*دل بھر آتا ھے آنسو بہتے ہیں سندھ اور کراچی کو دیکھ کر ۔۔۔!!*
سندھ بشمول کراچی کی عوام سندھ حکومت کے ہاتھوں 18 ویں ترمیم کے بعد انتہائی بری طرح پھنس کر رہ گئی ھے، زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم خاص کر کراچی میں پانی ناپید لیکن کاروباری سطح پر منافع بخش، گیس نا پید لیکن کاروباری سطح پر منافع بخش، اسی طرح بجلی بھی ناپید لیکن کاروباری سطح پر منافع بخش۔ کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کے روز مرہ کے نرخ نامے بےتوقیر، بے وقعت اور بےحیثیت بن چکے ہیں۔ اشیاء خوردنوش ہوں یا سبزی فروٹ یا پھر گوشت ہوں یا دودھ، دیہی، انڈے و دیگر سامان انتہائی مہنگے، خودساختہ نرخ پر فروخت کئے جارھے ہیں یہی نہیں بلکہ کراچی میں لگنے والےبچت بازار پیر بازار سے اتوار بازار ہر بازار میں بھی کمشنرز کے نرخ سجائے تو جاتے ہیں مگر ان نرخوں کے تحت فروخت نہیں کئے جاتے ہیں۔ علاقائی تھانے ہوں یا یونین کونسل و یونٹ بلدیہ ان سب نے بھی بھتے باندھے ہوئے ہیں۔ کرپشن، رشوت، بدعنوانی اور لاقانونیت کا راج سندھ بھر اور کراچی بھر میں ھے۔ قانون خود اپنے ضمیر کا سودا کرتا یہاں نظر آتا ھے۔ ایسی ریاست کو کیا کہیں گے؟؟ جہاں ڈاکو، رہزن اور قاتل آزاد گھومتے ہوں۔ جہاں عدل و انصاف خود اپنے لئے انصاف طلب کرتا دکھائی دیتا ھو۔ یہ ھے سندھ وہ بھی پیپلز پارٹی کی حکومت کی جہاں ہر شعبہ، ہر ادارہ، ہر محکمہ، ہر وازرت پر مکمل کنٹرول ھے لیکن نتیجہ صفر، گول، بدنما، داغدار اور بدترین نظام ہی نظر آتا ھے۔ ہر سو منشیات، بےراہ روی اور بدکاری کا راج۔ گٹر ہوں یا ٹرالر یا پھر ہوائی فائرنگ سے اموات گویا روزانہ کا ایک فیشن و مشغلہ ہی بن گیا ھو۔ دندھ حکومت میڈیا چینلز پر خودنمائی جھوٹ اور دھوکہ دہی کے ذریعے مصنوعی شہرت اور واہ واہ دکھانے کی ناکام کوشش کرتی چلی آرھی ھے۔ کون سدھارے گا ؟؟ کون سنوارے گا ؟؟ اور کون سنبھالے گا ؟؟ یہی سندھ اور کراچی کی عوام سوچ رہی ھے، دیکھ رہی ھے، اور سمجھ رہی ھے کہ اب مسیحا کون آئیگا اور اس مافیاء کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گا۔ افسوس تو یہ بھی ھے کہ سندھ کی دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی اپنا حصہ مقرر کیا ھوا ھے ورنہ سندھ حکومت یہ سب کچھ لوٹ مار کرپشن بدعنوانی اور بدترین قومی خذانے کو نہ نوچ سکتی تھی قصوار وار اور مجرم صرف پیپلز پارٹی ہی نہیں اور دیگر بھی ھے۔ وقت اور حالات نے صاف واضع کردیا ھے کہ آزمائے کو دوبارہ آزمانا بیوقوفی اور بے شعوری ھے بہتر ھے نظام کو ہی بدل ڈالیں قابلیت ذہانت اہلیت کو موقع دیں اور انصاف و عدل کو کرپشن سے مکمل پاک کردیں خاص کر قانونی اداروں کو کیونکہ یہی ادارے برائی کی جڑ اور بنیاد ہوتے ہیں۔ جب کیس ہی شفاف انصاف پر مبنی بنے گا تو مجرم لازماً سزا پائے گا جب کیس ہی کمزور بنتے رہیں گے تو مجرم یونہی آزاد گھومتے رہیں گے مکمل نظام کی تبدیلی ناگزیر ھوچکی ھے۔ جاوید صدیقی جرنلسٹ و کالمکار کراچی
عمرکوٹ: نیلم کماری نے ستسنگ میں میگھواڑ برادری کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے
*وزیراعظم ہانگژو پروگرام کے بعد بیجنگ پہنچ گئے، چینی صدر سے ملاقات کرینگے*
یومِ عرفہ کے روزے کی عظیم فضیلت:
چمن پھاٹک کے قریب بم دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ارباب اورنگزیب خان کاسی
میرپورخاص (شاھدمیمن) میرواہ گورچانی کے قریب گوٹھ حاجی میرخان گورچانی کے رہائشی 14 سالہ