رہتا ہے۔

آج کا بڑا سوال یہ ہے کہ پاکستان کب تک درآمدی توانائی پر گزارا کرے گا؟ دنیا قابلِ تجدید توانائی کی طرف دوڑ رہی ہے، جبکہ ہم اب بھی تیل کے نرخوں کے رحم و کرم پر ہیں۔ حکومتیں بدلتی ہیں، پالیسیاں بدلتی ہیں، لیکن توانائی کا بحران وہیں کا وہیں کھڑا ہے۔

پاکستان کو پٹرولیم ریفارمز کی فوری ضرورت ہے— ایسی اصلاحات جو شفاف بھی ہوں، پائیدار بھی، اور عوام پر بوجھ کم کرنے والی بھی۔ مگر افسوس کہ یہاں ہر ریفارم سے پہلے سیاسی ریفارم کا بوجھ آ جاتا ہے۔ اور سیاست میں تیل سے زیادہ دھواں ہے، روشنی کم۔

عالمی ماہرین کی رائے ہے کہ جنوبی ایشیا کے ممالک جتنی دیر درآمدی ایندھن پر انحصار کریں گے، معاشی آزادی کبھی حاصل نہیں کر سکیں گے۔ بھارت نے شمسی توانائی میں انقلاب برپا کر دیا، بنگلہ دیش نے ایل این جی کے طویل المدتی معاہدے کیے، سری لنکا نے بحران کے بعد اپنی توانائی میپ دوبارہ ترتیب دیا— جبکہ پاکستان آج بھی ’’اگلے پندرہ دن پیٹرول سستا ہو جائے گا‘‘ کی امید پر عوام کو تسلیاں دیتا ہے۔

حقیقت تلخ مگر اٹل ہے:
پاکستان کی معیشت اب پٹرول پر نہیں چلتی— پٹرول کی قیمت پر چلتی ہے۔

جب تک توانائی کے متبادل راستے تلاش نہیں کیے جاتے، ہم ہر عالمی بحران کا پہلا شکار بنتے رہیں گے۔ تیل کے اس تماشے میں ہمارا کردار صرف اتنا رہ گیا ہے کہ قیمتوں کا اگلا وار کب آئے گا… اور کتنی بار آئے گا۔

اور شاید یہی ہمارے وقت کا سب سے بڑا المیہ ہے۔

@@@@@@@@@@@@

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں