(17 سے 29 نومبر تک منعقد ہونے والی قومی ویکسی نیشن مہم کے حوالے سے)
“بچوں کو خسرہ اور روبیلا سے بچاؤ کے ٹیکے ضرور لگوائیں”
تحریر: اعجاز علی تیونو / نواب شاہ
ملک کے دیگر صوبوں کی طرح سندھ میں بھی بچوں کو خسرہ (Measles) اور روبیلا (Rubella) سے بچاؤ کے ٹیکے لگانے کی قومی ویکسی نیشن مہم 17 نومبر سے شروع ہو رہی ہے جو 29 نومبر تک جاری رہے گی۔ 12 روزہ اس مہم کے دوران عالمی ادارہ صحت (WHO) اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے ملک بھر میں 3 کروڑ 51 لاکھ سے زائد 6 ماہ سے 5 سال تک کی عمر کے بچوں کو خسرہ اور روبیلا سے بچاؤ کے ٹیکے لگائے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے ایک لاکھ 41 ہزار ہیلتھ ورکرز کو خصوصی تربیت دی گئی ہے تاکہ وہ بچوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر طریقے سے ویکسین لگا سکیں۔
خسرہ ایک خطرناک بیماری ہے جو بخار، جلد پر سرخ دھبوں، آنکھوں کے انفیکشن اور نزلے کا باعث بنتی ہے۔ اس کی شدت کی وجہ سے بعض اوقات بچوں کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ خسرہ غذائی کمی، شدید دست، نمونیا، ذہنی کمزوری، اور بینائی و سماعت پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔اسی طرح روبیلا بھی ایک خطرناک بیماری ہے جو کم عمر بچوں میں عام طور پر ہلکی بیماری کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ اس کی علامات میں ہلکا بخار، گلے میں درد اور جسم پر دھبے شامل ہیں جو چہرے سے شروع ہو کر پورے جسم پر پھیل جاتے ہیں۔ بڑے بچوں اور بالغوں میں عموماً دھبوں سے پہلے سر درد، آنکھوں کی سوجن اور تھکن جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ اگر حاملہ خواتین اس بیماری کا شکار ہو جائیں تو یہ وائرس ماں کے پیٹ میں موجود بچے کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ حمل کے ابتدائی 8 سے 10 ہفتوں میں روبیلا سے متاثر ہونے کی صورت میں بچے میں پیدائشی پیچیدگیاں یا حمل ضائع ہونے کا خطرہ 90 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔دنیا کے کئی ممالک سمیت پاکستان میں بھی خسرہ اور روبیلا ایک سنگین عوامی مسئلہ ہیں۔ سال 2020 میں فی 10 لاکھ آبادی پر خسرہ کے 12 کیس رپورٹ ہوئے، جو 2021 میں بڑھ کر 32 کیس فی 10 لاکھ تک جا پہنچے، جب کہ رواں سال اب تک ملک بھر میں خسرہ کے 16 ہزار سے زائد کیس رپورٹ ہو چکے ہیں۔ 2020 میں روبیلا کے تقریباً 7,923 مشتبہ کیس سامنے آئے تھے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر کسی شخص کا مدافعتی نظام کمزور ہو تو متاثرہ فرد کے قریب آنے سے 90 فیصد تک لوگ اس وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔خسرہ اور روبیلا سے بچاؤ کی ایم آر (MR) ویکسین مکمل طور پر محفوظ اور مؤثر ہے۔ یہ ویکسین حکومتِ پاکستان اور عالمی ادارہ صحت سے منظور شدہ ہے۔ اگر بچوں کو یہ ویکسین نہ لگائی جائے تو وہ ان خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔
سندھ میں 17 نومبر سے شروع ہونے والی اس مہم کے سلسلے میں صوبائی وزیرِ صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کی خصوصی ہدایات پر صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے آگاہی سیمینارز، تقریبات اور ریلیوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے تاکہ عوام کو بچوں کی ویکسینیشن کی اہمیت سے آگاہ کیا جا سکے۔والدین سے اپیل ہے کہ وہ اس مہم کے بارے میں سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی منفی خبروں اور جھوٹی معلومات پر توجہ نہ دیں۔ حکومت کی جانب سے شروع کی گئی اس مفت ویکسی نیشن مہم سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور اپنے 6 ماہ سے 5 سال تک کی عمر کے بچوں کو قریبی صحت مرکز، اسکول، مدرسے یا ویکسی نیشن کیمپ میں لے جا کر خسرہ اور روبیلا سے بچاؤ کے ٹیکے لازمی لگوائیں تاکہ ہمارے معصوم بچے اور مستقبل کے معمار ان خطرناک اور متعدی بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔
(ختم شد)