October 6, 2026

کتنا نازک بدن ہے انساں تو تحریر. ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور

Screenshot_2025-11-23_184234

کتنا نازک بدن ہے انساں تو
تحریر. ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
کبھی کبھی سوچ کی عمیق گہرائیوں میں غوطے کھاتے کھاتے, درد کے ہنڈولے میں جھولے جھولتے جھولتے، خیالوں کی دنیا سے ناتا جوڑنے کے باوجود بھی ہم دھیان کی سیڑھوں پہ توجہ دینے سے خواہ مخواہ ہی انکاری ہو جاتے ہیں، وہ کیا ہے نا کہ کچھ چیزیں ہمارے بس میں ہوتے ہوے بھی ہمارے بس میں نہیں ہوتیں اور ہم اپنی بشری کمزوریوں کو دامن دل میں سمیٹنے کے علاوہ اور کچھ کر بھی نہیں سکتے ناں، ہاں یہ حقیقت بھی بڑی زور آور ہے کہ جب تک ہم جوان اور صحت مند ہوتے ہیں، ہمیں لگتا ہے کہ ہم مقدر کے سکندر ہیں،لیکن غور فرمائیے گا ہمارا جسم کتنا نازک ہے کہ معمولی سی گرمی اور سردی نہیں سہہ سکتا، جیسے اونٹ،برفانی ریچھ، بچھواور قطبی جانور شدت پسند موسموں سے بے پروا ہو کے،اپنی زندگی گزار دیتے ہیں مگر انسان کے دماغ میں فٹ Hypothalamus, انسانی جسم کا وہ الارم ہے جو انسانی جسم کو ہر حال میں 37 ڈگری سینٹی گریڈ تک رکھنے کی ہر ممکن کوشش میں مصروف کار رہتا ہے، اب آپ پوچھیں گے کہ یہ سینتس درجے سینٹی گریڈ درجہ حرارت کیا کوئی انتہائی ضروری حد ہے تو اس کا جواب ہے کہ بالکل ایسا ہی ہے اس درجہ حرارت پر انسان کے جسم کے خلیے صحت مند اور توانا رہتے ہیں پھلتے پھولتے ہیں بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں، اچھا اور مثبت سوچتے ہیں اور چند روزہ زندگی کو مثبت طریقے سے گزارنے کی تگ و دو میں ایک نیے حوصلے اور ہمت سے شامل ہو جاتے ہیں، تو جونہی موسم گرم ہونا شروع ہوتا ہے تو جسم کا تھرمو سٹیٹ، جسم کے درجہ حرارت کو مناسب حد میں رکھنے کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات کرتا ہے.
پسینہ، پسینے سے جسم پہ پانی بخارات کی شکل میں جمع ہو کے اڑتا ہے جس سے جسم کا درجہ حرارت کم ہوتا ہے اور ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے.
شدید گرمی میںجلد میں موجود خون کی نالیاں پھیل جاتی ہیں (vasodilatio)، جس سے گرم خون، خون کی ان dilated vessels میں آ کر جلد سے گرمی کوradiation, convectionاevaporaition nکے ذریعے نکال باہر کرتا ہے اور جسم کو ٹھنڈک کا احساس، گرمی سے بچانے میں معاون ثابت ہوتا ہے.ان سب کے ساتھ ساتھ ہایپو تھیلمس دماغ کے Thirst centre کو اشارہ بھیجتا ہے، پیاس لگتی ہے، انسان زیادہ پانی پی کے اپنی گرمی کو قابو کرنے کی کوشش کرتا ہے، اسی طرح شدید سردی میں پورے جسم پہ کپکپکی طاری ہو جاتی ہے، جس سے جلد کی خون کی نالیاںسکڑ جاتی ہیں، vasoconstrion، اس میکانزم سے جسم کا گرم خون، جسم کے اندر رہ کر ہی جسم کو گرم رکھتا ہے، ساتھ میں ہایپو تھیلمس سے بھوک کے اشارے، انسانی بھوک میں اضافے کا باعث بن کر انسانی جسم کی طاقت و توانائی میں اضافے کا باعث بن جاتے ہیں، یہ تمام عوامل انسانی جسم سے زیادہ انسانی روح اور رویوں کی شادابی کے لیے ضروری ہیں، کبھی کسی ٹھنڈ سے ٹھٹھرتے ہوے، یا گرمی کی شدت میں پسینے سے شرابور انسان اور بھوکے پیٹ کی گرہوں میں الجھے ہوے انسان کو آپ نے حالت امن میں دیکھا ہے؟؟؟
نہیں ناں تو انسانی جسم اور روح کو پہلے سکون چاہیے بعد میں کچھ اور، موسموں کی شدت سے محفوظ رہنے کے لیے لباس کا وجود آنا، پھر گرمی اور سردی کے الگ الگ ملبوسات پہناوے، بہتر سے بہتر اور مہنگے سے مہنگے،ملبوسات، اچھے سے اچھے اعلیٰ تعمیر و ترقی کے شاہکار گھروندے، گرمیوں میں گرمی کی شدت سے بچنے کے لیے تھنڈے میٹھے مشروبات اور سردیوں کی یخ بستہ راتوں میں جسم کو توانائی اور گرماہٹ پہنچانے کے لیے قہوے، چاے، کافی کی چسکیوں کے ساتھ ساتھ ڈرای فروٹ کے ششکے تو ہیں سو ہیں، حلوہ جات اور پنجیریاں اس ٹھنڈ رت کو بہت زیادہ لطف آمیز بنا دیتی ہیں مگر سو باتوں کی ایک ہی بات کہ انسانی جسم کی اتنی حفاظت کا ذمہ اللہ پاک نے انسانی دماغ کے ذریعے کیوں اٹھایا، اس لیے کہ انسان کی روح بڑی مضبوط، بڑی توانا، بڑی سوز و زیاں والی اور بڑی پر احساس ہے، سو باتوں کی ایک بات انسانی بھوک اور انسانی جسم کی کمزوری جو اسے موسموں کے تغیر کی وجہ سے برداشت کرنی پڑتی ہے اس کے حل کے لیے نہ صرف اپنے گرم، سرد پہناوے غریب غربا میں بانٹ دیا کیجیے، بلکہ انھیں سردیوں میں گرم کپڑے اور گرم بستر بھی دیجیے، تاکہ ان کا سکون دعاوں کی شکل میں آپ کا سکون بن جاے.
کتنا نازک بدن ہے انساں تو
گرمی سردی دونوں عذاب ہوے
جینے والوں کو پڑ گیے لالے
بھوک سے لوگ پریشان ہوے
سردی، گرمی سے برے حال ہوے
ایسے میں اتنا کیجیے گا حضور
بھوکے کو کھانا کھلا دینا اور
ٹھنڈ سے سب کو بچانا صاحب
کتنا نازک بدن ہے انساں تو
اور ہے سوچ ہمالے جیسی
کسی پاگل سی دیوانے جیسی
پونم نورین گوندل لاہور
Punnam.naureenl@icloud.com