عمرکوٹ سے سوشل میڈیا اسٹار بننے تک کا سفر: کیلاش ملانی کی کہانی
تحریر: ((ڈاکٹر ایم لال واگھانی))
عمرکوٹ کی شدید گرمی اور تپتی دھوپ میں جہاں زندگی کی دوڑ تھم سی جاتی ہے، وہاں ایک چھوٹی سی کریانہ اسٹور کے اندر قہقہوں کی گونج سنائی دیتی ہے۔ یہ دکان صرف راشن کی جگہ نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنے کا مرکز بن چکی ہے۔ اس مرکز کے پیچھے موجود ہے کیلاش ملانی، جسے دنیا اب سوشل میڈیا کے مقبول ستارے @kksmm کے نام سے جانتی ہے۔
عام زندگی، خاص انداز
27 سالہ کیلاش ملانی کی کہانی کسی فلمی اسکرپٹ سے کم نہیں۔ ایک ہاتھ میں چینی کا ترازو اور دوسرے میں موبائل فون تھامے، کیلاش نے ثابت کر دیا کہ ٹیلنٹ کسی مہنگے اسٹوڈیو کا محتاج نہیں ہوتا۔ وہ اپنی دکان پر آنے والے گاہکوں کے ساتھ روزمرہ کی نوک جھونک، مہنگائی پر طنز اور سادہ دیہاتی زندگی کو اس خوبصورتی سے ویڈیو کی شکل دیتے ہیں کہ دیکھنے والا دنگ رہ جاتا ہے۔
@kksmm: لاکھوں دلوں کی دھڑکن
کیلاش کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ @kksmm پر اس وقت 3 لاکھ سے زائد فالورز اور لاکھوں کی تعداد میں لائکس موجود ہیں۔ ان کی ویڈیوز کی خاص بات ان کی سادگی اور مقامی زبانوں (سندھی، اردو اور دھاتکی) کا استعمال ہے۔”جب لوگ اپنی زبان میں اپنی ہی کہانی سنتے ہیں، تو وہ اس سے دل سے جڑ جاتے ہیں،” کیلاش کا کہنا ہے۔
ڈیجیٹل تخلیق کار کے چیلنجز
کامیابی کے اس سفر میں جہاں کیلاش کو بے پناہ شہرت ملی، وہیں وہ پاکستان میں ڈیجیٹل تخلیق کاروں کے لیے “مونیٹائزیشن” (آمدنی کے ذرائع) کی کمی پر بھی آواز اٹھاتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر حکومت اور پلیٹ فارمز تعاون کریں تو ان جیسے ہزاروں نوجوان ملک کی ڈیجیٹل معیشت میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ایک پیغام نوجوانوں کے نام
کیلاش ملانی کا سفر ایک جھونپڑی سے شروع ہوا، لیکن ان کے خواب بڑے تھے۔ وہ آج کے نوجوانوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ:
“شارٹ کٹ کے پیچھے نہ بھاگیں، بلکہ اصلیت اور معیار پر توجہ دیں۔ وہ کام کریں جو سیدھا لوگوں کے دلوں میں اتر جائے۔”
آج عمرکوٹ کی گلیوں میں جب بچے اور بڑے کیلاش کے ساتھ سیلفی لینے کے لیے رکتے ہیں، تو یہ اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔